Anweisungen Hadhrat Khalifatul Masih V (aba) aus den Freitagsansprachen

 زرّیں نصائح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برائے والدین و  واقفین نو (از خطبات جمعہ)

……….آج اس مسیح موعودؑ کو ماننے والی ماؤں اور باپوں نے خلیفۂ وقت کی تحریک پر انبیاءاور ابرار کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے مسیح موعودؑ کی فوج میں داخل کرنے کے لئے اپنے بچوں کو پیدائش سے پہلے پیش کیا اور کرتے چلے جارہے ہیں۔اس بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں کہ جیسے حضرت مریم ؑ کی والدہ نے یہ التجا کی خداسے رَبِّ اِنِّی ْ نَـذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَـطْنِیْ مُـحَرَّ رًا فَـتَـقَبـَّلْ مِنِّیْ ج اِنَّکَ اَنْـتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْـمُ کہ اے میرے ر بّ! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کررہی ہوں۔مجھے نہیں پتہ کیا چیز ہے ۔لڑکی ہے کہ لڑکا ہے ۔ا چھا ہے یا بُراہے ۔مگر جو کچھ ہے مَیں تمہیں دے رہی ہوں۔ فَـتَـقَبـَّلْ مِنِّیْ مجھ سے قبول فرما۔ اِنَّکَ اَنْـتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْـمُ توبہت ہی سننے والا اور جاننے والاہے۔ یہ دعا خداتعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں آئند ہ نسلوں کے لئے محفوظ کرلیا۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اوردوسرے انبیاءکی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق، یہ ساری قرآن کریم میں محفوظ ہیں ۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر آئے گا اوربعض جگہ نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا مُـحَرَّرًا اے خدا ! میں تیری پناہ میں اس بچے کووقف کرتی ہوں ۔لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا! جونعمت تونے مجھے دی ہے ،وہ میری اولاد کوبھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما….پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چلّہ کشی کی تھی وہ بھی اسی مضمون کے تحت آتی ہے۔آپ چالیس دن یہ گریہ وزاری کرتے رہے دن رات کہ اے خدا! مجھے اولاد دے اوروہ دے جوتیری غلام ہوجائے،میری طرف سے ایک تحفہ ہوتیرے حضور۔ تویہ ہے سنّتِ انبیاء،سنّتِ ابرار۔اوراس زمانہ میں اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ ہے احمدی ماؤں اور باپوں کا عمل ،خوبصورت عمل، جواپنے بچوں کوقربان کرنے کے لئے پیش کررہے ہیں، جہاد میں حصّہ لے رہے ہیں لیکن علمی اورقلمی جہاد میں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فوج میں داخل ہوکر۔ اوران شاءاللہ تعالیٰ یہی لوگ فتح یاب ہوں گے جن میں خلافت اورنظام قائم ہے۔ اسکے علاوہ اور کوئی دوسرا طریق کامیاب ہونے والا نہیں ۔جس طرح دکھاوے کی نمازوں میں ہلاکت ہے اسی طرح اس دکھاوے کے جہادمیں بھی سوائے ہلاکت کے اور کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن جن ماؤں اورجن باپوں نے قربانی سے سرشارہوکر ،اس جذبہ سے سرشار ہوکر ،اپنے بچوں کوخدمتِ اسلام کے لئے پیش کیا ہے ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ کچھ عرصہ بھی اگر توجہ نہ دلائی جائے تو بعض دفعہ والدین اپنی ذمہ داریوں کوبھول جاتے ہیں اس لئے گوکہ شعبہ وقفِ نو تو جہ دلاتارہتا ہے لیکن پھر بھی مَیں نے محسوس کیا کہ کچھ اس بارہ میں عرض کیا جائے ۔ اس ضمن میں ایک اہم بات جو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ کے الفاظ میں مَیں پیش کرتاہوں۔ فرمایا:-

’’اگر ہم اِن واقفینِ نو کی پرورش اور تربیت سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔ اور پھر ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اتفا قاً یہ واقعات ہوگئے ہیں۔ اس لئے والدین کوچاہیے کہ اِن بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہر ی نظر رکھیں اوراگر خدانخوستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اورتقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرناچاہیے کہ مَیں نے تواپنی صاف نیّت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اِس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں۔ اگر اِن کے باوجود جماعت اس کے لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں ورنہ اس وقف کو منسوخ کردیاجائے۔‘‘

والدین نے تو اپنے بچوں کو قربانی کے لئے پیش کردیا۔جماعت نے ان کی صحیح تربیت اوراٹھان کے لئے پروگرام بھی بنائے ہیں لیکن بچہ نظامِ جماعت کی تربیت میں تو ہفتہ میں چند گھنٹے ہی رہتاہے۔ ان چند گھنٹوں میں اس کی تربیت کا حق ادا تونہیں ہوسکتا اس لئے یہ بہر حال ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تربیت پر توجہ دیں ۔اوراس کے ساتھ پیدائش سے پہلے جس خلوص اوردعا کے ساتھ بچے کو پیش کیاتھا اس دعا کا سلسلہ مستقلاً جاری رکھیں یہاں تک کہ بچہ ایک مفید وجود بن کر نظامِ جماعت میں سمویاجائے۔بلکہ اس کے بعد بھی زندگی کی آخری سانس تک ان کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ بگڑتے پتہ نہیں لگتا ۔اس لئے ہمیشہ انجام بخیر کی اوراس وقف کو آخر تک نبھانے کی طرف والدین کوبھی دعا کرتے رہنا چاہیے ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

چند باتیں جو تربیت کے لئے ضروری ہیں اب مَیں آگے واقفینِ نو بچوں کی تربیت کے لئے جووالدین کوکرنا چاہیے اوریہ ضروری ہے پیش کرتاہوں۔اس میں سب سے اہم بات وفا کامعاملہ ہے جس کے بغیر کوئی قربانی ،قربانی نہیں کہلاسکتی ۔ اس بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے الفاظ میں چند باتیں کہوں گا۔ آپ نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

’’ واقفین بچوں کو وفا سکھائیں۔ وقفِ زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے۔ وہ واقفِ زندگی جو وفا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف کے ساتھ نہیں چمٹتا وہ جب الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اس کو سزا دے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غدّاری کا داغ لگا لیتا ہے اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔ اس لئے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اپنے بچوں کو وقف کرنے کا، یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے نتیجہ میں یا تو یہ بچے عظیم اولیاءبنیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گے اور ان کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہے۔ جتنی بلندی ہو اتنا ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی تو بڑھ جایا کرتا ہے۔ اس لئے بہت احتیاط سے ان کی تربیت کریں اور ان کو وفا کے سبق دیں اور بار بار دیں۔۔۔ بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور ان کو عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالاکیوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ان شوخیوں کی تیزی خود ان کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔ واقفین بچوں کو یہ سمجھائیں کہ خدا کے ساتھ ایک عہد ہے جو ہم نے تو بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن اگر تم اس بات کے متحمل نہیں ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ ایک گیٹ اور بھی آئے گا جب یہ بچے بلوغت کے قریب پہنچ رہے ہوں گے۔ اسوقت دوبارہ جماعت ان سے پوچھے گی کہ وقف میں رہنا چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔۔۔۔ وقف وہی ہے جس پر آدمی وفا کے ساتھ تادمِ آخر قائم رہتا ہے۔ ہر قسم کے زخموں کے باوجود انسان گھسٹتا ہوا بھی اسی راہ پر بڑھتا ہے۔ واپس نہیں مڑا کرتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

….اس کے علاوہ ایک اوراہم بات اوریہ بھی میرے نزدیک انتہائی اہم باتوں میں سے ایک ہے بلکہ سب سے اہم بات ہے کہ بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں ۔کیونکہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں ۔اسکی عادت بھی بچوں کوڈالنی چاہیے اوراس کے لئے سب سے بڑا والدین کا اپنا نمونہ ہے ۔ اگر خود وہ نمازی ہوں گے تو بچے بھی نمازی بنیں گے ۔ نہیں تو صرف انکی کھوکھلی نصیحتوں کابچوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’بچپن سے تربیت کی ضرورت پڑتی ہے ،اچانک بچوں میں یہ عادت نہیں پڑا کرتی۔ اس کا طریقہ آنحضرت ﷺنے یہ سمجھایا ہے کہ سات سال کی عمر سے اس کو ساتھ نماز پڑھانا شروع کریں اورپیار سے ایسا کریں ۔کوئی سختی کرنے کی ضرورت نہیں،کوئی مارنے کی ضرورت نہیں ،محبت اور پیار سے اس کو پڑھاؤ ، اس کوعادت پڑجاتی ہے۔ دراصل جوماں باپ نمازیں پڑھنے والے ہوں ان کے سات سال سے چھوٹی عمر کے بچے بھی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں ۔ہم نے تو گھروں میں دیکھا ہے اپنے نواسوں وغیرہ کو بالکل چھوٹی عمر کے ڈیڑھ ڈیڑھ ، دودوسال کی عمر کے ساتھ آکے تونیّت کرلیتے ہیں اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اس لئے کہ ان کو اچھا لگتا ہے دیکھنے میں، خداکے حضور اٹھنا ،بیٹھنا،جھکنا ان کو پیار ا لگتا ہے اور وہ ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔مگر وہ نماز نہیں، محض ایک نقل ہے جو اچھی نقل ہے ۔ لیکن جب سات سال کی عمر تک پہنچ جائے تو پھر اس کو باقاعدہ نماز کی تربیت دو ۔اس کو بتاؤ کہ وضو کرنا ہے ،اس طرح کھڑے ہوناہے ،قیام وقعود ،سجدہ وغیرہ سب اسکو سمجھاؤ۔ اس کے بعد وہ بچہ اگردس سال کی عمر تک ، پیار ومحبت سے سیکھتارہے ، پھر دس اوربارہ کے درمیان اس پر کچھ سختی بے شک کرو۔کیونکہ و ہ کھلنڈری عمر ایسی ہے کہ اس میں کچھ معمولی سزا، کچھ سخت الفاظ کہنا یہ ضروری ہواکرتاہے بچوں کی تربیت کے لئے ۔تو جب وہ بلوغ کو پہنچ جائے ،بارہ سال کی عمر کو پہنچ جائے پھر اس پر کوئی سختی کی اجازت نہیں ۔پھر اس کا معاملہ اللہ کا معاملہ ہے اور جیسا چاہے وہ اس کے ساتھ سلوک فرمائے۔‘‘

توانسانی تربیت کادائرہ یہ سات سال سے لے کر بلکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پہلے سے بھی شروع ہوجاتاہے ،بارہ سا ل کی یعنی بلوغت کی عمر تک پھیلاہواہے ۔اس کے بعد بھی تربیت تو جاری رہتی ہے مگر و ہ اَوررنگ ہے ، انسا ن اپنی اولاد کاذمہ دار بارہ سا ل کی یعنی بلوغت کی عمر تک ہے ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو کہنے میں چھوٹی ہیں لیکن اخلاق سنوارنے کے لحاظ سے انتہائی ضروری ہیں مثلاً کھاناکھانے کے آداب ہیں یہ ضرورسکھاناچاہیے ۔اب یہ ایسی بات ہے جو گھر میں صرف ماں باپ ہی کرسکتے ہیں یا ایسے سکول اور کالجز جہاں ہوسٹل ہوں اور بڑی کڑی نگرانی ہووہاں یہ آداب بچوں کوسکھائے جاتے ہیں لیکن عموماً ایک بہت بڑی تیسری دنیا کے سکولوں کی تعدادایسی ہے جہاں ان باتوں پراس طرح عمل نہیں ہوتا اس لئے بہر حال یہ ماں باپ کا ہی فرض بنتا ہے ۔
لیکن یہاں میں ضمناً یہ ذکر کرنا چاہوں گا ۔ ربوہ کی ایک مثال ہے مدرستہ الحفظ کی جہاں پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد بچے داخل ہوتے ہیں۔ مختلف گھروں سے،مختلف خاندانوں سے،مختلف ماحول سے، دیہاتوں سے،شہروں سے بچے آتے ہیں لیکن وہاں میں نے دیکھا ہے کہ ان کی تربیت ماشاءاللہ ایسی اچھی ہے اوران کی ایسی اعلیٰ نگرانی ہوتی ہے اور ان کو ایسے اچھے اخلاق سکھائے گئے ہیں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ ۔اتنے سلجھے ہوئے طریق سے بچے کھانا کھاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔ باوجود مختلف قسم کے بچوں کے ماحول کے کہ مثلاً یہی ہے کہ بسم اللہ پڑھ کے کھائیں۔اپنے سامنے سے کھائیں ،ڈِش میں سے سالن اگر اپنی پلیٹ میں ڈالنا ہے تو اتنی مقدار میں ڈالیں جوکھایاجائے ۔دوبارہ ضرورت ہوتو دوبارہ ڈال دیاجائے ۔ دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا ہے ۔کھانا ختم کرنے کے بعد کی دعا ۔تویہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔تو بہرحال بچپن سے ہی وقفِ نو بچوں کو تو خصوصاً اورعموماً ہرایک کو سکھانی چاہئیں۔ توبہرحال یہ جومدرستہ الحفظ کی مَیں نے مثال دی ہے اللہ کرے کہ یہ سلسلہ جوانہوں نے تربیت کاشروع کیا ہے جاری رہے اوروالدین بھی اپنے بچوں کی اسی نہج پر تربیت کریں ۔
پھر یہ ہے کہ بعض بچوں کو بچپن میں عادت ہوتی ہے اور یہ ایسی چھوٹی سی بات ہے کہ بعض دفعہ والدین اس پر نظر ہی نہیں رکھتے کہ کھانا کھانے کے بعد گندے ہاتھوں کے ساتھ بچے مختلف چیزوں پرہاتھ لگادیتے ہیں اسے بھی ہلکے سے پیارسے سمجھائیں ۔تویہ ایسی عادتیں ہیں جو بچپن میں ختم کی جاسکتی ہیں اور بڑے ہوکر یہ اعلیٰ اخلاق میں شمار ہوجاتی ہیں ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بچوں میں اخلاق حسنہ کی آبیاری کی اہمیت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ :-
”ہر وقفِ زندگی بچہ جووقفِ نو میں شامل ہے بچپن سے ہی اس کو سچ سے محبت اورجھوٹ سے نفرت ہونی چاہیے ۔اور یہ نفرت اس کو گویا ماں کے دودھ سے ملنی چاہیے ۔جس طرح ریڈی ایشن کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے ،اس طرح پرورش کرنے والے باپ کی بانہوں میں سچائی اس بچے کے دل میں ڈوبنی چاہیے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بڑھ کرسچاہونا پڑے گا ۔واقفینِ نوبچوں کے والدین کو یہ نوٹ کرنے والی بات ہے کہ والد ین کوپہلے سے بڑھ کرسچا ہونا پڑے گا ۔ضروری نہیں کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اس اعلیٰ معیار پرقائم ہوں جواعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے اب ان بچوں کی خاطر ان کواپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی۔اورپہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز اپنانا ہوگا اوراحتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر، مذاق کے طورپر بھی وہ آئند ہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ کیونکہ یہ خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اوراس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہر حال آپ نے پورا کرنا ہے۔ اس لئے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف ستھرے اورپاکیزہ ہوجانے چاہئیں “۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

پھر آپؒ فرماتے ہیں کہ ’’قناعت کے متعلق مَیں نے کہا تھا اس کا واقفین سے بڑا گہر ا تعلق ہے ۔بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہیے اورحرص وہوا سے بے رغبتی پیداکرنی چاہیے ۔عقل اورفہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہوناکوئی مشکل کام نہیں ہے ۔غرض دیانت اورامانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچاناضروری ہے۔ علاوہ ازیں بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہیے۔ ترش روئی وقف کے ساتھ پہلوبہ پہلو نہیں چل سکتی۔ترش رُو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پید ا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطرناک فتنے بھی پیدا کردیا کرتے ہیں ۔اس لئے خوش مزاجی اوراس کے ساتھ تحمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ واقفین بچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظام ِ جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا ، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا،ناصرات سے وابستہ کرنا، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا بھی بہت ضروری ہے‘‘

اب یہ ایسی چیزیں ہیں بعض واقفینِ نوبچے سمجھتے ہیں کہ صرف ہماری علیحدہ کوئی تنظیم ہے۔ جو جماعت کی باقاعدہ ذیلی تنظیمیں ہیں ان کاحصّہ ہیں واقفینِ نوبچے بھی۔
پھر بچپن سے ہی کردار بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔مَیں اس لئے حوالے حضور کے بھی ساتھ دے رہاہوں کہ یہ تحریک ایک بہت بڑی تحریک تھی جو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمائی ۔اور اس کے فوائد تو اب سامنے نظر آناشروع ہو گئے ہیں اور آئندہ زمانوں میں ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ کس کثرت سے اور بڑے پیمانہ پر اس کے فوائد نظرآئیں گے ۔ان شاءاللہ

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

فرمایاکہ ’’بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں ۔دراصل اگرتاخیرہوجائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ محاورہ ہے کہ گرم لوہا ہوتواسکوموڑلینا چاہیے ۔لیکن یہ بچپن کالوہاہے کہ خداتعالیٰ ایک لمبے عرصہ تک نرم ہی رکھتا ہے اوراس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کردیتے ہیں وہ دائمی ہوجایاکرتے ہیں ۔ اسلئے وقت ہے تربیت کا اورتربیت کے مضمون میں یہ بات یاد رکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کولے لیں گے اور مضبوط پہلو کو چھوڑ دیں گے۔ یہاں پھر والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ دونسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجہ میں قومیں بھی ہلاک ہوسکتی ہیں اور یادرکھنے کے نتیجہ میں ترقی بھی کرسکتی ہیں۔ ایک نسل اگلی نسل پر جواثر چھوڑاکرتی ہے اس میں عموما ًیہ اصول کارفرماہوتاہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو پکڑنے میں تیز ی کرتے ہیں اورانکی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں ۔اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزوری ہوتو بچہ بیچ کی کمزوری کوپکڑے گا ۔اس لئے یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپکو اپنی تربیت ضروری کرنی ہوگی ۔ان بچوں کوآپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو!تم سچ بولا کرو،تم نے مبلغ بننا ہے۔تم بددیانتی نہ کیا کرو،تم نے مبلغ بننا ہے ۔ تم غیبت نہ کیا کرو،تم لڑا نہ کرو،تم جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ تم وقف ہواور یہ باتیں کرنے کے بعد فرمایاکہ پھر ماں باپ ایسالڑیں، جھگڑیں،پھر ایسی مغلظّات بکیں ایک دوسرے کے خلاف،ایسی بے عزّتیاں کریں کہ وہ کہیں بچے کو توہم نے نصیحت کردی اب ہم اپنی زندگی بسر کررہے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا ۔جواُنکی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی ہے ۔ جوفرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ یہ کرو ،بچے کوکوڑی کی بھی اُسکی پروانہیں ۔ ایسے ماں باپ جوجھوٹ بولتے ہیں وہ لا کھ بچوں کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہوتوبڑی تکلیف ہوتی ہے ،تم خدا کیلئے سچ بولا کرو،سچائی میں زندگی ہے ۔بچہ کہتاہے کہ ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ بولتاہے ۔اس لئے دو نسلوں کے جوڑ کے وقت یہ اصول کارفرماہوتاہے اوراسکونظر انداز کرنے کے نتیجہ میں آپس میں خلاپیداہو جاتے ہیں ۔ ‘‘
تو واقفینِ نو بچوں کے والدین کواس سے اپنی اہمیت کااندازہ بھی ہوگیا ہوگا کہ اپنی تربیت کی طرف کس طرح توجہ دینی چاہیے۔ پھر جیسا کہ میں نے ذکرکیا ہے حضور کے الفاظ میں۔ اپنے گھر کے ماحول کو ایسا پرسکون اورمحبت بھر ا بنائیں کہ بچے فارغ وقت گھر سے باہر گزارنے کے بجائے ماں باپ کی صحبت میں گزارنا پسند کریں۔ ایک دوستانہ ماحول ہو۔ بچے کھل کرماں باپ سے سوال بھی کریں اورادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر قسم کی باتیں کرسکیں ۔ اس لئے ماں باپ دونوں کو بہر حال قربانی دینی پڑے گی۔جوعہداپنے ربّ سے والدین نے باندھا ہے اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بہرحال والدین نے بھی قربانی دینی ہے۔ اوریہ آپ پہلے بھی سن چکے ہیں اورحضور نے یہی نصیحت فرمائی ہے والدین کو بھی۔ میَں بھی یہی کہتا ہوں۔بعض دفعہ بعض والدین اپنے حقوق توچھوڑتے نہیں بلکہ ناجائز غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زوریہ ہوتاہے کہ چونکہ ہمارے بچے وقفِ نومیں ہیں اس لئے ہم نے اگرکوئی غلطی کربھی لی ہے تو ہم سے نرمی کا سلوک کیا جائے ۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔
پھر یہ بات واضح کروں کہ کسی بھی قسم کی برائی دل میں تب راہ پاتی ہے جب اسکے اچھے یا بُرے ہونے کی تمیز اٹھ جائے۔بعض دفعہ ظاہراً ہر قسم کی نیکی ایک شخص کررہاہوتا ہے۔ نمازیں بھی پڑھ رہاہے ،مسجد جارہاہے ، لوگوں سے اخلاق سے بھی پیش آرہا ہے لیکن نظامِ جماعت کے کسی فرد سے کسی وجہ سے ہلکا سا شکوہ بھی پیدا ہوجائے یا اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ نہ ہوتو پہلے اس عہدیدار کے خلاف دل میں ایک رنجش پیدا ہوتی ہے ۔پھر نظام کے بارہ میں کہیں ہلکا ساکوئی فقرہ کہہ دیا ، اس عہدیدارکیوجہ سے پھر گھر میں بچوں کے سامنے بیوی سے یا کسی اورعزیز سے کوئی بات کرلی تواسطرح اس ماحول میں بچوں کے ذہنوں سے بھی نظام کااحترام اٹھ جاتاہے ۔اس احترام کوقائم کرنے کیلئے بہرحال بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یہ نصیحت آپ تک پہنچاتاہوں :-
”بہت ضروری ہے کہ( واقفینِ نوکو ) نظام کااحترام سکھایاجائے ۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے نظامِ جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہد یدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کے لئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔ آپ توشکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کرسکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے ۔یہ ایسا زخم ہواکرتا ہے جس کو لگتاہے اس کو کم لگتا ہے ، جو قریب کا دیکھنے والاہے اس کو زیادہ لگتاہے۔ اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظامِ جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں ان کی اولادوں کو کم وبیش ضرور نقصان پہنچتا ہے ۔اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہوجاتی ہیں ۔
واقفین بچوں کو سمجھاناچاہیے کہ اگرتمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے ،خواہ تمہاری توقعات اس کے متعلق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے نفس کوضائع نہیں کرنا چاہیے ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت توخدا اوراس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کونقصان پہنچتا ہو۔آپ کواگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اس کا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول ،اپنے دوستوں ،اپنے بچوں اوراپنی اولاد کے ایمانوں کوبھی آپ زخمی کرنا شروع کریں۔ اپنے زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اوراس کے اندمال کے جو ذرائع باقاعدہ خداتعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان کو اختیار کریں ۔“

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

پھر ایک عام بات ہے جس کی طرف والدین کوتوجہ دینی ہوگی۔وہ ہے اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیداکریں ۔انہیں متقی بنائیں ۔اور یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک والدین خود متقی نہ ہوں یا متقی بننے کی کوشش نہ کریں ۔کیونکہ جب تک عمل نہیں کریں گے منہ کی باتوں کا کوئی اثرنہیں ہوتا۔اگر بچہ دیکھ رہاہے کہ میرے ماں باپ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کررہے ،اپنے بھائیوں کے حقوق غصب کررہے ہیں۔ ذراذراسی بات پرمیاں بیوی میں،ماں باپ میں ناچاقی اورجھگڑے شروع ہورہے ہیں ۔تو پھر بچوں کی تربیت اور ان میں تقویٰ پیدا کرنا بہت مشکل ہوجائے گا اس لئے بچوں کی تربیت کی خاطر ہمیں بھی اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے ۔بچوں میں تقویٰ کس طرح پیدا کیاجائے۔

اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’واقفینِ نوبچوں کو بچپن ہی سے متقی بنائیں اوران کے ماحول کوپاک اورصاف رکھیں۔انکے ساتھ ایسی حرکتیں نہ کریں جن کی وجہ سے ان کے دل دین سے ہٹ کردنیا کی طرف مائل ہونے لگ جائیں۔ پوری توجہ ان پراس طرح دیں جس طرح ایک بہت ہی عزیز چیز کوایک بہت ہی عظیم مقصد کے لئے تیار کیاجارہا ہواوراس طرح ان کے دل تقویٰ سے بھر جائیں پھر یہ آپکے ہاتھ میں کھیلنے کے بجائے خدا کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں اورجس طرح ایک چیز دوسرے کے سپرد کردی جاتی ہے تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ آپ یہ بچے شروع ہی سے خدا کے سپر د کرسکتے ہیں اور درمیان کے سارے واسطے ،سارے مراحل ہٹ جائیں گے ۔رسمی طور پر تحریکِ جدید سے بھی واسطہ رہے گا یعنی وکالت وقفِ نو سے ۔ اورنظامِ جماعت سے بھی واسطہ رہے گا۔ مگرفی الحقیقت بچپن ہی سے جو بچے آپ خداکی گود میں لاڈالیں خدا اُنکو سنبھالتاہے ،خودہی اُن کاا نتظام فرماتاہے۔ خودہی اُن کی نگہداشت کرتاہے ۔جس طرح کہ حضرت مسیح موعود ؑ کیخدانے نگہداشت فرمائی۔آپ لکھتے ہیں :

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے

گود میں تیری رہا مَیں مثلِ طفلِ شیرخوار

پس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کواوراپنے واقفین کے وجود کوخدا کے سپرد کریں اورخداکے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

پھر بچوں میں یہ احساس بھی پیدا کریں کہ تم واقفِ زندگی ہواور فی زمانہ اس سے بڑی کوئی اور چیز نہیں۔ اپنے اندر قناعت پیداکرو ، نیکی کے معاملہ میں ضروراپنے سے بڑے کودیکھو اورآگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ لیکن دنیاوی دولت یا کسی کی امارت تمہیں متأثر نہ کرے بلکہ اس معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو اور خوش ہوکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دین کی خدمت کی توفیق دی ہے ۔اوراس دولت سے مالامال کیاہے۔کسی سے کوئی توقع نہ رکھو۔ ہر چیز اپنے پیارے خداسے مانگو۔ ایک بڑی تعد اد ایسے واقفینِ نو بچوں کی ہے جو ماشاءاللہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ۔ انکو خود بھی اب ان باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

ضمناً یہ بات بھی کردوں کہ حضور رحمہ اللہ نے بھی ایک دفعہ اظہار فرمایاتھا کہ واقفینِ نوبچوں کی ایک بہت بڑی تعد اد جوہے ان کی تربیت ایسے رنگ میں کرنی چاہیے اوران کے ذہن میں یہ ڈالنا چاہیے کہ انہیں مبلغ بننا ہے ۔اورآئندہ زمانے میں جوضرورت پیش آنی ہے مبلغین کی بہت بڑی تعد اد کی ضرورت ہے اس لئے اس نہج پرتربیت کریں کہ بچوں کوپتہ ہوکہ اکثریت ان کی تبلیغ کے میدان میں جانے والی ہے اوراس لحاظ سے ان کی تربیت ہونی چاہیے ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 27 جون 2003 ۔ الفضل انٹرنیشنل 22تا 28اگست 2003ء۔جلد 10 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 8)

….اب مَیں واقفین کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کا اقتباس پڑھتا ہوں ۔آج تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے حالات بہت بدل گئے ہیں اور واقفین زندگی کے لئے بھی جماعت وسائل کے لحاظ سے جس حد تک سہولتیں بہم پہنچا سکتی ہے پہنچانے کی کوشش کرتی ہے ۔ لیکن واقفین زندگی اور اب واقفینِ نو بھی بعض اس عمر کو پہنچ گئے ہیں اور جامعہ میں بھی ہیں کچھ اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں ان کو حضرت مسیح موعود ؑ کے یہ الفاظ ہمیشہ پیش نظر رکھنے چاہئیں جو مَیں پڑھوں گا۔

آپ ؑ فرماتے ہیں کہ:-
’’ ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جونہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر کچھ کر کے دکھانے والے ہوں، علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں ہے۔ ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں اور ہماری صحبت میں رہ کر یا کم از کم ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔ تبلیغ کے سلسلہ کے واسطے ایسے آدمیوں کے دَوروں کی ضرورت ہے، مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کردیں۔ آنحضرت ﷺ کے صحابہ بھی اشاعت اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔ یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہاں بھی صحابہ میں سے کوئی شخص پہنچا ہوگا۔ اگر اسی طرح بیس یا تیس آدمی متفرق مقامات میں چلے جاویں۔(اب تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ہزاروں دے دئیے ہیں) تو بہت جلدی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ (سینکڑوں تو میدان میں ہیں اور ہزاروں پیچھے سے آرہے ہیں ان شاءاللہ تعالیٰ۔) مگر جب تک ایسے آدمی ہمارے منشاءکے مطابق اور قناعت شعار نہ ہوں تب تک ہم ان کو پورے پورے اختیارات بھی نہیں دے سکتے ۔ آنحضرتﷺکے صحابہ ایسے قانع اور جفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتوں پر ہی گزر کرلیتے تھے‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ682)

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 30اپریل2004 ء۔ الفضل انٹرنیشنل 14تا20مئی2004ء۔جلد 11 شمارہ 20۔ صفحہ 9)

…. وہ واقفینِ نو جو شعور کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور جن کا زبانیں سیکھنے کی طرف رجحان بھی ہے اور صلاحیت بھی ہے۔ خاص طور پر لڑکیاں۔ وہ انگریزی، عربی، اردو اور ملکی زبان جو سیکھ رہی ہیں جب سیکھیں تو اس میں اتنا عبور حاصل کر لیں، (میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں میں زبانیں سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے) کہ جماعت کی کتب اور لٹریچر وغیرہ کا ترجمہ کرنے کے قابل ہو سکیں تبھی ہم ہر جگہ نفوذ کر سکتے ہیں۔….
…. واقفینِ نو بچے جو تیار ہو رہے ہیں، توجہ ہونی چاہیے تاکہ خاص طور پر ہر زبان کے ماہرین کی ایک ٹیم تیار ہو جائے۔ بہت سے بچے ایسے ہیں جو اب یونیورسٹی لیول تک پہنچ چکے ہیں، وہ خود بھی اس طرف توجہ کریں جیسا کہ مَیں نے کہا اور جو ملکی شعبہ واقفینِ نو کا ہے وہ بھی ایسے بچوں کی لسٹیں بنائیں اور پھر ہر سال یہ فہرستیں تازہ ہوتی رہیں کیونکہ ہر سال اس میں نئے بچے شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ ایک عمر کو پہنچنے والے ہوں گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جون2004ء۔ الفضل انٹرنیشنل2تا8جولائی2004ء۔جلد 11  شمارہ 27۔ صفحہ 8 تا 9)

اور صر ف اسی شعبے میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں عموماً جو ہمیں موٹے موٹے شعبے جن میں ہمیں فوراً واقفین زندگی کی ضرورت ہے وہ ہیں مبلغین، پھر ڈاکٹر ہیں، پھر ٹیچرہیں، پھر اب کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی بھی ضرورت پڑ رہی ہے۔ پھر وکیل ہیں، پھر انجینئر ہیں، زبانوں کے ماہرین کا مَیں نے پہلے کہہ دیا ہے پھر ان کے آگے مختلف شعبہ جات بن جاتے ہیں، پھر اس کے علاوہ کچھ اور شعبے ہیں۔ تو جو تو مبلغین بن رہے ہیں ان کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ جامعہ میں جانا ہے اور جامعہ میں جانا چاہتے ہیں اس لئے فکر نہیں ہوتی پتہ لگ جائے گا۔ لیکن جو دوسرے شعبوں میں یا پیشوں میں جا رہے ہوں ان میں سے اکثر کا پتہ ہی نہیں لگتا۔ اب دَوروں کے دوران مختلف جگہوں پر مَیں نے پوچھا ہے تو ابھی تک یا تو بچوں نے ذہن ہی نہیں بنایا ہو ا۔ سولہ سترہ سال کی عمر کو پہنچ کے بھی، یا پھر کسی ایسے شعبے کا نام لیتے ہیں جس کی فوری طور پر جماعت کو شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ میں نے پائلٹ بننا ہے ۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو کھیلوں سے دلچسپی ہے، کرکٹر بننا ہے یا فٹ بال کا پلیئر بننا ہے۔ یہ تو پیشے واقفینِ نو کے لئے نہیں ہیں۔ صرف اس لئے کہ بچوں کی صحیح طرح کونسلنگ ہی نہیں ہو رہی ان کی رہنمائی نہیں ہو رہی، اور اس وجہ سے ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ ان کا مستقبل کیا ہے۔ تو ماں باپ بھی صرف وقف کرکے بیٹھ نہ جائیں بلکہ بچوں کو مستقل سمجھاتے رہیں۔ میں یہی مختلف جگہوں پر ماں باپ کو کہتا رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو سمجھاتے رہیں کہ تم وقفِ نو ہو، ہم نے تم کو وقف کیا ہے تم نے جماعت کی خدمت کرنی ہے اور جماعت کا ایک مفید حصّہ بننا ہے اس لئے کوئی ایسا پیشہ اختیار کرو جس سے تم جماعت کا مفید وجود بن سکو۔ پھر ایسے بچے بھی ملے ہیں کہ بڑی عمر کے ہونے کے باوجود ان کو یہ نہیں پتہ کہ وہ واقفِ نو ہیں اور وقفِ نو ہوتی کیا چیز ہے۔ ماں باپ کہتے ہیں کہ وقفِ نو میں ہیں۔ پھر بعض یہ کہتے ہیں کہ ماں باپ نے وقف کیا ہے لیکن ہم کچھ اور کرنا چاہتے ہیں تو جب ایسی فہرستیں تیار ہوں گی سامنے آ رہی ہوں گی، ہر ملک میں جب تیار ہو رہی ہوں گی تو ہمیں پتہ لگ جائے گا کہ کتنے ایسے ہیں جو بڑے ہوکر جھڑ رہے ہیں اور کتنے ایسے ہیں اور کس ملک میں ایسے ہیں جہاں سے ہمیں مبلغ ملیں گے اور کتنے ایسے ہیں جن میں سے ہمیں ڈاکٹر ملیں گے، کتنے انجینئر ملیں گے یا ٹیچر ملیں گے وغیرہ پھر جو ڈاکٹر بنتے ہیں ان کی ڈاکٹری کے شعبے میں بھی دلچسپیاں ہر ایک کی الگ ہوتی ہیں تو اس دلچسپی کے مطابق بھی ان کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے بھی ملکوں کو مرکز سے پوچھنا ہو گا تاکہ ضرورت کے مطابق ان کو بتایا جائے۔ بعض دفعہ ہوتا ہے کہ کسی نے ڈاکٹر بننا ہے۔ صرف ایک شعبے میں دلچسپی نہیں ہوتی، دو تین میں ہوتی ہے تو ضرورت کے مطابق رہنمائی کی جا سکتی ہے کہ فلاں شعبے میں جانا ہے تو اب تو اس عمر کو دوسری تیسری کھیپ پہنچ چکی ہے شاید چوتھی بھی پہنچ رہی ہو جہاں مستقبل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ تو اس لئے ہر سال باقاعدہ اس کے مطابق نئے سرے سے فہرستیں بنتی رہنی چاہئیں، نئے جو شامل ہونے والے ہیں ان کو شامل کیا جانا چاہیے، جو جھڑنے والے ہیں ان کو علیحدہ کیا جانا چاہیے۔ اس لحاظ سے اب شعبہ وقفِ نو کو کام کرنا ہو گا۔

پھر جو پڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیے کہ ان میں درمیانے درجے کے کتنے ہیں اور یہ کیا کیاپیشے اختیار کر سکتے ہیں، ان کو کیا کام دئیے جا سکتے ہیں اور جیسا کہ مَیں نے کہا اس کام کو اب بڑے وسیع پیمانے پر دنیا میں ہر جگہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور واقفینِ نو کے شعبے کو مَیں کہوں گا کہ یہ فہرستیں کم از کم ایسے بچے جو پندرہ سال سے اوپر کے ہیں ان کی تیار کر لیں اور تین چار مہینے میں اس طرز پر فہرست تیار ہونی چاہیے۔ کیونکہ میرے خیال میں مَیں نے جو جائزہ لیا ہے جو رپورٹ کے اصل حقائق ہیں، زمینی حقائق جسے کہتے ہیں وہ ذرا مختلف ہیں اس لئے ہمیں حقیقت پسندی کی طرف آنا ہو گا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جون2004ء۔ الفضل انٹرنیشنل2تا8جولائی2004ء۔جلد 11  شمارہ 27۔ صفحہ 8 تا 9)

کچھ شعبہ جات تو مَیں نے گنوا دئیے ہیں تو یہ ہی نہ سمجھیں کہ انکے علاوہ کوئی شعبہ اختیار نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں ضرورت نہیں ہے۔بعض ایسے بچے ہوتے ہیں جو بڑے ٹیلینٹڈ (Talented)ہوتے ہیں، غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں ریسرچ کے میدان میں نکلتے ہیں جس میں سائنس کے مضامین بھی آتے ہیں، تاریخ کے مضامین بھی ہیں یا اور مختلف ہیں تو ایسے بچوں کو بھی ہمیں گائیڈ کرنا ہو گا وہی بات ہے جو مَیں نے کہی کہ ہر ملک میں کونسلنگ یا رہنمائی وغیرہ کے شعبہ کو فعال کرنا ہو گا۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے تو اس کمال کے لئے کوشش بھی کرنی ہوگی۔ پھر ان شاءاللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے فضل بھی ہونگے۔ بہرحال بچوں کی رہنمائی ضروری ہے چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شوق کی وجہ سے اپنے راستے کا تعین کر لیتے ہیں، عموماً ایک بہت بڑی اکثریت کو گا ئیڈ کرنا ہو گا اور جیسا کہ مَیں نے کہا گہرائی میں جا کر سارا جائزہ لینا ہو گا۔….

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جون2004ء۔ الفضل انٹرنیشنل2تا8جولائی2004ء۔جلد 11  شمارہ 27۔ صفحہ 8 تا 9)

….تو ہم نے واقفینِ نو بچوں کو پڑھا کے نئے نئے علوم سکھا کے پھر دنیا کے منہ دلائل سے بند کرنے ہیں۔ اور اس تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہمیں اصل قرآن کا علم اور معرفت دی ہے، اللہ کرے کہ واقفینِ نو کی یہ جدید فوج اور علوم جدیدہ سے لیس فوج جلد تیار ہو جائے۔ پھر واقفینِ نو بچوں کی تربیت کے لئے خصوصاً اور تمام احمدی بچوں کی تربیت کے لئے بھی عموماً ہماری خواتین کو بھی اپنے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی وقت دینے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اور اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اجلاسوں میں اجتماعوں میں، جلسوں میں آ کر جو سیکھا جاتا ہے وہیں چھوڑ کر چلے نہ جایا کریں، یہ تو بالکل جہالت کی بات ہو گی کہ جو کچھ سیکھا ہے وہ وہیں چھوڑ دیا جائے۔ تو عورتیں اس طرف بہت توجہ دیں اور اپنے بچوں کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دیں۔ کیونکہ مَیں نے دیکھا ہے کہ جن واقفینِ نو یا عمومی طور پر بچوں کی مائیں بچوں کی طرف توجہ دیتی ہیں اور خود بھی کچھ دینی علم رکھتی ہیں انکے بچوں کے جواب اور وقفِ نو کے بارے میں دلچسپی بھی بالکل مختلف انداز میں ہوتے ہیں اس لئے مائیں اپنے علم کو بھی بڑھائیں او رپھر اس علم سے اپنے بچوں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔ لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ باپوں کی ذمہ داریاں ختم ہو گئی ہیں یا اب باپ اس سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں یہ خاوندوں کی اور مردوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ایک تو وہ اپنے عملی نمونے سے تقویٰ اور علم کا ماحول پیدا کریں پھر عورتوں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف خود بھی توجہ دیں ۔ کیونکہ اگر مردوں کا اپنا ماحول نہیں ہے، گھروں میں وہ پاکیزہ ماحول نہیں ہے، تقویٰ پر چلنے کا ماحول نہیں تو اس کا اثر بہرحال عورتوں پر بھی ہو گا اور بچوں پر بھی ہو گا ۔ اگر مرد چاہیں تو پھر عورتوں میں چاہے وہ بڑی عمر کی بھی ہو جائیں تعلیم کی طرف شوق پیدا کر سکتے ہیں کچھ نہ کچھ رغبت دلا سکتے ہیں۔ کم از کم اتنا ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ اس لئے جماعت کے ہر طبقے کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مرد بھی عورتیں بھی۔ کیونکہ مردوں کی دلچسپی سے ہی پھر عورتوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی اوراگر عورتوں کی ہر قسم کی تعلیم کے بارے میں دلچسپی ہو گی تو پھر بچوں میں بھی دلچسپی بڑھے گی۔ ان کوبھی احساس پیدا ہو گا کہ ہم کچھ مختلف ہیں دوسرے لوگوں سے۔ ہمارے کچھ مقاصد ہیں جو اعلیٰ مقاصد ہیں۔ اور اگر یہ سب کچھ پیدا ہو گا تو تبھی ہم دنیا کی اصلاح کرنے کے دعوے میں سچے ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ دنیا کی اصلاح کیا کرنی ہے۔ اگر ہم خود توجہ نہیں کریں گے توہماری اپنی اولادیں بھی ہماری دینی تعلیم سے عاری ہوتی چلی جائیں گی۔ کیونکہ تجربہ میں یہ بات آ چکی ہے کہ کئی ایسے احمدی خاندان جن کی آگے نسلیں احمدیت سے ہٹ گئیں صرف اسی وجہ سے کہ ان کی عورتیں دینی تعلیم سے بالکل لاعلم تھیں۔ اور جب مرد فوت ہو گئے تو آہستہ آہستہ وہ خاندان یا ان کی اولادیں پرے ہٹتے چلے گئے کیونکہ عورتوں کو دین کا کچھ علم ہی نہیں تھا، تو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ عورتوں کو بھی اور مردوں کو بھی اکٹھے ہو کر کوشش کرنی ہو گی تاکہ ہم اپنی اگلی نسل کو بچا سکیں۔….

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جون2004ء۔ الفضل انٹرنیشنل2تا8جولائی2004ء۔جلد 11  شمارہ 27۔ صفحہ 8 تا 9)

پھر دنیا میں ہر جگہ جماعتی عہدیداروں کی ایک یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مبلغین یا جتنے واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں میں بھی۔ ان کی عزت کرنا اور کروانا ، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ، حسب گنجائش اور توفیق ان کے لئے سہولتیں مہیا کرنا، یہ جماعت کا اور عہدیداران کا کام ہے تاکہ ان کے کام میں یکسوئی رہے۔ وہ اپنے کام کو بہتر طریقے سے کر سکیں۔ وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے فرائض کی ادائیگی کرسکیں۔ اگر مربیان کو عزت کا مقام نہیں دیں گے تو آئندہ نسلوں میں پھر آپ کو واقفین زندگی اورمربیان تلاش کرنے بھی مشکل ہو جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ واقفینِ نو کی تحریک کے تحت بہت سے واقفینِ نو بچے وقف کے میدان میں آ رہے ہیں۔ لیکن جتنا جائز ہ مَیں نے لیا ہے میرے خیال میں جتنے مبلغین کی ضرورت ہے اتنے اس میدان میں نہیں آ رہے دوسری فیلڈز (Fields)میں جا رہے ہیں۔بہرحال جب مربی کو مقام دیا جائے گا، گھروں میں ان کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا، ان کی خدمات کو سراہاجائے گا تو یقینًا ان ذکروں سے گھر میں بچوں میں بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم وقف کر کے مربی بنیں۔ تو اس لحاظ سے بھی عہدیداران کو خیال کرنا چاہیے۔ چھوٹے موٹے اختلافات کو ایشو (Issue) نہیں بنا لینا چاہیے جس سے دونوں طرف بے چینی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔
لیکن واقفین زندگی اور مربیان سے بھی مَیں یہ کہتا ہوں کہ دنیا چاہے آپ کے مقام کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن اللہ کی راہ میں قربانی کا جو آپ نے عہد کیا ہے اور پھر اس کو نیک نیّتی سے خدا کی خاطر نبھا رہے ہیں تو دنیا کے لوگوں کی ذرا بھی پرواہ نہ کریں۔ چاہے اپنوں کے چرکے ہوں یا غیروں کے چرکے ہوں جو بھی لگتے ہیں ان پر خدا کے آگے جھکیں ۔ آپ جماعتی نظام میں تعلیم و تربیت کے لئے ،دنیا کواسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے، خلیفۂ وقت کے نمائندے ہیں۔ یہ آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ خلیفۂ وقت نے بہت سی ایسی باتوں پر آپ پر انحصار کیا ہوتا ہے جن پر بعض فیصلے ہوتے ہیں۔ اس لئے اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہر دنیاوی اونچ نیچ کو دل سے نکال دیں اور یکسوئی سے وہ کام سر انجام دیں جو آپ کے سپرد کئے گئے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کی خاطر یہ چرکے برداشت کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کی سہولت کےلئے سامان بھی پیدا فرماتا رہے گا۔ ذہنی کوفت کو دورکرنے کے لئے سامان بھی فرماتا رہے گا۔ مربیان کے گھروں میں بھی عہدیداروں کے رویوں کے متعلق بچوں کے سامنے کبھی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ اپنی بیویوں کو بھی سمجھائیں کہ واقفِ زندگی کی بیوی بھی وقفِ زندگی کی طرح ہی ہوتی ہے یا ہونی چاہیے یا یہ سوچ رکھنی چاہیے۔ اس لئے ہر بات صبر اور حوصلے سے برداشت کرنی ہے۔ اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گِڑگڑانا ہے ، ا س کے حضور جھکنا ہے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ ضر ور اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے گا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 31 دسمبر2004ء۔ الفضل انٹرنیشنل 14 جنوری 2005ء۔ جلد 12 شمارہ 02۔ صفحہ 7 تا 8)

۔۔’’ الزام تراشیاں اور بچوں کے بیان اور بچوں کے سامنے ماں کے متعلق باتیں، جو انتہائی نامناسب ہوتی ہیں، بچوں کے اخلاق بھی تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ ایسے مرد اپنی اَناؤں کی خاطر بچوں کو آگ میں دھکیل رہے ہوتے ہیں اور بعض مردوں کی دینی غیرت بھی اس طرح مر جاتی ہے کہ ان غلط حرکتوں کی وجہ سے اگر ان کے خلاف کاروائی ہوتی ہے اور اخراج از نظامِ جماعت ہو گیا تو تب بھی اُن کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اپنی اَنا کی خاطر دین چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
وقفِ نو کے حوالے سے یہاں ضمنا مَیں یہ بھی ذکر کر دوں کہ اگر ان کا بچہ واقفِ نو ہو تو والدین کے اخراج کی صورت میں اس کا بھی وقف ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے جماعتیں ایسی صورت میں جہاں جہاں بھی ایسا ہے خود جائزہ لیا کریں۔ پاکستان میں تو وکالت وقفِ نو اس بات کا ریکارڈ رکھتی ہے لیکن باقی ملکوں میں بھی امیر جماعت اور سیکریٹریان وقفِ نو کا کام ہے کہ اس چیز کا خیال رکھیں۔ اور پھر معافی کی صورت میں ہر بچے کا انفرادی معاملہ خلیفۂ وقت کے سامنے علیحدہ پیش ہوتا ہے کہ آیا اس کا دوبارہ وقف بحال کرنا ہے کہ نہیں؟ اس لئے ریکارڈ رکھنا بھی ضروری ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 10 نومبر2006ء۔ الفضل انٹرنیشنل ۔ یکم دسمبر 2006ء۔جلد 13 شمارہ 48۔ صفحہ 8)

۔۔۔ یہ تمام انتظامات جو جلسہ سالانہ کے تھے اور ہوتے ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں کہ والنٹیئرز کے ہوتے ہیں، ان سے مختلف شعبہ جات میں کام لیا جاتا ہے۔ پینتیس چالیس شعبہ جات مردوں میں تھے اور اتنے ہی عورتوں میں۔ جن میں کام کرنے والے افسران صیغہ جات بھی ہوتے ہیں، نائبین بھی ہوتے ہیں، منتظمین بھی ہوتے ہیں، معاونین بھی ہوتے ہیں اور کام کا بہت بڑا حصّہ معاونین نے سنبھالا ہوتا ہے۔ گو افسر پالیسی بنا کر دے دیتے ہیں لیکن معاونین کام کرنے والے ہوتے ہیں جن میں بچے بھی ہیں، بچیاں بھی ہیں، نوجوان بھی، چھوٹی عمر کے بھی ہیں۔ ان شعبہ جات میں کچھ تو ظاہری شعبہ جات ہیں سب جانتے ہیں۔ ایک شعبہ ترجمانی کا بھی ہے جو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ تقریباً اس دفعہ جلسہ پر اڑھائی ہزار لوگوں کے لئے مختلف زبانوں میں ترجمے کا کام ہو رہا تھا۔ اس حوالے سے مَیں واقفینِ نو بچوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں، خاص طور پر بچیاں کہ زبانیں سیکھنے کی طرف توجہ کریں کیونکہ آئندہ یہ ضرورت بڑھتی جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں مستقل اپنے واقفین چاہیئں اور وہ واقفینِ نو میں سے ہی پورے ہو سکتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ یکم اگست 2008ء۔ الفضل انٹرنیشنل ۔ 22 اگست 2008ء۔جلد 15 شمارہ 34۔ صفحہ 7)

۔۔۔ یہاں مَیں اس سلسلہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سپین کے جو واقفینِ نو بچے ہیں ان میں سے ایک تعداد جو یہاں کے پلے بڑھے ہیں، جن کو سپینش زبان بھی اچھی طرح آتی ہے اور جو نوجوانی میں قدم رکھ رہے ہیں، وہ اپنے آپ کو جامعہ میں جانے کے لئے بھی پیش کریں تا کہ یہاں بھی اور دنیا کی اور مختلف جگہوں میں بھی جہاں سپینش بولی جاتی ہے اس زبان کو جاننے والے مبلغین کی جو کمی ہے اسے پورا کیا جا سکے اور ہم ان تک پیغام پہنچانے کا حق ادا کر سکیں یا کم از کم کوشش کر سکیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر کچھ کر کے دکھانے والے ہوں۔ علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں۔ ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں‘‘ پھر آپ ؑ فرماتے ہیں کہ ’’تبلیغی سلسلہ کے واسطے دَوروں کی ضرورت ہے، مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔ آنحضرت ﷺ کے صحابہ بھی اشاعتِ اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 682) یہاں رہنے والے جو ہیں وہی اس چیز سے آ گاہ ہو سکتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو وقفِ نو کی سکیم کے تحت والدین کو اولاد وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اب اس نہج پر بچپن سے ہی انکی تربیت کرنا بھی والدین کا کام ہے۔ ایسی تربیت کریں کہ وہ جامعہ کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں۔ یہاں کی زبان اور طرزِ زندگی سے بھی واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جماعت کا تبلیغ کا کام کوئی چند سال کا یا دو چار ، دس سال کا کام نہیں ہے۔ یہ تو ہمیشہ جاری رہنا ہے۔ پس جہاں فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر تبلیغ کے پروگرام بنیں وہاں لمبے عرصہ پر حاوی اور گہری سوچ و بچار کے بعد وسیع پروگرام بھی بنیں۔ پس اسکے لئے ہمیں خالص ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہو گی۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 9 اپریل 2010ء۔ الفضل انٹرنیشنل  30 اپریل 2010ء۔ جلد 17شمارہ 18۔ صفحہ 7 تا 8)

وَ لْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّـۃٌ یَّدْعُـوْنَ اِلَی الْـخَیْـرِ وَ یَاْمُـرُوْنَ بِالْمَعْـرُوْفِ وَ یَنْـھَوْنَ عَنِ الْمُـنْکَرِط وَ اُوْلٰٓئِکَ ھُـمُ الْمُفْلِـحُوْنَ ۔ وَ مَا کَانَ الْمُـؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَـآ فَّۃً ط فَلَوْ لَا نَفَـرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَـۃٍ مِّـنْھُـمْ طَآئِـفَۃٌ لِّیَـتَـفَـقَّـھُوْا فِی الـدِّیْنِ وَ لِیُـنْذِرُوْا قَـوْمَھُـمْ اِذَا رَجَعُـوْٓا اِلَـیْھِـمْ لَعَلَّھُـمْ یَـحْذَرُوْنَ
جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جماعت کے ہر فرد کا ہمہ وقت تبلیغی اور تربیتی کاموں میں مصروف رہنا ممکن نہیں۔ اس لئے ایک گروہ ہو جو خاص طور پر یہ کام سر انجام دے۔ باوجود اس کے کہ ایک دوسری جگہ امت کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ نیکیوں کے پھیلانے، برائیوں سے روکنے اور دعوتِ الی اللہ کا فرض ادا کرے۔ لیکن پھر بھی یہ فرمایا ہے کہ کیونکہ یہ جو نظامِ دنیا ہے اس کو چلانا بھی ضروری ہے، اس لئے جو اس میں مصروف ہوں گے وہ بھی ہمہ وقت، وقت نہیں دے سکتے۔ پھر ہر ایک کا مزاج بھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ تبلیغی اور تربیتی کام احسن رنگ میں سر انجام دے سکے۔ پھر تمام کے تمام امت کے افراد دین کا وہ فہم اور ادراک بھی حاصل نہیں کر سکتے جو ایک مبلغ اور مربی کے لئے ضروری ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ تمام لوگوں کو خاص توجہ کے ساتھ ٹریننگ بھی نہیں دی جا سکتی۔ اس لئے گروہ ہونا چاہیئے جو پوری توجہ سے دین سیکھے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات، اوامر و نواہی سے واقفیت حاصل کرے۔ ان کی گہری حکمت سیکھے اور پھر پھیلائے۔ ماشاء اللہ جماعت میں ایسے بھی بہت سے افراد ہیں جو اپنے ذوق اور شوق کی وجہ سے دنیاوی تعلیم کے علاوہ بھی دینی علم کا کافی ادراک رکھتے ہیں۔ لیکن بعض دفعہ، بلکہ اکثر دفعہ ان کی دوسری مصروفیات ایسی ہو جاتی ہیں جو مستقل طور پر وقت دینے میں آڑے آتی ہیں۔
بہر حال اللہ فرماتا ہے کہ دین کے کام کے لئے واقفِ زندگی کا ایک گروہ ہونا چاہیئے اور پھر کیونکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اس لئے ہر فرقے میں سے یعنی ہر گروہ میں سے، ہر طبقے میں سے، لوگوں کے ہر حصے میں سے متفرق قسم کے لوگوں میں سے یہ ایک گروہ ہونا چاہیئے۔ اور پھر مزید وسعت پیدا کریں تو فرمایا کہ ہر قوم میں سے ایسے لوگ ہوں جو دین سیکھیں اور آگے سکھائیں۔ ہر قوم اور ہر گروہ اور ہر طبقے کے مزاج، نفسیات اور طریق مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق تبلیغ کا طریق اختیار کیا جائے۔ اس طرح تبلیغ کرنی بھی آسان رہے گی اور تربیت بھی آسان رہے گی۔ بہرحال یہ رہنمائی اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ مومنوں کا ایک گروہ ہو جو تبلیغی اور تربیتی کام سر انجام دے اور پھر یہ کہ ہر قوم اور ہر طبقے کے لوگوں میں سے ہو تا کہ اس کام میں سہولت پیدا ہو سکے۔ پس جماعت احمدیہ میں اس اصول کے تحت دین کی خاطر زندگی وقف کرنے کا نظام قائم ہے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا مختلف قوموں اور طبقوں کے لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اس نظام کا حصّہ بن چکے ہیں اور بن رہے ہیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا جماعتی ضروریات بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس تعداد میں اضافے کی بھی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آئندہ بڑھتی بھی چلی جائے گی۔ فی الحال صرف موجودہ وقت میں ضرورت نہیں ہے بلکہ آئندہ اس ضرورت نے مزید بڑھنا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس ضرورت کو بھانپتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پا کر واقفینِ نو کی سکیم شروع فرمائی تھی اور اس کی بنیادی ا ینٹ ہی تقویٰ پر رکھتے ہوئے والدین کو یہ تحریک فرمائی تھی کہ بجائے اس کے کہ بچے بڑے ہوکر اپنی زندگیاں وقف کریں اور اپنے آپ کو پیش کریں والدین دین کا درد رکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اپنے بچوں کو ان کی پیدائش سے پہلے دین کی راہ میں وقف کرنے کے لئے پیش کریں۔ اور حضرت مریم ؑکی والدہ کی طرح یہ اعلان کریں کہ رَبِّ اِنِّی نَذَرْتُ لَکَ مَا فِی بَـطْنِیْ مُـحَرَّرًا فَـتَـقَبـَّلْ مِنِّیْ کہ اے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اسے مَیں نے تیری نذر کرتے ہوئے آزاد کردیایعنی دین کے کام کے لئے پیش کر دیا اور دنیاوی دھندوں سے آزاد کر دیاپس مجھ سے یہ قبول کر لے۔ پس جب خاص طور پر مائیں اس دعا کے ساتھ اپنے بچے جماعت کو پیش کرتی ہیں، خلیفۂ وقت کے سامنے پیش کرتی ہیں اور کریں گی، تو ان کی بہت بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ پھر ان بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں اس وقف کا حق ادا کرتے ہوئے گذارنے کے لئے پیش کریں۔ پورا عرصۂ حمل ان کے لئے دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس بچے کو دین کا خادم بنائے، دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھے، دنیا کی طرف رغبت نہ ہو بلکہ دین کے لئے خالص ہو جائیں یہ لوگ۔ پھر پیدائش کے بعد بچے کی تعلیم و تربیت اس نہج پر ہو کہ اُس بچے کو ہر وقت یہ پیش نظر رہے اُ س کو بھی یہ باور کروایا جائے کہ میں واقفِ زندگی ہوں اور میں نے دنیاوی جھمیلوں میں پڑنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں زندگی گذارنی ہے۔ جب اس طرح ابتداءسے ہی تربیت ہو گی تو نوجوانی میں قدم رکھ کر بچہ خود اپنے آپ کو پیش کرے گا اور خالص ہو کر دین کی خدمت کے لئے پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پس والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بچے کو وقف کے لئے تیار کرنا، اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا والدین کا کام ہے تا کہ خوبصورت اور ثمر آور پودا بناکر جماعت اور خلیفۂ وقت کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے پیش کیا جائے۔ یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارا بچہ وقفِ نو ہے اس لئے ابتداءسے اس کو جماعت سنبھال لے یہ بالکل غلط سوچ ہے۔ جماعت تعلیم و تربیت کے لئے رہنمائی تو ضرور کرتی ہے اور کرنی چاہیئے اس کے لئے ربوہ میں وکالت وقفِ نو بھی قائم ہے، قادیان میں نظارت تعلیم کے تحت وقفِ نو کا شعبہ قائم ہے۔ یہاں لندن میں مرکزی طور پر براہ راست خلیفۂ وقت کی نگرانی میں اس شعبے کا کام ہو رہا ہے۔ جماعتوں میں سیکریٹریانِ وقفِ نو کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت، کونسلنگ اور گائڈنس وغیرہ کریں اور ان کو جماعت کا ایک فعال حصّہ بنانے کی کوشش کریں اور اس میں اپنا بھی فعال کردار ادا کریں۔ لیکن ان سب کے باوجود والدین کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر وقفِ نو کی سکیم کا اجراءہوا تھا اور یہ ایک انتہائی اہم اور آئندہ جماعتی ضروریات کوپورا کرنے والی سکیم ہے جس میں علاوہ مربیان ومبلغین کےمستقبل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے واقفین زندگی کی ضرورت ہو گی۔ پس والدین اور وقفِ نو کے شعبے کو اس ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیئے۔ اکثر جگہ دیکھا گیا ہے کہ سیکریٹریان وقفِ نو اس طرح فعال نہیں جس طرح ان کو ہونا چاہیئے۔ پس وہ فعال ہوں تا کہ یہ بچے جب میدانِ عمل میں آئیں تو میدان میں آ کر قوموں کو، اپنے لوگو ں کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا اہم کردار ادا کر سکیں اور فلاح پانے والے گروہ میں خود بھی شامل ہوں اور نہ صرف خود فلاح پانے والے بنیں بلکہ دنیا کی فلاح اور بقا کا باعث بنیں۔
بیشک والدین کا بھی یہ کام ہے کہ اپنے ہر بچے کی تربیت کریں اور کوئی احمدی بچہ بھی ضائع ہونا جماعت برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ سب جماعت اور قوم کی امانت ہیں لیکن واقفینِ نو بچوں کے ذہن میں بچپن سے ہی ڈالا جائے کہ تمہیں ہم نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کیا ہے۔ صرف وقفِ نو کا ٹائٹل مل جانا ہی کافی نہیں بلکہ تمہاری تربیت، تمہاری تعلیم، تمہارا اٹھنا بیٹھنا، تمہارا بات چیت کرنا، تمہارا لوگوں سے ملنا جلنا تمہیں دوسروں سے ممتاز کرے گا۔ یہ عادتیں پھر عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوں اور کوئی انگلی کبھی تمہاری کردار کشی کرتے ہوئے نہ اٹھے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر واقفینِ نو کا سلیبس ہے جوجماعت نے، مرکز نے بنایا ہوا ہے۔ اس سے آگاہ کرنا اسے پڑھانا ماں باپ اور نظام دونوں کا کام ہے تا کہ تفقّہ فی الدّین میں بچپن سے ہی رجحان ہو اور اس میں ہر آنے والے دن میں بہتری آتی رہے۔ تبھی ہم آئندہ آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ تبھی ہم دنیا کی دین کو سمجھنے کی ضرورت کو بروقت پورا کر سکتے ہیں اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ بچے میں خود دین سیکھنے کی لگن ہو۔ اگر یہ ہو گا تو پھر ہی صحیح فہم و ادراک بھی حاصل کرنے کی توجہ ہو گی ورنہ مجبوری کا سیکھنا اور مجبوری کا وقف یہ فائدہ مند اور کارآمد نہیں ہو سکتا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ ہونے چاہیئں جو تفقّہ فی الدّین کریں یعنی آنحضرت ﷺ نے جو دین سکھایا ہے اس میں تفقّہ کر سکیں۔ پس ہمارے واقفِ زندگی اور خاص طور پر وہ جو دین سیکھ کر اپنی زندگیاں وقف کرنا چاہتے ہیں یا واقفینِ نو جو دنیا کے مختلف جامعات میں پڑھ رہے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ آنحضرت ﷺ نے جو دین سکھایا ہے وہ سیکھنا ہے۔ اور آپ ﷺ نے کیا دین سکھایا؟ آپ ﷺ نے ہمارے سامنے جو دین پیش کیا اور جس کا نمونہ قائم فرمایا اس کے بارہ میں حضرت عائشہ ؓ کا یہ بیان ہمارے لئے راہ عمل ہے کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآن کہ آپ کا خلق قرآن تھا ( مسند احمد بن حنبل جلد 8) آپﷺ کا دین قرآن کریم کے ہر حکم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا اور اسے پھیلانا تھا۔ پس آپ ﷺ کے اسوہ پر چلنے کا تو ہر مومن کو حکم ہے لیکن وہ لوگ جو تفقّہ فی الدّین کرنے والے ہیں، جو دین کو سمجھنے اور سیکھنے کا دعویٰ کرنے والے ہیں جو عام مومنین سے بڑھ کر خیر کی طرف بلانے والے ہیں، جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ نیکیوں کا حکم دینے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں ان کو کس قدر اس اسوہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پس جو واقفین زندگی ہیں ان کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن ایک مکمل شرعی کتاب ہے تو پھر تفقّہ فی الدّین کرنے والے اس بات کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں کہ اپنی زندگیوں کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تا کہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کر سکیں۔ اپنے نمونے قائم کر کے خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہوں۔ احسن رنگ میں تبلیغ اور تربیت کا فریضہ سرانجام دینے والے ہوں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

اب میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش رکھتا ہوں کہ آپؑ کیا چاہتے ہیں کہ کس قسم کے واقفین زندگی ہونے چاہیئں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور سے کچھ کر کے دکھانے والے ہوں۔ علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں ۔‘‘
پس میں یہاں تمام مبلغین اور جو دنیا کے مختلف جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں، ان پڑھنے والوں سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں، ہمیشہ اپنے جائزے لیتے رہیں کہ ہمارے علم اور عمل میں مطابقت ہے یا نہیں۔ وعظ تو ہم کر رہے ہوں کہ نمازوں میں سستی گناہ ہے اور خود نمازوں میں سستی ہو۔ خاص طور پر طلباء جامعہ احمدیہ جو ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیئے۔ بعض عملی میدان میں آئے ہوئے بھی سستی کر جاتے ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہیئے۔ دوسروں کو تو ہم یہ کہہ رہے ہوں کہ بد رسومات جو مختلف جگہوں پر ہوتی ہیں، مثلاً شادی بیاہ پر ہوتی ہیں ، یہ بدعات ہیں اور خلیفۂ وقت اور نظامِ جماعت ان کی اجازت نہیں دیتا۔ دین ان کی اجازت نہیں دیتا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نےسختی سے ان کو ردّ فرمایا ہے۔ اللہ اور رسول ان کو ردّ کرتے ہیں۔ لیکن اپنے بچوں یا اپنے عزیزوں کی شادیوں میں ان باتوں کا خیال نہ رہے یا ایسی شادیوں میں شامل ہو جائیں جن میں یہ بد رسومات کی جا رہی ہوں اور وہاں بیٹھے رہیں اور نہ انکو سمجھائیں اور نہ اٹھ کر آئیں تو یہ چیزیں غلط ہیں۔ پس اگر دین کا علم سیکھا ہے تو اس لئے کہ عالم باعمل بنیں اور بننے کی کوشش کریں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ واقفِ زندگی ایسے ہونے چاہیئں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں۔ اب ہر واقفِ زندگی جائزہ لے جو میدان عمل میں ہیں یا مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں اور وہ بھی جو جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور جب ہمیں جائزے لینے کی یہ عادت پڑے تو پھر ایک تبدیلی بھی پیدا ہو گی ان شا ء اللہ تعالیٰ۔
اس سال کینیڈا کے جامعہ احمدیہ سے بھی واقفینِ نو کی اور مربیان کی، مبلغین کی پہلی کھیپ نکل رہی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ باقی جگہوں سے بھی واقفینِ نو میں سے نکلنی شروع ہو جائے گی۔ بلکہ پاکستان میں تو ہو سکتا ہے کہ کچھ واقفینِ نو مربیان بن بھی چکے ہوں۔تو ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ عاجزی اور انکساری ایک مبلغ کا خاصہ ہونا چاہیئے لیکن وقار قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر آپؑ نے واقفین زندگی کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنےسے ان کی علمیت کامل درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔‘‘ پس یہ نہیں فرمایا کہ پہنچائیں۔ اتنا مطالعہ کریں کہ علمیت کامل درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ جامعہ میں پڑھنے کے دوران بھی اور میدان عمل میں بھی انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ یہی اس زمانے میں صحیح اسلامی تعلیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر آپؑ نے فرمایا کہ’’ قناعت شعار ہونا بھی ایک مبلغ اور مربی کے لئے ضروری ہے‘‘۔ اور اس قناعت شعاری کے بارہ میں جو معیار آپؑ نے مقرر فرمایا وہ یہ ہے کہ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ اگر ہماری منشاء کے مطابق قناعت شعار نہ ہوں، تب تک پورےاختیار بھی نہیں دے سکتے۔‘‘ یعنی جو قناعت شعار ہو گا اسی کو اس تبلیغ کا وقفِ زندگی کے کاموں کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ اور منشاء کیا ہے؟ فرمایا کہ ’’ آنحضرت ﷺ کے صحابہ ایسے قانع اور جفا کش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتوں پر ہی گذارہ کر لیتے تھے‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا اور خواہش کو پورا فرماتے ہوئے ایسے بزرگ مبلغین اپنے فضل سے عطا فرمائے ہیں جن کی قناعت قابل رشک تھی۔ آج مبلغین کو سہولتیں بھی ہیں لیکن ایک وقت ایسا تھا جب سہولتیں نہیں تھیں۔ جماعت کے مالی حالات بھی اب اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ممکن خیال رکھنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ گو بعض جگہ اب بھی تنگی اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن جب دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو ان مشکلات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہونی چاہیئے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ اور قادیان کے علاوہ دنیا کے بعض مغربی ممالک میں بھی مثلاً یوکے میں، جرمنی میں، کینیڈا میں جامعات قائم ہیں اورجیسا کہ میں نے کہا کہ کینیڈاکے جامعہ سے اس سال مربیان کی پہلی کھیپ فارغ ہو رہی ہے جو میدان عمل میں آئیں گے۔ اسی طرح انڈونیشیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں بھی جامعہ احمدیہ قائم ہیں۔ جہاں تک افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ کے جامعات کا تعلق ہے وہ تو وہیں کے رہنے والے طلباء ہیں جو عموماً وہیں تعینات بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ملکوں کے حالات میں گذارہ کرنے والے ہیں۔ لیکن مغربی ممالک میں جو طلباء اب میدان عمل میں آرہے ہیں اور ان شاء اللہ آئیں گے انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ بحیثیت واقفِ زندگی انہیں جہاں بھی بھیجا جائے انہوں نے تعمیل کرنی ہے اور جانا چاہیئے۔ یہی وقف کی روح ہے۔ اور ضروری نہیں ہے کہ ان کو یورپ میں لگایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں رہنے والے ادھر افریقہ میں بھیجے جائیں تو افریقہ کے سخت موسم سے پریشان ہو جائیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی خاطر وقف کر دیا تو پھر سختی کے لئے بھی تیار رہنا چاہیئے۔ جیسا کہ میں نے کہا اب سہولتیں بھی ہیں اور شروع میں جو مبلغین میدان عمل میں باہر گئے تھے ان کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان مبلغین کے بعض واقعات مَیں نے لئے ہیں تاکہ آپ کو احساس ہو کہ کس طرح وہ قربانی دیتے رہے اور کن حالات میں وہ گذارہ کرتے رہے ہیں۔

ہمارے ایک مبلغ تھے حضرت سید شاہ محمد صاحب۔ انہوں نے اپنا واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ میں تو متواتر اٹھارہ سال انڈونیشیا میں کام کرتا رہا اور اللہ کے فضل سے مَیں نے کبھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کیا۔ اپنا پورا وقار رکھا۔ بہت معمولی الاؤنس پر گذارہ ہوتا تھا۔ مشکل سے شاید دو وقت کی روٹی چلتی ہو۔ اپنی ہر حاجت کے لئے اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہا اور وہ میری حاجت روائی کرتا رہا۔ کہتے ہیں جب اٹھارہ سال بعد میری واپسی ہوئی تو مَیں بڑا خوش تھا۔ بحری جہاز کے ذریعے سے پاکستان کے لئے روانہ ہوا۔ اور کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک پرانی اچکن تھی اور دو ایک شلوار قمیض کے دھلے ہوئے جوڑے تھے اور کچھ نہیں تھا۔ کہتے ہیں مَیں بحری جہاز پر سفر کر رہا تھا۔ ہوائی جہاز کا تو اس وقت تصور ہی نہیں تھا۔ راستے میں مجھے خیال آیا کہ مَیں اتنے عرصے کے بعد ملک واپس جا رہا ہوں اور میرے پاس نئے کپڑے بھی نہیں ہیں جنہیں پہن کر مَیں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر اتروں گا۔ اس وقت مبلغین کراچی آیا کرتے تھے پھر وہاں سے ٹرین پر ربوہ پہنچتے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ مَیں انہیں خیالات میں تھا اور دعاؤں میں لگا ہوا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے دل میں بھی اس قسم کی خواہش نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ یہ وقف کی روح کے خلاف ہے۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے اس پر بڑی توبہ استغفار کی۔ اور پھر چند دن بعد جہاز سنگاپور میں پورٹ پر رکا۔ کہتے ہیں میں جہاز کے عرشے پہ کھڑا، ڈیک پہ کھڑا نظارہ کر رہا تھا کہ مَیں نے ایک شخص کو ایک گٹھڑی اٹھائے ہوئے جہاز پر چڑھتے دیکھا۔ وہ سیدھا جہاز کے کپتان کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھنے لگا۔ کپتان نے اسے میرے پاس بھیج دیا۔ وہ مجھے گلے ملا۔ بغلگیر ہو گیا اور کہا کہ وہ احمدی ہے اور درزی کا کام کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب الفضل میں مَیں نے پڑھا کہ آپ آ رہے ہیں اور رستے میں سنگاپور رُکیں گے تو مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ مَیں آپ کے لئے کوئی تحفہ پیش کروں۔ اور آپ کی تصویریں میں نے دیکھی ہوئی تھیں، قدکاٹھ کا اندازہ تھا میں نے آپ کے لئے کپڑوں کے دو جوڑے سیئے ہیں اور ایک اچکن اور ایک پگڑی تیاری کی ہے۔ درزی ہوں اور یہی کچھ پیش کر سکتا ہوں۔ آپ اسے قبول کریں۔ تو حضرت شاہ صاحب کہتے ہیں کہ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ کس طرح میرے خدا نے میری خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک احمدی کے دل میں تحریک کی جسے میں نہیں جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا۔ وہ مبلغین کو، مربیان کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر مبلغ صرف آستانۂ الہیٰ پر جھکا رہے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کیلئے سامان مہیا کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ واقفین زندگی سے، صرف مبلغین نہیں، ہر واقفِ زندگی سے یہ سلوک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میدانِ عمل میں آج بھی یہ نظارے دیکھتے ہیں۔

پھر مولانا غلام احمد صاحب فرخ کے بارہ میں ان کے ایک بیٹے نے لکھا کہ یہ بھی جماعت کی طرف سے ایک بڑا عرصہ باہر مبلغ رہے ہیں۔ جب واپس آئے تو حیدرآباد میں ان کی تعیناتی ہوئی۔ وہاں جماعت کی طرف سے ایک چھوٹا سا مکان مل گیا اور اس کی بھی کافی خستہ حالت تھی۔ کیونکہ یہ لمبا عرصہ باہر رہے تھے اس لئے ہم اس بات پر خوش تھے کہ ہمارے والد اب تو ہمارے ساتھ رہیں گے۔ لیکن مکان کی حالت کو دیکھ کر ایک دن ان کے چھوٹے بھائی نے حضرت مولانا غلام احمد صاحب فرخ کو اپنی سمجھ کے مطابق کہہ دیا کہ اباجان جماعت کو درخواست کریں کہ مکان کی مرمّت کروا دیں۔ حضرت مولانا فرخ صاحب تو صرف اپنے وقف کو نبھانا جانتے تھے۔ ان کو تو ان چیزوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔ انہوں نے بڑی محبت سے سارے بہن بھائیوں کو پاس بٹھایا اور بڑے طریقے سے، بڑی حکمت سے، بڑی دانائی سے واقفین کے گذر اوقات میں سادگی اور بودوباش میں عاجزی اور انکساری کو پیش کیا۔ انہوں نے یہ فرمایا کہ ہر خواہش کو دبانا اور ہر مطالبے سے اجتناب برتنا بھی وقفِ زندگی کا نصب العین ہے۔ میری دلی تمنا ہے کہ تم سب میرا سہارا بنو۔ قدم قدم پر زندگی کی تلخیوں کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کو خوش کرو۔ بچوں کو یہ نصیحت کی۔

پھر مولانا غلام احمد فرخ صاحب کے یہ بیٹے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے پاس آئے۔ اس وقت یہ فوج میں میجر تھے جب ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ بچے اچھی جگہ پر کاموں پر لگے ہوئے تھے۔ تو ہماری بچوں کی یہ خواہش تھی کہ ہم آپ کی کچھ خدمت کریں اور آپ ریٹائرمنٹ لے لیں۔ ہم نے اپنے والد کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں کل جواب دوں گا۔ اور ہم سب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے اور اطمینان ہوا کہ شاید مان جائیں۔ کل یہی جواب ہو گا کہ اچھا ٹھیک ہے میں تم لوگوں کے پاس آ جاتا ہوں۔ لیکن کہتے ہیں ہماری خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی۔ آپ نے ہمیں اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا میں ایک انتہائی عاجز انسان ہوں۔ تم لوگوں نے جو بات کل مجھے کہی تھی اس نے کل کا مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ خدا کے لئے دوبارہ مجھے یہ بات نہ کہنا۔ میں نے اپنے اللہ سے حلفاً یہ عہد کیا ہوا ہے کہ وقفِ زندگی کا ہر سانس بحیثیت واقفِ زندگی بسر کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس دنیا سے واپس بلا لے۔ ڈرتا ہوں کہ تمہاری ان باتوں سے میں تجدید ِعہد میں لغزش نہ کھا جاؤں۔ اس لئے دوبارہ تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ آج کے بعد مجھ سے کبھی اِس طرح نہ کہنا۔ یہ کہہ کر آپ کھڑے ہو گئے اور کہا ہمیشہ دعا کرتے رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور کئے ہوئے اپنے عہد پر پورا اتروں۔ پس یہ لوگ تھے جنہوں نے وقفِ زندگی کا اور قناعت کا حق ادا کیا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک واقفِ زندگی کے لئے فرماتے ہیں کہ ’’ سفر کے شدائد اٹھا سکیں‘‘

سفر کی جو مشکلیں اور صعوبتیں اور شدّتیں ہیں ان کو برداشت کر سکیں۔ گاؤں گاؤں پھر کر لوگوں کو ہماری بعثت کی اطلاع دیں۔ شروع میں ہمارے جو مبلغین افریقہ گئے ہیں اور ہندوستان میں بھی جو مبلغین تبلیغ کرتے تھے وہ سفر کی شدّت برداشت کیا کرتے تھے۔ سفر کی سہولتیں تو تھیں نہیں اور زادِ راہ بھی اتنا نہیں ہوتا تھا کہ جو سہولتیں میسر ہیں ان کا استعمال کر سکیں۔ اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ اور پھر نہ صرف یہ کہ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے تھے بلکہ مخالفتوں کا بھی ہندوستان میں بھی، باہر بھی اور افریقہ میں بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔

مولانانذیر احمد علی صاحب کے کئی ایسے واقعات ہیں جب انہیں گاؤں والوں نے دھتکار دیا اور انہوں نے راتیں باہر جنگل میں گزاریں۔ ساری ساری رات مچھروں میں بیٹھے رہے۔ وہاں افریقہ میں مچھر بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج افریقہ میں جماعت کی جو نیک نامی ہے اور جو ترقی ہے وہ انہی بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری جو خود بھی ایک دفعہ مولوی نذیر احمد علی صاحب کے ساتھ تھے، بیان کرتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران 1940ء میں ایک روز حضرت مولانانذیر احمد علی صاحب اور خاکسار (مولوی صدیق صاحب) نے سیرالیون کے قاصری نامی ایک تجارتی قصبے میں تبلیغ کے لئے پروگرام بنایا۔ وہ فری ٹاؤن سے چالیس میل دور تھا اور دریا کے دوسرے کنارے پر تھا اور کشتی کے ذریعے وہاں جانا پڑتا تھا۔ حضرت مولانانذیر احمد علی صاحب پہلے بھی وہاں اسلام کا پیغام پہنچا چکے تھے۔ اور اس تبلیغ کی وجہ سے مخالفت بڑھ گئی تھی۔ کہتے ہیں ہمارا یہ دوسرا دورہ تھا۔ اکثر وہاں کے لوگ فولانی قبیلے کے ہیں جنہیں اپنے اسلام پر بڑا ناز ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور صحیح مسلمان ہیں۔ اپنا تعلق نسل کے لحاظ سے عرب لوگوں سے ظاہر کرتے ہیں۔ بہرحال یہ لوگ وہاں گئے۔ ان فولانیوں نے اور مسلمانوں نے جھوٹی من گھڑت باتیں لوگوں میں پھیلا دی تھیں اس کی وجہ سے وہاں لوگوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اگر ہم دوبارہ آئے تو ہمیں وہاں ٹھہرنے کیلئے جگہ نہیں دیں گے۔ اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف تبلیغِ اسلام تھا۔ احمدیت کا پیغام پہنچانا، اسلام کا پیغام پہنچانا تھا اور اس کی حقیقی روح سے آ گاہ کرنا تھا۔ غیر مسلموں اور عیسائیوں کو باقاعدہ تبلیغ کرنا تھا۔ اس لئے ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ وہاں جا کر چند دن رہ کر اپنے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں ان کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔ بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ہم بذریعہ کشتی روانہ ہوئے اور مغرب کے وقت وہاں قاصری گاؤں میں پہنچ گئے۔ چند دن ٹھہرنے کا پروگرام تھا اور لیکچروں کا انتظام کرنا تھا۔ کہتے ہیں جب ہم کشتی سے اترے تو سیدھے چیف کے بنگلے میں گئے، کیونکہ چیف کو اس زمانے میں حکومت کی طرف سے مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے ایک گرانٹ ملا کرتی تھی۔ لیکن بہرحال ہمیں غلط طور پر بتایا گیا یا حقیقت تھی کہ چیف اپنے فارم پر گیا ہوا ہے اور وہ ابھی تک وہاں سے واپس نہیں آیا اور جو باقی ذمہ دار لوگ تھے وہ سب بڑی بے رخی اور مخالفت کا اظہار کر رہے تھے۔ بعض جو ان کے ہمدرد تھے وہ دوسروں کی مخالفت سے مرعوب ہو گئے تھے۔ اور کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ چند افریقن احمدی طالب علم تھے ان کو افریقن ہونے کی وجہ سے کہیں جگہ مل گئی اور وہ چلے گئے اور ہمارا سامان بھی ساتھ لے گئے۔ اور ہم وہیں گاؤں کے باہر جنگل میں پھر رہے تھے۔ بعض لبنانی تاجروں کے ساتھ رابطہ ہوا جن کی دکانیں وہیں دریا کے کنارے پر تھیں۔ بہرحال ایک لبنانی مسلمان جو تھا اس سے ہم نے کچھ عربی میں باتیں کیں۔ ہماری عربی سے متاثر ہوا اور اپنے ساتھ لے گیا اور وہاں تبلیغ شروع ہو گئی۔ اور اس نے پھر زور دے کر ہمیں رات کا کھانا بھی کھلایا ۔ لیکن رات کو ہم دس بجے لٹریچر وغیرہ کا ان سے وعدہ کر کے وہاں سے اٹھ کر آ گئے۔ نہ اس نے پوچھا ، نہ ہم نے بتا یا کہ ہمارے پاس تو رات کو ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ رات ہم پھر دریا کے کنارے آکر بیٹھ گئے اور وہ سارا علاقہ زہریلے سانپوں اور جنگلی جانوروں سے بھر اپڑا ہے۔ دریا کے کنارے مگر مچھ ہیں وہ بھی حملے کرتے رہتے تھے۔ اکثر وارداتیں ان کی ہوتی رہتی تھیں۔ لیکن اللہ نے اپنا فضل کیا۔ ان کو ہر جانور کے حملے سے محفوظ رکھا۔ ایسی حالت میں اب نیند تو آ نہیں سکتی تھی تو یہ لوگ گاؤں کے باہر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہلتے رہے۔ پھر کہتے ہیں کہ آدھی رات کو دریا کے کنارے ہم ریت پر بیٹھ گئے۔ قرآن کریم کے جو حصے ہمیں یاد تھے ایک دوسرے کو سنانے لگ گئے۔ پھر آیات کی تفسیر میں باتیں ہوتی رہیں۔ بہرحال یہ دینی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر کچھ رات گذری تو حضرت مولانانذیر احمد علی صاحب نے ایک لمبی پر سوز دعا کرائی کہ اللہ تعالیٰ اس گاؤں والوں کو ہدایت دے اور اسلام کی اور احمدیت کی ترقی اور اپنے نیک مقاصد کے لئے دعائیں کیں۔ پھر اس کے بعد ٹہلنا شروع کیا۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ تین بجے کے قریب ہم لوگ اٹھے اور گاؤں میں گئے کہ مسجد میں جا کر تہجد کی نماز پڑھیں۔ جب مسجد میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان کہلانے والوں کی مسجد کا یہ حال تھا کہ ایک دم اندھیرے میں عجیب قسم کی آوازیں آنا شروع ہوئیں اور تھوڑی دیر بعد وہاں مسجد سے بکریوں کا ریوڑ باہر نکلا۔ مسجد میں گند ڈالا ہوا تھا۔ کہتے ہیں ہم نے مسجد صاف کی اور پھر صفیں بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی۔ فجر کی نماز کا وقت ہوا۔ پھر ہم دونوں نے باری باری اذان دی۔ اور اذان دینے سے لوگ ہماری طرف آنا شروع ہوئے، غیر مسلم بھی آنا شروع ہوئے۔ ان کے جو بڑے مسلمان لیڈر تھے وہ اس لئے آ گئے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ رات جو کسی نے جگہ دے دی ہو اور انہوں نے ہماری مسجد پر قبضہ کر لیا ہو۔ خیر اس کے بعد ہم نے نماز پڑھی۔ وہ ہمیں نمازپڑھتے ہوئے دیکھتے رہے اور انہوں نے کہا کہ فرق تو کوئی نہیں ہے۔ یہ تو غلط مشہور ہوا ہے کہ ان کی اذان کا فرق ہے یا نماز میں فرق ہے۔ سوائے نماز کے کہ احمدی نماز ہاتھ باندھ کر پڑھ رہے تھے اور ان میں سے اکثریت کیونکہ وہاں مالکیوں کی ہے وہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں تو صرف یہ فرق ہے۔ بہرحال اتنا سا تعارف ہوا اور گاؤں والوں نے کوئی پذیرائی نہیں کی۔ مخالفت تو کم نہیں ہوئی۔ یہ شکر ہے کہ انہوں نے ان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا نہیں اور نماز پڑھ کے پھر یہ لوگ واپس آ گئے۔ تو ایسے حالات سے بھی گذرے لیکن بعد میں پھر اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا وہاں نفوذ کیا اور احمدیت ان علاقوں میں پھیلی۔ تو یہ تفقہ فی الدین کا حقیقی اور عملی اظہار ہے جو ہمارے مبلغین نے کیا۔

پس ایک واقفِ زندگی کو اپنی خواہشات کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔ شدائد سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہا آج بھی بعض جگہ یہ نمونے ہمیں نظر آتے ہیں اور دیکھے ہیں۔ لیکن ہمارے نئے شامل ہونے والے مربیان بھی، مبلغین بھی اور واقفینِ نو کو بھی ان باتوں کو سامنے ر کھ کر اپنے میدان میں بھی اور تعلیم کے دوران بھی اس طرح کام کرنا چاہیئے اور اس سوچ کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیئے کہ یہ جذبہ ہے جو ہم نے لے کر میدان عمل میں جانا ہے۔ میرے سامنے جامعہ کے بہت سارے طلباء بیٹھے ہوئے ہیں۔ ابھی سے ہی یہ سوچنا شروع کر دیں کہ اس کے بغیر ہم دین کو پھیلا نہیں سکتے۔ اور اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر میدانِ عمل میں سوائے گبھرا جانے کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ اور بعض تو بدقسمتی سے یہ سُن کر ہی کہ بعض دفعہ ان کی ٹرانسفر کی گئی تو وقف ختم کر دیا اور وقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس لئے ابھی سے اپنے آپ کو تیار کریں کہ ہمیں یہ سب قسم کی سختیاں برداشت کرنی ہیں۔ اور جامعہ میں پڑھنے والوں سے میں خاص طور پر یہ کہہ رہا ہوں کہ ابھی سے ان سختیوں کے بارے میں سوچ لیں۔ آج کل واقفینِ نو میں سے ایک بڑی تعداد (تعداد کے لحاظ سے تو ایک اچھی تعداد ہے لیکن واقفینِ نو کی نسبت کے لحاظ سے نہیں) جو مختلف ملکوں کے جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہی ہے۔ انہیں ہمیشہ پہلے اپنے والدین کے عہد کو، پھر اپنے عہد کو اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقعات کو سامنے رکھنا چاہیئے، اور ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیئے۔ یہ وفا کا مظاہرہ ہے جو ہر واقفِ زندگی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

یہ بھی یاد رکھیں کہ مربی اور مبلغ کا ایک وقار ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا، اس لئے عاجزی دکھائیں۔ بیشک عاجزی تو مبلغ کے لئے ضروری ہے لیکن وقار کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اپنی ضرورت، اپنی خواہش کا اظہار کسی کے سامنے نہ کریں ۔ جیسا کہ حضرت مولوی صاحب نے بھی نصیحت کی ہے کہ اپنی ضروریات کو ہمیشہ خدا کے سامنے پیش کرو۔ اور یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ضروریات پوری کرتا ہے۔ گھانا میں میدان میں رہا ہوں۔ بڑے مشکل حالات تھے۔ جو مانگنا ہے خدا تعالیٰ سے مانگیں۔ تنگی ترشی برداشت کر لیں، لیکن اپنے وقار کو کبھی نہ گرائیں۔ اور یہ باتیں صرف نئے آنے والوں کو نہیں کہہ رہا بلکہ پُرانوں کو بھی جو میدانِ عمل میں ہیں انہیں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے۔ بعض دفعہ بھول جاتے ہیں یا بعض دفعہ دنیا داروں کو دیکھ کر خواہشات بڑھ جاتی ہیں۔ ہر مربی جماعت کی نظر میں، مرکز کی نظر میں، افرادِ جماعت کی نظر میں خلیفۂ وقت کا نمائندہ ہے۔ پس کوئی ایسی حرکت نہیں ہونی چاہیئے جس سے اس نمائندگی پر حرف آتا ہو۔ بعض دفعہ بیوی بچوں کی وجہ سے مجبور ہو کر بعض ضروریات کا اظہار ہو جاتا ہے۔ جماعت اپنے وسائل کے لحاظ سے حتی الامکان واقفِ زندگی کو سہولت دینے کی کوشش کرتی ہے اور کرنی چاہیئے۔ لیکن جس طرح دنیا میں معاشی بدحالی بڑھ رہی ہے، غریب ممالک میں خاص طور پر بُرا حال ہو جاتا ہے۔ باوجود کوشش کے مہنگائی کا مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک مربی کا ایک واقفِ زندگی کا وقار اسی میں ہے کہ کسی کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر نہ کرے۔ جو رونا ہے خداتعالیٰ کے آگے روئیں، اسی سے مانگیں۔ میں نے پہلے جو بزرگوں کی مثالیں دی ہیں، آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی قربانیاں موجود ہیں۔ لیکن بعض بے صبرے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا وقف بھی توڑ جاتے ہیں۔ دوسروں کو دیکھ کر جب اپنی خواہشات کو پھیلایا جائے تو پھر یہ حال ہو جاتا ہے۔ اس سے مشکلات مزید بڑھتی ہیں۔ جب آپ اپنے ہاتھ، خواہشات کو دوسروں پر نظر رکھتے ہوئے پھیلاتے ہیں تو یا وقف توڑ دیں گے یا پھر مقروض ہو جائیں گے۔ پس اپنی چادر میں رہنا ہی ایک واقفِ زندگی کا کام ہے۔ اور اس حوالے سے میں واقفین زندگی کی بیویوں کو بھی کہوں گا کہ وہ بھی اپنے اندر قناعت پیدا کریں اور اپنے خاوندوں سے کوئی ایسا مطالبہ نہ کریں جو پورا نہ ہو اور واقفِ زندگی کو ابتلا میں ڈال دے۔ پس جس عظیم کام کیلئے اور جس عظیم مجاہدے کے لئے واقفین زندگی خاص طور پر مبلغین اور مربیان نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، ان کی بیویوں کا بھی کام ہے کہ اس کام میں، اس مجاہدے میں ان کی معاون بنیں۔

ایک مبلغ اور مربی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیئے۔ مدرسہ احمدیہ کے اجراء کے وقت آپؑ نے فرمایا کہ ’’یہ مدرسہ اشاعتِ اسلام کا ایک ذریعہ بنے اور اس سے ایسے عالم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نوکریوں اور مقاصد کو چھوڑ کر خدمتِ دین کو اختیار کریں، جو عربی اور دینیات میں توغّل رکھتے ہوں‘‘

یعنی علوم حاصل کرنے اور سمجھنے کی اُن میں ایک لگن ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مربیان مبلغین کو ان باتوں کو سامنے رکھنے اورعمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

واقفینِ نو کی ایک بڑی تعداد ایسےلڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے جو دینی علم حاصل کرنے کے لئے جامعہ میں داخل نہیں ہوتے اور مختلف میدانوں میں جاتے ہیں۔یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ جماعت کو ایسے واقفین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف فیلڈز میں جائیں اور جماعت کی خدمت کریں۔ اس لئے پڑھائی کی ہر سٹیج پر واقفینِ نو کو مرکز سے مشورہ کرنا چاہیئے کہ اب یہاں پہنچ گئے ہیں ہم آگے کیا کریں۔۔۔ ہمارا یہ یہ ارادہ ہے کیا کرنا چاہیئے؟ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساڑھے چودہ ہزار بچے اور بچیاں ہیں جو پندرہ سال سے اوپر ہو چکے ہیں ۔ کل تعداد تو چالیس ہزار ہے۔ ایک تو اس عمر میں ان کو خود وقف کے فارم پُر کرنے چاہیئں کہ وہ وقف قائم رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ یہ ہوش کی عمر ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ وقف کو قائم رکھنا ہے یا وقف نہیں کرنا۔ پہلے ماں باپ نے وقف کیا تھا اب واقفِ زندگی بچے نے، وقفِ نو بچے نے خود کرنا ہے۔ اگر قائم رکھنا ہے تو مرکز کو اطلاع ہونی ضروری ہے ۔ اور پھر رہنمائی بھی لیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔ ہم جامعہ میں تو نہیں جا رہے ، یہ یہ ہمارے شوق ہیں ، تعلیم میں ہمیں یہ دلچسپی ہے تو آپ ہماری رہنمائی کریں کہ ہم کون سی تعلیم حاصل کریں۔ بیشک جیسا کہ مَیں نے کہا اپنا شوق بتائیں ، اپنی دلچسپی بتائیں لیکن اطلاع کرناضروری ہے اور مختلف وقتوں میں پھر انکی رہنمائی ہوتی رہے گی۔
جیسا کہ مَیں نے کہا کہ سیکریٹریانِ وقفِ نو کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے اور اگر یہ فعال ہونگے تو اپنی متعلقہ جماعتوں کے واقفینِ نو بچوں سے معلومات لے کر مرکز کو اطلاع بھی کریں گے اور پھر مرکز یہ بتائے گا کہ کیا کام کرنا ہے کیا نہیں کرنا یا کیا آگے پڑھنا ہے یا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مرکز میں اپنی خدمات پیش کرنی ہیں۔ خود ہی فیصلہ کرنا واقفِ نو کا کام نہیں ہے، نہ ان کے والدین کا۔ اگر خود فیصلہ کرنا ہے تو پھر بھی بتا دیں کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اب میں وقفِ نو میں رہنا نہیں چاہتا تا کہ اس کو وقفِ نو کی لسٹ سے خارج کر دیا جائے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

گو کہ اب تک یہی ہدایت ہے کہ پندرہ سال کے بعد جب اپنا وقف کا فارم فِل کر دیا تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہےلیکن اب میں یہ راستہ بھی کھول دیتا ہوں۔ تعلیم مکمل کر کے دوبارہ لکھیں اور یہ لکھوانا بھی سیکریٹریانِ وقفِ نو کا کام ہے۔ اور اس کی مرکز میں باقاعدہ اطلاع ہونی چاہیئے کہ ہم نے یہ تعلیم مکمل کر لی ہے اور اب ہم اپنا وقف جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں رکھنا چاہتے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

پندرہ سال سے اوپرکی جو تعداد ہے اس کا تقریباً دس فیصد یعنی 1426 کے قریب مختلف ممالک کے جامعہ احمدیہ میں واقفینِ نو پڑھ رہے ہیں یعنی نوّے فیصد اپنی دوسری تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں یا پڑھائیاں چھوڑ بیٹھے ہیں یا کوئی پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس بارہ میں بھی باقاعدہ رپورٹ تیار ہونی چاہیئے۔ میرا نہیں خیال کہ نوّے فیصد کے بارے میں مرکز کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ واقفینِ نو بچے کیا کر رہے ہیں ۔ان کی رپورٹ تیار ہو۔ سیکریٹریانِ وقفِ نو سے مَیں کہہ رہا ہوں کہ ان کی رپورٹ تیار ہو اور یہ رپورٹ مرکز میں بھجوائیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

اسی طرح واقفینِ نو کے لئے، چاہے وہ جامعہ میں پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے یا کوئی دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، دینی تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اور ان کے لئے بھی سلیبس بنایا گیا ہے۔ پہلے پندرہ سال کے بچوں کے لئے تھا اب انیس سال تک کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس کو پڑھنا اور اس کا امتحان دینا بھی ضروری ہے اور یہ انیس سال والا بیس سال تک بھی ایکسٹینڈ کیا جا سکتا ہے۔ تو اس میں شامل ہونا اور اس میں واقفینِ نو کے سیکریٹریان کی یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ سو فیصد شمولیت ہو، یہ بھی ضروری ہے اور پھر ان کے نتائج مرکز میں بھجوائے جائیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

مختلف اوقات میں یہاں مرکز سے بھی شعبہ وقفِ نو سے ہدایات جاتی رہتی ہیں اُن کے بارہ میں بعض جماعتیں بلکہ اکثر جماعتیں جواب ہی نہیں دیتیں۔ ان کی یاد دہانی کے لئےگو کہ بعض باتیں پہلے بھی آ گئی ہیں لیکن جو سرکلر جاتے ہیں وہ مَیں دوبارہ آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں

مثلاً ایک ہدایت یہ ہے کہ وقفِ نو میں شمولیت کے لئے لازمی ہے کہ ولادت سے قبل والدین خود تحریری طور پر خلیفۂ وقت کو درخواست دیں اور بعض دفعہ بعض لوگ بعد میں، پیدائش کے بعد درخواستیں بھیجتے ہیں کہ ہمیں بھول گیا تھا یا فلاں مجبوری ہو گئی تھی تو یہ ٹھیک نہیں ۔ شروع میں درخواست دینی ضروری ہے اور انہیں کا قبول کیا جاتا ہے جو پہلے درخواست دیتے ہیں اور یہی پہلے دن سے وقفِ نو کے شعبے کا اصول رہا ہے۔ یہاں صرف ایک بات کی مَیں وضاحت کر دوں کہ لوگ خط لکھتے ہیں وقفِ نو میں درخواست دیتے ہیں، اس میں اپنے بعض دوسرے مسائل بھی لکھ دیتے ہیں۔ اور کیونکہ یہ شعبے جنہوں نے جواب دینے ہیں مختلف ہیں۔ وقفِ نو کا جواب وقفِ نو کا شعبہ دے گا ۔ خط کے باقی حصے کا جواب دوسرے حصے نے دینا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ عورتیں اور مرد جو اپنے بچوں کیلئے وقفِ نو کے لئے لکھتے ہیں اگر انہوں نے اپنے خطوط میں دوسرے مسائل لکھنے ہوں تو دوسرے خط میں علیحدہ لکھا کریں۔ پھر یہ کہ واقفینِ نو بچے بچی کے جو والدین ہیں خود یہ درخواست کریں۔ انکے رشتے داروں کی درخواستیں جو ہیں وہ منظور نہیں ہوں گی۔ دعا تو آپ نے اپنے بچوں کو وقف کرنے کےلئے کرنی ہے ، اسلئے درخواست بھی خود دینی ہو گی کیونکہ تربیت اور تعلیم اور دعا سب آپکی ذمہ داری ہے۔
اور پھر یہ ہے کہ بعض علاقوں میں افریقہ وغیرہ میں جہاں بعض دفعہ پوری طرح ہدایات پر عمل نہیں ہوتا۔ اوّل تو ان کا اپنے رجسٹروں میں ویسےنام لکھ لیا جاتا ہے کہ جی بچہ ہوا ان سے کہا وقفِ نو میں شامل کر لو وقفِ نو ہو گیا۔ جب تک مرکز کی طرف سے کسی کو وقفِ نو میں شامل ہونے کی کلیرنس نہیں ملتی کوئی بچہ وقفِ نو میں شامل نہیں ہو سکتا اور پیدائش کے بعد تو سوال ہی نہیں۔ اور اسی طرح جو گود میں لینے والے بچے ہیں اگر وہ اپنے عزیز رشتہ داروں کے ہیں تو اس کی بھی ولادت کے وقت سے پہلے اطلاع ہونی چاہیئے کہ بچہ وقفِ نو میں شامل کرنا ہے۔ اور بیشک گود آپ نے لیا ہو کسی بھی زید یا بکر نے لیکن ولدیت میں اسی کا نام لکھا جائے گا جس کا وہ حقیقی بچہ ہے۔
پھر پیدائش کے بعد یہ بھی لازمی ہے کہ والدین مرکزی ریکارڈ میں بچے کا اندراج کروائیں اور حوالہ نمبر درج کریں۔ والدین بعض دفعہ لمبا عرصہ اندراج نہیں کرواتے اور اس کے بعد پھر یاد دہانی کے باوجود اندراج نہیں کرواتے اور پھر کئی سالوں کے بعد یہ شکایتیں لے کر آ جاتے ہیں کہ ہمارے بچے کا ریکارڈ نہیں ہے تو یہ ذمہ داری بھی والدین کی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

اسی طرح جب بچے پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو مقامی اور نیشنل سیکریٹریانِ وقفِ نو ان کے وقف کی تجدید کروائیں۔ پہلے بھی مَیں بتا چکا ہوں، بلکہ اب مَیں نے کہا ہے کہ جو یونیورسٹیوں ، کالجوں میں پڑھ رہے ہیں وہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی تجدید کریں۔ کیونکہ اب اس ریکارڈ کو بہت زیادہ اَپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو باقاعدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر ہم آگے اپنی جو بھی سکیم ہے، جماعت کی ضروریات ہیں، ان کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہمیں ان کا یہ پتا لگ سکتا ہے کہ ہمیں کس کس شعبے میں کتنے لوگوں کی اب ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

بعض دفعہ والدین کے لئے ایک بڑے صدمے والی بات ہوتی ہے کہ بچہ معذور پیدا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں بھی وقفِ نو میں تو شامل نہیں ہوتا۔ گو یہ والدین کے لئے دوھرا صدمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کوئی اوربہتر صورت کرے یاایسے والدین کو نعم البدل اولادعطا کرے۔
پھراسی طرح ایسے والدین جن کو کسی وجہ سے اخراج از جماعت کی تعزیر ہو جاتی ہے ،عموماً یہی ہوتا ہے کہ جماعت کی بات نہیں مانی یا کسی فیصلہ یا جماعتی روایات پر عمل نہیں کیا، تو ان بچوں کا نام بھی اس لئے فہرست میں سے خارج کر دیا جاتا ہے کہ جو والدین خود اپنے آپ کو اس معیار پر نہیں رکھنے والے کہ جہاں جماعت کی پوری اطاعت اور نظامِ جماعت کا احترام ہو تو وہ اپنے بچوں کی کیا تربیت کریں گے۔ اس لئے سیکریٹریانِ وقفِ نو بھی یہ نوٹ کر لیں کہ اگر ایسی کوئی بات ہو کسی کے بارے میں کوئی تعزیر ہو تو ایسے لوگوں کی بھی فوراً مرکزمیں اطلاع کریں۔ یہ سیکریٹریانِ وقفِ نو کا کام ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

اور اسی طرح یہ تو مَیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یونیورسٹیوں میں پڑھنا چاہیں تو بتا دیں اور پہلے اجازت لے لیں۔ اور جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر چکے ہوں اور اپنا وقف میں رہنا بھی کنفرم کیا ہوا ہو تو ان کے لئے بھی لازمی ہے کہ وقتاً فوقتاً جماعت سے رابطہ رکھیں کہ اب ہم کام کر رہے ہیں، کام کرنے کا عرصہ اتنا ہو گیا ہے۔ فی الحال اکثریت کو اجازت دی جاتی ہے کہ اپنے کام جاری رکھو ۔ جب جماعت کو ضرورت ہو گی بُلا لے گی لیکن ان کا کام یہ ہے کہ ہر سال اس کی اطلاع دیتے رہیں۔ اسی طرح جو دوسرے پیشے کے لوگ ہیں جو اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کر سکے لیکن دوسرے پیشوں میں مختلف قسم کے skills ہیں ، ان میں Professions ہیں، ان میں چلے گئے ہیں تو ان کو بھی اپنے مکمل کرنے کے بعد ٹریننگ یا ڈپلومہ وغیرہ کی اطلاع کرنی چاہیئے۔
اللہ تعالیٰ ان سب واقفینِ نو اور تمام واقفاتِ نو کو جماعت کے لئے بھی مفید وجود بنائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان لوگوں کی جو جماعت کی امانت ہیں جو قوم کی امانت ہیں احسن رنگ میں تربیت بھی کر سکیں اور جماعت کے لئےایک مفید وجود بنانے میں ان کی مدد بھی کرنے والے ہوں ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 22 اکتوبر 2010۔  الفضل انٹرنیشنل  12 نومبر 2010ء۔جلد 17 شمارہ 46۔ صفحہ 5 تا 9)

اِذْ قَالَـتِ امْـرَاَتُ عِـمْـرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَـذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَـطْنـِیْ مُـحَرَّرًا فَـتَـقَـبَّلْ مِـنِّی ج اِنَّکَ اَنْـتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْـمُ

فَـلَـمَّا بَـلَـغَ مَـعَـہُ السَّـعْیَ قَالَ یٰـبـُـنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْـمَـنَامِ اَنِّیْٓ اَذْ بَـحُـکَ فَانْــظُرْ مَاذَا تَـرٰی ط قَالَ یٰٓــاَبَـتِ افْـعَلْ مَا تُــؤْمَــرُ ز سَـتَـجِدُنِیْٓ اِنْ شَـآ ءَ اللّٰہُ مِنَ الـصّٰـبِرِیْنَ

وَ لْـتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّـۃٌ یَّـدْ عُـوْ نَ اِلَی الْـخَیـْرِ وَ یَـاْ مُـرُوْنَ بِالْـمَـعْـرُوْفِ وَ یَـنْـھَـوْنَ عَنِ الْـمُـنْکَـرِ ط وَ اُولٰٓـئــِکَ ھُـمُ الْـمُـفْلِـحُـوْنَ

وَ مَا کَانَ الْـمُـؤْ مِـنُـوْنِ لِـیَـنْـفِـرُوْا کَآ فَّــۃً ط فَلَوْ لَا نَفَـرَ مِنْ کُلِّ فِرْ قَـۃٍ مِّـنْــھُـمْ طَآ ئِــفَـۃٌ لِّـیَـتَـفَــقَّـھُـوْا فِی الـدِّیْنِ وَ لِـیُـنْـذِرُوْا قَوْمَـھُـمْ اِذَا رَجَـعُــوْٓا اِلَـیْــھِـمْ لَـعَلَّھُـمْ یَـحْذَرُوْنَ


ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ: جب عمران کی ایک عورت نے کہا اے میرے ربّ! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے یقیناًوہ میں نے تیری نذر کردیا دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے۔ پس تُو مجھ سے قبول کرلے۔ یقیناً تُو ہی بہت سننے والا (اور)بہت جاننے والا ہے۔

پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا اُس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! یقیناًمیں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، پس غور کر تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا اے میرے باپ! وہی کر جو تجھے حکم دیا جاتا ہے۔ یقیناًاگر اللہ چاہے گا تو مجھے تُو صبر کرنیوالوں میں سے پائے گا۔

اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیکی کی تعلیم دیں اور بدیوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

مومنوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ تمام کے تمام اکٹھے نکل کھڑے ہوں۔ پس ایساکیوں نہیں ہوتا کہ ان کے ہر فرقہ میں سے ایک گروہ نکل کھڑا ہو تا کہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو خبردار کریں جب وہ ان کی طرف واپس لوٹیں تاکہ شاید وہ (ہلاکت سے ) بچ جائیں۔

آیات میں پیش ہونے والے مضامین کا خلاصہ

یہ آیات سورۃ اٰلِ عمران، سورۃ الصّٰٓفّٰت اور سورۃ التوبہ کی آیات ہیں۔ ان آیات میں ماں کی خواہش، ماں باپ کی بچوں کی صحیح تربیت، بچو ں کے احساسِ قربانی کو اجاگر کرنا اور اس کے لئے تیار کرنا، وقفِ زندگی کی اہمیت اور کام، اور پھر یہ کہ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ یہ بیان کیا گیا ہے ۔

پہلی آیت جو سورہ آلِ عمران کی ہے۔ یہ 36 ویں آیت ہے۔ اس میں ایک ماں کا بچے کو دین کی خاطر وقف کرنے کی خواہش کا اظہار ہے۔ اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکو قبول کرلے۔

پھر سورۃ الصّٰٓفّٰت کی آیت ہے 103۔جو اسکے بعد مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں خداتعالیٰ کی خاطر قربانی کے لئے تیارکرنے کی خاطر باپ کا بیٹے کی تربیت کرنا اور بیٹے کا خدا تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہونے کا ذکر ہے۔ باپ کی تربیت نے بیٹے کو خداتعالیٰ کی رضا کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور بیٹے نےکہا کہ اے باپ تو ہر قسم کی قربانی کرنے میں مجھے ہمیشہ تیارپائے گااور نہ صرف تیار پائے گا بلکہ صبر واستقامت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والا پائے گا۔

پھر سورہ آلِ عمران کی آیت 105 میں نے تلاوت کی جس میں نیکیوں کے پھیلانے اور پھیلاتے چلے جانے والے اور بدیوں سے روکنے والے گروہ کا ذکر ہے۔ کیونکہ یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن کرایک انسان کو کامیاب کرتی ہیں۔

پھر سورہ توبہ کی 122 ویں آیت ہے جو میں نے آخر میں تلاوت کی ہے۔ اس میں فرمایا کہ نیکی بدی کی پہچان کے لئے دین کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور دین کا فہم کیا ہے یہ شریعت اسلامی ہےیا قرآن کریم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی پسند حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے وہ یہ بیان فرمایا کہ تا کہ تم دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے بن سکو۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پس یہ وہ مضمون ہے جس کا حق ادا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے سے جماعت احمدیہ کاقیام فرمایا۔ یہی وہ جماعت ہے جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے ماؤں کی دعائیں بھی ہمیں صرف اس جذبے کے ساتھ نظر آتی ہیں اس جذبے کو لئے ہوئے نظر آتی ہیں کہ

رَبِّ اِنِّی ْ نَـذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَــطْنِیْ مُحـَـرَّرًا فَـتَـقَـبَّـلْ مِـنِّیْ
اے میرے ربّ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں آزاد کرتے ہوئے یعنی دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے پس تو اسے قبول فرما۔

آج آپ نظر دوڑاکر دیکھ لیں سوائے جماعت احمدیہ کی ماؤں کے کوئی اس جذبے سے بچے کی پیدائش سے پہلے اپنے بچوں کو خدا تعا لیٰ کی راہ میں قربان کر نے کے لئے پیش کرنے کی دعا نہیں کرتی۔ کو ئی ماں آج احمدی ماں کے علاوہ ہمیں نہیں ملے گی جو یہ جذبہ رکھتی ہو۔ چاہے وہ ماں پاکستان کی رہنے والی ہے یا ہندوستان کی ہے یا ایشیا کے کسی ملک کی رہنے والی ہے یا افریقہ کی ہے، یورپ کی رہنے والی ہے یا امریکہ کی ہے، آسٹریلیا کی رہنے والی ہے یا جزائر کی ہے۔ جو اس ایک اہم مقصد کے لئے اپنے بچوں کو خلیفۂ وقت کو پیش کرکے پھر خدا تعالیٰ سے یہ دعا نہ کررہی ہو کہ اے اللہ تعالیٰ ہمارے یہ وقف قبول فرمالے۔ یہ دعا کرنے والی تمام دنیا میں صرف اور صرف احمدی عورت نظر آتی ہے۔ ان کو یہ فکر ہوتی ہے کہ خلیفۂ وقت کہیں ہماری درخواست کا انکا ر نہ کردے۔ اور یہ صورت کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتی۔ یہ جذبہ کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ خلافت کے سائے تلے رہنے والی یہی ایک جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعے سے قائم فرمایا ہے۔
اور پھر اس پر بس نہیں جماعت احمدیہ میں ہی وہ باپ بھی ہیں جو اپنے بچوں کی اس نہج پہ تربیت کرتے ہیں کہ بچہ جوانی میں قدم ر کھ کر ہر قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے اور خلیفۂ وقت کو لکھتا ہے کہ پہلا عہد میرے ماں باپ کا تھا دوسرا عہد اب میراہے۔ آپ جہاں چاہیں مجھے قربانی کے لئے بھیج دیں۔ آپ مجھے ہمیشہ صبر کرنے والوں او ر استقامت دکھانے والوں میں پائیں گے اور اپنے ماں باپ کے عہد سے پیچھے نہ ہٹنے والوں میں پائیں گے۔ یہ وہ بچے ہیں جو امّتِ محمدیہ کے باوفا فرد کہلانے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی امّت میں ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ ماں باپ کی تربیت اور بچے کی نیک فطرت نے انہیں حقو ق اللہ کی ادائیگی کے بھی رموز سکھائے ہیں اور حقو ق العباد کی ادائیگی کے بھی معیار سکھائے ہیں۔ جنہیں دین کا فہم حاصل کرنے کا بھی شوق پیدا ہوا ہے اور اسے زندگی پرلاگو کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوئی ہے اور پھر اس کے ساتھ تبلیغ اسلام اور خدمت انسانیّت کے لئے ایک جوش اور جذبہ بھی پیدا ہوا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندہ قومیں اور ترقی کرنے والی جماعتیں ان احساسات ، ان خیالات، ان جذبوں اور ان عہد پورا کرنے کی پابندیوں کوکبھی مرنے نہیں دیتیں۔ ان جذبوں کو ترو تازہ رکھنے کے لئے ہمیشہ ان باتوں کی جگالی کرتی رہتی ہیں۔ اگر کہیں سستیاں پیدا ہورہی ہوں تو ان کو دور کرنے کے لئے لائحہ عمل بھی ترتیب دیتی ہیں اور خلافت کے منصب کا تو کام ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم ذَکِّر پر عمل کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرواتا رہے تاکہ جماعت کی ترقی کی رفتار میں کبھی کمی نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک کے بعد دوسرا گروہ تیار ہوتا چلاجائے۔ جس طرح مسلسل چلنے والی نہریں زمین کی ہَریالی کا باعث بنتی ہیں اسی طرح ایک کے بعد دوسرا دین کی خدمت کرنیوالا گروہ روحانی ہریالی کا باعث بنتا ہے۔ جن علاقوں میں کھیتوں میں ٹیوب ویلوں یا نہروں کے ذریعوں سے کاشت کی جاتی ہے وہاں کے زمیندار جانتے ہیں کہ اگر ایک کھیت کو پانی مکمل لگنے سے پہلے پانی کا بہاؤ ٹوٹ جائے، پیچھے سےبند ہوجائے ، تو پھر نئے سرے سے پورے کھیت کو پانی لگانا پڑتا ہے۔ اور پھر وقت بھی ضائع ہوتا ہےاور پانی بھی۔ اسی طرح اگر اصلاح اور ارشاد کے کام کے لئے مسلسل کو شش نہ ہو یا کو ششیں کرنے والے مہیا نہ ہوں تو پھر ٹوٹ ٹوٹ کر جو پانی پہنچتاہے، جو پیغام پہنچتا ہے، جو کوشش ہوتی ہے وہ سیرابی میں دیر کردیتی ہے۔ تربیتی اور تبلیغی کاموں میں روکیں پیدا ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایسے گروہ ہر وقت تیار رہنے چاہئیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے بہاؤ کو کبھی ٹوٹنے نہ دیں۔

پس اسلئے میں آج پھر اس بات کی یاددہانی کروارہا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الربع ؒ نے وقفِ نو کی جو سکیم شروع فرمائی تھی تو اس امید پر اور اس دعا کیساتھ کہ دین کی خدمت کرنیوالوں کا گروہ ہر وقت مہیا ہو تا رہے گا، یہ پانی کا بہاؤ کبھی ٹوٹے گا نہیں ۔ جماعت کے لٹریچر کا ترجمہ کرنیوالے بھی جماعت کو مہیا ہوتے رہیں گے۔ تبلیغ اور تربیت کے کام چلانے والے بھی بڑی تعداد میں مہیا ہوتے رہیں گے۔ اور نظامِ جماعت کے چلانے کےدوسرے شعبوں کو بھی واقفین کے گروہ مہیا ہوتے رہیں گے۔ پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

ماں باپ کو اپنے بچوں کو پیش کرنے کے بعد اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو جانا چاہئے۔ بے شک بچوں کو واقفینِ نو میں پیش کرنے کا جذبہ قابلِ تعریف ہے۔ ہر سال ہزاروں بچوں کو واقفینِ نو میں پیش کرنیکی درخواستیں آتی ہیں لیکن ان درخواستوں کے پیش کرنے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان بچوں کو اس خاص مقصد کے لئے تیار کرنا جو دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا مقصد ہے اس کی تیاری کے لئے سب سے پہلےماں باپ کو کوشش کرنی ہوگی۔ اپنا وقت دے کر، اپنے نمونے قائم کرکے، بچوں کو سب سے پہلے خدا تعالیٰ سے جوڑنا ہوگا۔ بچوں کو نظامِ جماعت کی اہمیت اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہونے کے لئے بچپن سے ہی ایسی تربیت کرنی ہوگی کہ ان کی کوئی اور دوسری سوچ ہی نہ ہو۔ ہوش کی عمر میں آکر جب بچے واقفینِ نو اور جماعتی پروگراموں میں حصّہ لیں تو ان کے دماغوں میں یہ راسخ ہو کہ انہوں نے صرف اور صرف دین کی خدمت کے لئے اپنے آپکو پیش کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کے دماغ میں ڈالیں کہ تمہاری زندگی کا مقصد دین کی تعلیم حاصل کرنا ہے ۔ یہ جو واقفینِ نو بچے ہیں ان کے دماغوں میں یہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

دین کی تعلیم کے لئے جو جماعتی دینی ادارے ہیں ان میں جانا ضروری ہے۔ جامعہ احمدیہ میں جانے والوں کی تعداد واقفینِ نو میں کافی زیادہ ہونی چاہیئے۔ لیکن جو اعدادو شمار میرے سامنے ہیں ان کے مطابق سوائے پاکستان کے تمام ملکوں میں یہ تعداد بہت تھوڑی ہے۔ پاکستان میں تو اللہ کے فضل سے اس وقت 1033 واقفینِ نو جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں ۔ اور انڈیا میں جو تعداد سامنے آئی ہے وہ 93ہے۔ یہ میرا خیال ہے کہ شاید اس میں شعبہ وقفِ نو کو غلطی لگی ہو۔ اس سے تو زیادہ ہونے چاہیئں۔ بہر حال اگر اس میں غلطی ہے تو انڈیا کا جو شعبہ ہے وہ اطلاع دے کہ اس وقت جامعہ احمدیہ میں ان کے واقفینِ نو میں سے کتنے طلباء پڑھ رہے ہیں۔ جرمنی میں 70 ہیں۔ یہ رپورٹ ہے پچھلے جون تک ہے۔ اب وہاں 80 سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ صرف جرمنی کے نہیں اس میں یورپ کے مختلف ممالک کے بچے بھی شامل ہیں ۔ کینیڈا کے جامعہ احمدیہ میں 55 ہیں۔ اب اس میں کچھ تھوڑی سی تعداد شایدبڑھ گئی ہو۔ اس میں امریکہ کے بھی شامل ہیں۔ یوکے کے جامعہ میں گزشتہ رپورٹ میں 120 تھے۔ شاید اسمیں دس پندرہ کی کچھ تعداد بڑھ گئی ہو ۔ یہاں بھی یورپ کے دوسرے ممالک سے بچے آتے ہیں۔ گھا نا میں 12 ہے۔ یہ شایدوہاں جو نیا جامعہ شاہد کروانےکیلئےشروع ہوا ہے اس کی تعداد انہوں نے دی ہے۔ اسیطرح بنگلہ دیش میں 23 ہیں اوریہ کل تعداد جو اب تک دفتر کے شعبے کے علم میں ہے وہ 1400ہے جبکہ واقفینِ نو لڑکوں کی تعداد تقریباً 28 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے
ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر، ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ ہر جگہ ، ہر برّ اعظم میں نہیں، ہر ملک میں نہیں، ہر شہر میں نہیں، بلکہ ہر قصبے میں، ہر گاؤں میں۔ دنیاکے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کو پہنچانا ہے۔ اس کیلئے چند ایک مبلغین کام کو انجام نہیں دے سکتے۔
بچوں میں وقفِ نو ہونے کی جو خوشی ہوتی ہے بچپن میں تو اس کا اظہار بہت ہورہا ہوتا ہے لیکن اس یورپی معاشرے میں ماں باپ کی صحیح توجہ نہ ہونے کی وجہ سے، دنیاوی تعلیم سے متاثر ہوجانے کی وجہ سے یا اپنے دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھنے کی وجہ سے جامعہ کے بجائے دوسرے مضامین پڑھنے کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ بعض بچپن میں تو کہتے ہیں جامعہ میں جانا ہے۔ لیکن جب جی سی ایس سی پاس کرتے ہیں، سیکنڈری اسکولز پاس کرتے ہیں تو پھر ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بعض بچے بے شک ایسے ہوتے ہیں جو خاص ذہن رکھتے ہیں ان کے رحجانات کا بچپن سے ہی پتا چل جاتا ہے۔ ان کو بعض مضامین میں غیر معمولی دلچسپی ہوتی ہے۔ مثلاً سائنس کے بعض مضامین ہیں۔ اور اس میں ان کا دماغ بھی خوب چلتا ہے۔ انکو یقیناًاس مضمون کو لینےاور ان مضامین کو پڑھنے کی طرف انکرج کرنا چاہیئے۔ لیکن اکثریت صرف بھیڑ چال کی وجہ سے سیکنڈری اسکولز کرنے کے بعد اپنے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ اکثر بچے جب مجھے ملتے ہیں ، مَیں ان سے پوچھتا ہوں تو دسویں ( یہاں year ten کہلاتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ میں گریڈ کہلاتا ہے) اور جی سی ایس سی تک انکے ذہن میں کچھ نہیں ہوتا۔ ذہن بنا ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے کونسے مضامین لینے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پس اگر ماں باپ کی تربیت شروع میں ایسی ہو کہ بچے کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ مَیں واقفِ نو ہوں اور جو کچھ میرا ہے وہ جماعت کا ہے تو پھر صحیح وقف کی روح کے ساتھ یہ بچے کام کر سکیں گے۔ اور مضامین کے چناؤ کے لئے بھی ان میں مرکز سے، جماعت سے رہنمائی لینے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اس وقت صرف جماعت احمدیہ میں ایسے ماں باپ ہیں جو ایک جذبے سے اپنے بچے وقف کرتے ہیں اور پھر ان کی تربیت بھی ایک جذبے اور درد سے کرتے ہیں کہ بچے جماعت کی خدمت کرنے والے اور وقف کی روح کو قائم کرنے والے ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اکثریت جو اپنے بچوں کو وقفِ نو میں بھیجتی ہے وہ پھر ان کی تربیت کی طرف بھی اس طرح خاص توجہ دیتی ہے۔ پس ماں باپ کو ، اُن ماں باپ کو جو اپنے بچوں کو وقفِ نو میں بھیجتے ہیں یہ جائز ے لینے ہونگے کہ وہ اِس تحفے کو جماعت کو دینے میں اپنا حق کس حد تک ادا کر رہے ہیں؟ کس حد تک اس تحفے کو سجانے کی کوشش کررہے ہیں؟ کس حد تک خوبصورت بنا کر جماعت کو پیش کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں؟ وہ اپنے فرائض کس حد تک پورے کر رہے ہیں؟ ان ملکوں میں رہتے ہوئے جہاں ہر طرح کی آزادی ہے، خاص طور پر بہت توجہ اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایشیا اور افریقہ کے غریب ملکوں میں بھی بچے کو وقف کرکے بے پرواہ نہ ہو جائیں۔ بلکہ ماں اور باپ دونوں کا فرض ہے کہ خاص کوشش کریں ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

واقفینِ نو بچوں کو بھی میں کہتا ہوں جو بارہ تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔ اپنی اہمیت پر غور کریں۔ صرف اس بات پر خوش نہ ہوجائیں کہ آپ وقفِ نو ہیں۔ اہمیت کا پتہ تب لگے گا جب اپنے مقصد کا پتہ لگے گا۔کہ کیا آپ نے حاصل کرناہے اس کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور پندرہ سال کی عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کو تو اپنی اہمیت اور اپنی ذمہ داریوں کا بہت زیادہ احساس ہو جانا چاہیے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

ان آیات میں صرف ماں باپ یا نظامِ جماعت کی خواہش یا ایک گروہ یا چند لوگوں کی خواہش اور ذمہ داری کا بیان نہیں ہوا بلکہ بچوں کو بھی توجہ دلائی گئی ہے۔

پہلی بات

جو ہر وقفِ نو بچے میں پیدا ہو نی چاہیے وہ اس توجہ کی روشنی میں یہ بیان کررہا ہوں اور وہ ان آیات میں آئی ہے کہ اس کی ماں نے اس کی پیدائش سے پہلے ایک بہت بڑے مقصد کے لئے اسے پیش کرنے کی خواہش دل میں پیدا کی۔ پھر اس خواہش کے پورا ہونے کی بڑی عاجزی سےدعا بھی کی ۔ پس بچے کو اپنے ماں باپ کی، کیونکہ اس خواہش اور دعا میں بعد میں باپ بھی شامل ہو جاتا ہے، ان کی خواہش اور دعا کا احترام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نذر ہونے کا حقدار بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اپنے دل ودماغ کو ، اپنے قول وفعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنانے کی طرف توجہ ہو۔

دوسری بات

یہ کہ ماں باپ کا آپ پر یہ بڑا احسان ہے اور یہ احسان کرنیکی وجہ سےان کےلئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ آپ کی تربیت کے لئے ان کی طرف سے اٹھنے والے ہر قدم کی آپ کے دل میں اہمیت ہو۔ اور یہ احساس ہو کہ میرے ماں باپ اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے جو کوشش کررہے ہیں میں نے بھی اسکا حصّہ بننا ہے۔ انکی تربیت کو خوشدلی سے قبول کرنا ہے۔ اور اپنے ماں باپ کے عہد پر کبھی آنچ نہیں آنے دینی۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کا سب سے زیادہ حق ایک واقفِ نوکا ہے اور واقفِ نو کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ عہد سب سے پہلے اور سب سے بڑھکر میں نے پورا کرنا ہے

تیسری بات

یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر قربانی کے لئے صبر اور استقامت دکھانے کا عہد کرناہے۔ جیسے بھی کڑے حالات ہوں، سخت حالات ہوں، مَیں نے اپنے وقف کے عہد کو ہر صورت میں نبھانا ہے۔ کوئی دنیاوی لالچ کبھی میرے عہدِ وقف میں لغزش پیدا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اب تو اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بہت فضل اور احسان ہے۔ خلافتِ ثانیہ کے دَور میں تو بعض موقعوں پر بعض سالوں میں قادیان میں ایسے حالات بھی آئے اتنی مالی تنگی تھی کہ جماعتی کارکنان کو کئی کئی مہینے ان کا جو بنیادی گزارا الاؤنس مقرر تھا وہ بھی پورا نہیں دیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح شروع میں ہجرت کے بعد ربوہ میں بھی ایسے حالات رہے ہیں۔ لیکن ان سب حالات کے باوجود کبھی اس زمانے کے واقفین زندگی نے شکوہ زبان پر لاتے ہوئے اپنے کام کا حرج نہیں ہونے دیا ۔ بلکہ یہ تو دُور کی باتیں ہیں ستّر اور اسّی کی دہائی میں افریقہ کے بعض ممالک میں بھی ایسے حالات رہے جو مشکل سے وہاں گزارا ہوتا تھا۔ جو الاؤنس جماعت کی طرف سے ملتا تھاو ہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس دن میں ختم ہوجاتا تھا۔ مقامی واقفین تو جتنا الاؤنس انکو ملتا تھا اس میں شائد دن میں ایک وقت کھانا کھاسکتے ہوں ۔ لیکن انہوں نے اپنے عہدِ وقف کو ہمیشہ نبھایا اور تبلیغ کے کام میں کبھی حرج نہیں آنے دیا۔

چوتھی بات

یہ کہ اپنے آپکو اُن لوگوں میں شامل کرنے کے احساس کو ابھارنا اور اس کیلئے کوشش کرنا جو نیکیوں کے پھیلانے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔ اپنے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم کرنا۔ جب ایسے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم ہونگے ، نیکیاں سر زد ہو رہی ہونگی ، برائیوں سے اپنے آپکو بچا رہے ہونگے تو ایسے نمونے کی طرف لوگوں کی توجہ خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں کی آپ پر نظر پڑے گی تو پھر مزید اسکا موقع بھی ملے گا۔ پس یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا بہت ضروری ہے اور کوشش بھی ساتھ ہو۔

پانچویں بات

یہ کہ نیکیوں اور برائیوں کی پہچان کے لئے قرآن اور حدیث کا فہم و ادراک حاصل کرنا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب اور ارشادات کو پڑھنا۔ اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لئے ہر وقت کوشش کرنا۔ بے شک ایک بچہ جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہاں اسے دینی علم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن وہاں سے پاس کرنے کے بعد یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اب میرے علم کی انتہا ہو گئی بلکہ علم کو ہمیشہ بڑھاتے رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دفعہ کا تفقّہ فی الدّین اس وقت فائدہ رساں رہتاہے جب تک اس میں ساتھ ساتھ تازہ علم شامل ہوتا رہے۔ تازہ پانی اس میں ملتا رہے۔ اسی طرح جو جامعہ میں نہیں پڑھ رہے ان کو بھی مسلسل پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ یہ نہیں کہ جو واقفینِ نو دنیاوی تعلیم حاصل کررہے ہوں ان کو دینی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ جتنا لٹریچر میسر ہے انکو پڑھنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیرپڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی جو جو کتب ان کی زبانوں میں ہیں انکو پڑھنے کیطرف توجہ ہونی چاہیے۔

چھٹی بات

جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جس کی طرف ایک واقفِ نو کو توجہ دینی چاہیے وہ عملی طور پر تبلیغ کے میدان میں کودنا ہے۔ اب بعض واقفاتِ نو کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے لئے جامعہ نہیں ہے۔ یعنی ہم دینی علم حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر اپنے طور پر جس طرح مَیں نے پہلے بتایا پڑھیں تو اپنے حلقے میں جو بھی ان کا دائرہ ہے اس میں تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہوگی ،موقع ملے گا۔ اس کے لئے جب تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور موقعے ملیں گے تو پھر مزید تیاری کی طرف توجہ ہوگی اور اس طرح دینی علم بڑھانے کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی ۔ پس تبلیغ کا میدان ہر ایک کے لئے کھلا ہے اور اس میں ہر وقفِ نو کو کودنے کی ضرورت ہے۔ اور بڑھ چڑھ کر ہر وقفِ نو کو حصّہ لینا چاہیے۔ اور یہ سوچ کر حصّہ لینا چاہیے کہ مَیں نے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک دنیا آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلےنہیں آ جاتی۔ اور یہ احساس اور جوش ہی ہے جو دینی علم بڑھانے کی طرف بھی متوجہ رکھے گا اور تبلیغ کی طرف بھی توجہ رہے گی۔

ساتویں بات

ہر واقفِ زندگی کو، واقفِ نو کو خاص طور پر ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ وہ اس گروہ میں شامل ہے جنہوں نے دنیا کو ہلاکت سے بچانا ہے۔ اگر آپ کے پاس علم ہےاور آپ کو موقع بھی مل رہا ہے لیکن اگر دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا سچا جذبہ نہیں ہے ، انسانیّت کو تباہی سے بچانے کا درد دل میں نہیں ہے تو ایک تڑپ کے ساتھ جو کوشش ہو سکتی ہے وہ نہیں ہو گی۔ اور برکت بھی ہو سکتا ہے اس میں اس طرح نہ پڑے۔ پس اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے ہر درد مند دل کو اپنی کوششوں کے ساتھ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور یہ درد سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں جو ہمیں اپنے مقصد میں انشاء اللہ کامیاب کریں گی۔ اس لئے ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہماری دعاؤں کا دائرہ صرف اپنے تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے دھارے ہمیں ہر طرف بہتے ہوئے دکھائی دیں تا کہ کوئی انسان بھی اس فیض سے محروم نہ رہے جو خدا تعالیٰ نے آج ہمیں عطا فرمایا ہے۔ ویسے بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارے مقاصد کا حصول بغیر دعاؤں ، ایسی دعاؤں جو سچے جذبے اور ہمدردی سے پُر ہوں ، کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

پس یہ باتیں اور یہ سوچ ہے جو ایک حقیقی واقفِ نو اور واقفِ زندگی کی ہونی چاہیئے۔ اس کے بغیر کامیابی کی امید خوش فہمی ہے۔ ان باتوں کے بغیر صرف واقفِ نو اور واقفِ زندگی کا ٹائٹل ہے جو ایسے واقفینِ نو نے اپنے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اور صرف ٹائٹل لینا تو ہمارا مقصد نہیں، نہ ان ماں باپ کا مقصد تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو اس قربانی کے لئے پیش کیا۔ پس جیساکہ میں بیان کر آیا ہوں ماں باپ کے لئے بھی اور واقفینِ نو کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

میں دوبارہ اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں دین کے پھیلانے کے لئے دینی علم کی ضرورت ہے اور یہ علم سب سے زیادہ ایسے ادارہ سے ہی مل سکتا ہے جس کا مقصد ہی دینی علم سکھانا ہو۔ اور یہ ادارہ جماعت احمدیہ میں ’’جامعہ احمدیہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے بتایا کہ جامعات صرف پاکستان یا قادیان میں نہیں ہیں یہیں تک محدود نہیں بلکہ یوکے میں بھی ہے۔ جو میں نے کوائف پیش کئے ہیں ان سے پتا لگتا ہےکہ جرمنی میں بھی ہے، انڈونیشیا میں بھی ہے، کینیڈا میں بھی ہے اور غانا میں بھی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا وہاں شاہد کروانے کیلئے نیا جامعہ کھلا ہے۔ پہلے وہاں جامعہ تو تھا لیکن تین سالہ کورس میں صرف معلمین تیار ہوتے تھے تو یہ جامعہ احمدیہ جو غانا میں کھلا ہے یہ فی الحال تمام افریقہ کی جماعت کیلئے شاہد مبلغ تیار کرے گا ۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی جامعہ احمدیہ ہے۔
تبلیغ کا کام بہت وسیع کام ہے اور یہ باقاعدہ تربیت یافتہ مبلغین سے ہی زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ اس لئے واقفینِ نو کو زیادہ سے زیادہ یا واقفینِ نو کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جامعہ احمدیہ میں آنا چاہیئے۔ جبکہ جو اعداد و شمار میں نے بتائے ہیں اس سے تو ہم ہر ملک کے ہر علاقے میں جیسا کہ میں نے کہا مستقبل قریب کیا بلکہ دُور میں بھی ہر جگہ مبلغ نہیں بٹھا سکتے۔ اور جب تک کل وقتی معلمین اور مبلغین نہیں ہونگے انقلابی تبدیلی یا انقلابی تبلیغی پروگرام بہت مشکل ہے۔

اس وقت دنیا بھر سے شعبے کے پاس جو رپورٹ آئی ہے یہ شاید ان کے پاس جولائی 2012 تک کی رپورٹ ہے۔ اس کے مطابق 15 سال سے اوپر کے واقفینِ نو اور واقفاتِ نو کی تعداد 25 ہزار ہے۔ جس میں سے لڑکے 16988 ہیں اور ان میں پاکستان کے واقفینِ نو 10687 ہیں۔ پاکستان کے بعد جرمنی میں سب سے زیادہ واقفینِ نو ہیں۔ 1877 لڑکے اور 1155 لڑکیاں۔ پھر انگلستان ہے 918 لڑکے اور ان کی کل تعداد 1758 ہے باقی آٹھ سو کچھ لڑکیا ں ہیں۔ لیکن جامعہ احمدیہ میں آنے والوں کی تعداد جرمنی میں بھی اور یوکے میں بھی بہت کم ہے۔ ان دونوں جامعات میں یورپ کے دوسرے ملکوں سے بھی طالب علم آتے ہیں۔ اس طرح تو یہ تعداد اور بھی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور کینیڈا کے جامعات میں تعداد کم ہے۔ جماعتیں مبلغین اور مربیان کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر واقفینِ نو کو جامعہ میں پڑھنے کے لئے تیار بھی کریں۔ کینیڈا اور امریکہ میں اس وقت 15 سال سے اوپر تقریباً 800 واقفینِ نو ہیں۔ اگر ان کو تیار کیا جائے تو اگلے 2 سال میں جامعات میں داخل ہونے والوں کی تعداد خاصی بڑھائی جا سکتی ہے۔ صرف مربی مبلغ کیلئے نہیں بلکہ جامعہ میں پڑھ کے، دینی علم حاصل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم کے لئے بھی تیار کئے جا سکتے ہیں۔ ان کو جامعہ میں پڑھانے کے بعد مختلف زبانوں میں سپیشلائز بھی کروایا جا سکتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر جو جامعہ میں نہیں آ رہے وہ بھی زبانیں سیکھنے کی طرف توجہ کریں۔ اور زبانیں سیکھنے والے کم از کم جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے بھی فرمایا تھا اور یہ ضروری ہے کہ تین زبانیں ان کو آنی چاہیئں۔ ایک تو ان کی اپنی زبان ہو، دوسرے اردو ہو تیسرے عربی ہو۔ عربی تو سیکھنی ہی ہے قرآن کریم کی تفسیروں اور بہت سارےمیسرلٹریچر کو سمجھنے کے لئے۔ اور پھر قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہوئے جب تک عربی نہ آتی ہو صحیح ترجمہ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اور اردو پڑھنا سیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے ہی اس وقت دین کا صحیح فہم حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ آپؑ کی تفسیریں، آپکی کتب، آپکی تحریرات ہی ایک سرمایہ ہیں اور ایک خزانہ ہیں جو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتی ہیں جو صحیح اسلامی تعلیم دنیا کو بتا سکتی ہیں۔ جو حقیقی قرآن کریم کی تفسیر دنیا کو بتا سکتی ہیں۔ پس اردو زبان سیکھے بغیر بھی صحیح طرح زبانوں میں مہارت حاصل نہیں ہو سکتی۔

ایک وقت تھا کہ جماعت میں ترجمے کے لئے بہت دقّت تھی۔ دقّت تو اب بھی ہے لیکن یہ دقّت اب کچھ حد تک مختلف ممالک کے جامعات کے جو لڑکے ہیں ان سے کم ہو رہی ہے یا اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ جامعہ احمدیہ کے مقالوں میں اردو سےترجمےبھی کروائے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی بعض کتب کے ترجمے کئے ہیں اور جو بھی طلباء کے سپر وائزر تھے ان کے مطابق اچھے ہوئے ہیں۔ لیکن بہرحال اگر معیار بہت اعلیٰ نہیں بھی تو مزید پالش کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال ایک کوشش شروع ہو چکی ہے۔ لیکن یہ تو چند ایک طلباء ہیں جن کو دوچار کتابیں دے دی جاتی ہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانوں کے ماہرین چاہیئں۔ اس طرف واقفینِ نو کو بہت توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جامعہ کے طلباء کے علاوہ کوئی کسی زبان میں مہارت حاصل کرتا ہے تو اسے جیساکہ میں نے کہا عربی اور اردو سیکھنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیئے۔ اس کے بغیر وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جس کے لئے زبان کی طرف توجہ ہے۔

جامعہ احمدیہ پر یہاں یا جرمنی میں یا بعض جگہ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہاں پڑھائی اچھی نہیں ہے ۔ یہ بالکل بودے اعتراض ہیں۔ ان کے خیال میں ان کا جو اعتراض ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جو جامعہ سے فارغ ہوتا ہے اسے عربی بولنی نہیں آتی یا بول چال اتنی اچھی نہیں ہے۔ جہاں تک زبان کی مہارت کا سوال ہے جامعہ احمدیہ میں کیونکہ مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں صرف ایک زبان کی طرف ہی توجہ نہیں دی جاتی۔ باقی یونیورسٹیوںمیں یا دوسرے مدرسوں میں اگر پڑھایا جاتا ہے تو ایک مضمون پڑھا کر اس پر توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں ۔ ہاں جب یہ دیکھا جائے کہ کسی کا کسی زبان کی طرف رجحان ہے یا زبانوں کے سیکھنے کی طرف رجحان ہے تو ان کو زبانوں میں پھر سپیشلائز بھی انشاء اللہ کروایا جائے گا۔ اور پھر بولنے کا جو شکوہ ہے وہ بھی دور ہو جائے گا۔ لیکن بہرحال جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے جو علم دیا جا رہا ہے وہ بہت وسیع علم ہے جو جامعہ کے طلباء اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو کیونکہ پرانے جامعات ہو گئے ہیں وہاں تخصص بھی کروایا جاتا ہے۔ سپیشلائز بھی کروایا جاتا ہے۔ تو یہ تو بعض لوگوں کے، خاص طور پر جرمنی سے مجھے اطلاع ملی تھی، جامعہ میں بچوں کو نہ بھیجنے کے بہانے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یوکے اور کینیڈا کے جو طلباء جامعہ سے فارغ ہوئے ہیں، ان کا تبلیغی میدان میں اب تک جو تھوڑا تجربہ ہوا ہے وہ اللہ کے فضل سے بڑے مؤثر رہے ہیں ۔ اور یہ علم تو جیسا کہ میں نے کہا ساتھ ساتھ انشاء اللہ بڑھتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں اوربعض طلباء کو جامعہ آنے یا داخلہ لینے سے بددل کرتے ہیں یہ لوگ صرف فتنہ ہیں یا ان میں نفاق کا رنگ ہے۔ اس لئے ان کو بھی استغفار کرنی چاہیئے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

جوشعبہ وقفِ نو ہے انہوں نے بعض انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو میں دہرا دیتا ہوں۔ شاید پہلے بھی بعض کا ذکر ہو چکا ہو۔ وقفِ نو میں ماں باپ بچوں کی بلوغت کو پہنچ کر یا پہلے ہی اس طرح تربیت نہیں کرتے۔ جیسا میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بچوں نے اپنے آپ کو باقاعدہ جماعت کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔ ایسی تربیت سے بچوں کو یہ پتا ہونا چاہیئے۔ تعلیم کے ہر مرحلے پر ان کو توجہ دلائیں اور پھر وقفِ نو کا جو شعبہ ہے اس سے رہنمائی بھی حاصل کریں۔ اپنی تعلیم کے بارے میں بچوں کو پوچھنا چاہیئے کہ اب ہم اس سٹیج پر پہنچ گئے ہیں کیا کریں؟ اور اگر اس نےاپنی مرضی کرنی ہے یا ایسے شعبوں میں جانا ہے جس کی فی الحال جماعت کو ضرورت نہیں ہے تو پھر وقف سے فراغت لے لیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

لڑکیاں جو واقفاتِ نو ہیں جو پاکستانی اُوریجن کی ہیں، پاکستان سے آئی ہوئی ہیں،جن کو اردو بولنی آتی ہے وہ اردو پڑھنی بھی سیکھیں۔اور جو یہاں باہر کے ملکوں میں رہ رہی ہیں وہ مقامی زبان بھی سیکھیں جہاں انگلش ہے، جرمن ہے یا ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انگلش سرکاری زبان ہے اور مقامی لوکل زبانیں اور ہیں، وہ بھی سیکھیں۔ عربی سیکھیں۔ پھر اپنے آپ کو تراجم کے لئے پیش کریں۔ مَیں نے دیکھا ہےعورتوں میں لڑکیوں میں زبانوں کا ملکہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہیں۔ پھر ڈاکٹر ہیں ٹیچر ہیں یہ بھی لڑکیاں اپنے آپ کو ٹیچر اور ڈاکٹر بن کے بھی پیش کر سکتی ہیں۔ اسی طرح لڑکے بھی۔ تو اس طرف بھی توجہ ہونی چاہیئے اور شعبہ کو ہر مرحلے پر پتا ہونا چاہیئے۔
مقامی جماعتی نظام کو لڑکوں اور لڑکیوں کی رہنمائی اور تربیت کے لئے سال میں کم از کم دو مرتبہ ان کے فورم منعقد کرنے چاہیئں جن میں کام اور تعلیم کی رہنمائی ہو۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

انکےشعبہ کوایک شکوہ یہ ہے کہ بعض والدین وقف کرنیکے بعد، حوالہ نمبر ملنے کے بعد، مقامی جماعت اور مرکز دونوں سے تقریباً لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ یا ویسے رابطہ نہیں رکھتے جیسا کہ رکھنا چاہیئے۔ اور پھر ایک سٹیج پر پہنچ کے جب شعبہ یہ کہتا ہے کہ رابطہ نہیں ہے آٹھ دس سال گذر گئے ہیں انکو نکال دیا جائے تو اس وقت پھر شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ اسلئے حوالہ نمبر ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب رابطہ ختم کر لیا اور وقفِ نو ہو گیا۔ مسلسل رابطہ دفتر سے اور اپنے نیشنل سیکریٹری شعبے سے بھی اور مرکز سے بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر واقفینِ نو اور واقفاتِ نو کا نصاب مقرر ہے۔ جو پہلے تو صرف بنیادی تھا، اب اکیس سال تک کے لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ نصاب مقرر ہو چکا ہے۔ اس کو پڑھنا بھی چاہیئے اور اگر امتحان وغیرہ ہوتے ہیں تو اس میں بھرپور شمولیت اختیار کرنی چاہیئے ۔ اور اس سے اوپر جو لڑکے لڑکیاں ہیں، ان کو قرآن کریم کی تفسیر جن کو اردو آتی ہے اردو میں،اور جن کو انگلش آتی ہے وہ انگلش میں فائیو والیم کومنٹری جوہے وہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب جو مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، جو جو زبان آتی ہے اس میں پڑھیں۔ خطبات اور خطابات ہیں وہ باقاعدہ سنیں۔ اپنا علم بڑھاتے چلے جائیں۔ یہ بھی ان کے لئے ضروری ہے۔ اور پھر اس کی رپورٹ بھی بھیجا کریں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

جو سیکریٹریانِ وقفِ نو ہیں یہ بھی بعض جگہ فعال نہیں ہیں۔ یہ بھی صرف عہدہ سنبھال کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان لوگوں کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے۔نہیں تو اس سال انتخابات ہو رہے ہیں۔ جماعتوں سے رپورٹیں آنی چاہیئں کہ کون کون سے سیکریٹریانِ وقفِ نو فعال نہیں ہیں۔ اور اگروہ فعال نہیں ہیں تو چاہے ان کے ووٹ زیادہ ہوں ان کو اس دفعہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

نصاب کا ذکر پہلے آیا تھا۔اگر جماعت کا بھی ایک نصاب بنا ہوا ہے، اور وہاں ایسا انتظام نہیں ہے کہ علیحدہ علیحدہ انتظام ہو سکے تو جو جماعتی نصاب ہے، اسی میں وقفِ نو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ پڑھیں۔ تھوڑا بہت معمولی فرق ہے۔ آپس میں دونوں کی کورڈینیشن اگرہو جائے تو اطفال کی عمر کے اطفال کا نصاب پڑھ سکتے ہیں، خدام کی عمر کا وہ پڑھ سکتے ہیں۔ لجنہ والی لجنہ کا پڑھ سکتی ہیں یا نصاب آپس میں سمویا جا سکتا ہے۔ جب جماعتی نظام کے تحت سیکریٹری تربیت، سیکریٹری تعلیم اور سیکریٹری وقفِ نو جماعتی شعبے کے تحت ہی کام کر رہے ہیں تو امراء اور صدران کا کام ہے کہ ان کو اکٹھا کر کے ایسا معین لائحہ عمل بنائیں کہ یہ نصاب بہرحال پڑھا جائے خاص طور پر واقفینِ نو کو اسمیں ضرور شامل کیا جائے۔ پھر یہ جو وقفِ نو کا نصاب ہے، اسکو مختلف ممالک اپنی زبانوں میں بھی شائع کروا سکتے ہیں۔ سویڈن نے اپنی زبان میں شائع کروایا ہے، فرنچ میں شائع کرنے کیلئے فرانس والےاور ماریشس والے کوشش کریں اور یہ کوشش صرف زبانی نہ ہو۔ یہ تو اطلاع فوری طور پر دیں کہ کون اسکا ترجمہ کر سکتا ہے اور دو مہینوں کے اندراندر یہ ترجمہ ہوبھی جانا چاہیئے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

واقفینِ نو کے مطالعہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی دینی کتاب ہونی چاہیئے،چاہے ایک دو صفحے پڑھیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب جیسا کہ میں نے کہا اگر وہ پڑھیں تو سب سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر اسی طرح خطبات ہیں سو فیصد واقفینِ نو اور واقفاتِ نو کو یہ خطبات سننے چاہیئں۔ کوشش کریں۔ یہاں یوکے میں ایک دن مَیں نےکلاس میں جائزہ لیا تھا تو میرا خیال ہے دس فیصد تھے جو باقاعدہ سنتے تھے۔ اسکی طرف شعبے کو بھی اور والدین کو بھی اور خود واقفینِ نو کو بھی توجہ دینی چاہیئے۔ انتظامیہ کو بھی چاہیئے کہ وہ واقفینِ نو کے جو پروگرام بناتے ہیں وہ انٹرایکٹو پروگرام ہونے چاہیئں جس سےزیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر اسی طرح ہر ملک کی جو انتظامیہ ہے وہ ایک کمیٹی بنائے جو تین مہینہ کے اندر یہ جائزہ لے کہ ان ملکوں کی اپنی ضروریات آئندہ دس سال کی کیا ہیں؟ کتنے مبلغین ان کو چاہئیں؟ کتنے زبان کے ترجمے کرنے والے چاہئیں؟ کتنے ڈاکٹرز چاہئیں؟ کتنے ٹیچرز چاہئیں؟ جہاں جہاں ضرورت ہے۔ اور اسی طرح مختلف ماہرین اگر چاہئیں تو کیا ہیں؟ مقامی زبانوں کے ماہرین کتنے چاہئیں؟ تو یہ جائزے لے کر تین سے چار مہینے کے اندراندر اس کی رپورٹ ہونی چاہیئے۔ اورپھرجو شعبہ وقفِ نو ہے وہ اس کا پراپر فالو اَپ کرے۔
بعض لوگ بزنس میں جانا چاہتے ہیں یا پولیس یا فوج میں جانا چاہتے ہیں یا اور شعبوں میں جانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے وہ بے شک جائیں لیکن وقف سے فراغت لے لیں۔ یہ اطلاع کیا کریں ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

پھر اسی طرح ہر ملک میں واقفینِ نو کے لئے کیرئیر گائیڈنس کمیٹی بھی ہونی چاہیئے جو جائزہ لیتی رہے اور مختلف فیلڈز میں جانے والوں کی رپورٹ مرکز بھجوائے یا جن کو مختلف فیلڈز میں دلچسپی ہے ان کے بارے میں اطلاع ہو۔ پھر مرکز فیصلہ کرے گا کہ آیا اس کو کس صورت میں اجازت دینی ہے۔ اور پھر یہ بھی جیسا کہ مَیں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والے واقفینِ نو اپنے تجدیدِ وقفِ نو کے عہد کو نہ بھولیں، لکھ کر بھجوایا کریں، بانڈ لکھیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)

اسی طرح واقفینِ نو کے لئے ایک رسالہ لڑکوں کے لئے ’’ اسمٰعیل‘‘ اور لڑکیوں کے لئے ’’مریم‘‘ شروع کیا گیا ہے، جرمن اور فرنچ میں بھی اس کا ترجمہ ہونا چاہیئے۔ اگر تو ایسے مضامین ہیں جو وہاں کے مقامی واقفینِ نو اور واقفاتِ نو لکھیں تو وہ شائع کریں ، نہیں تو یہاں سے مواد مہیا ہو سکتا ہے اس کو یہ اپنی اپنی زبانوں میں شائع کر لیا کریں۔ اردو کے ساتھ مقامی زبان بھی ہو۔

اللہ تعالیٰ تمام اُن والدین میں جنہوں نے اپنے بچے وقفِ نو کے لئے پیش کئے، اس رنگ میں بچوں کی تربیت اور دعا کرنے کی طرف توجہ پیدا فرمائےجو حقیقت میں اُن کو واقفینِ نو بنانے کا حقدار بنانے والی ہوں۔ اور یہ بچے والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں۔ بچوں کو بھی اپنے ماں باپ اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بھی عطا فرمائے اور وہ حقیقت میں اُس گروہ میں شامل ہوجائیں جن کا کام صرف اور صرف دین کی اشاعت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ 18جنوری  2013۔  الفضل انٹرنیشنل  8 فروری 2013ء۔ جلد 20 شمارہ 06۔ صفحہ 5 تا 9)