Schrait-e-Bait

اوّل :۔ بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔

۱۔اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا

۲۔شرک کی مختلف اقسام

دوم :۔ یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔

۱۔سب سے بڑی برائی۔ جھوٹ

۲۔زنا سے بچو

۳۔بدنظری سے بچو

۴۔فسق و فجور سے اجتناب کرو

۵۔ظلم نہ کرو

۶۔خیانت نہ کرو

۷۔فساد سے بچو

۸۔بغاوت کے طریقوں سے بچو

۹۔نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہو

سوم :۔یہ کہ بلاناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔ اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔ اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔

۱۔پنج وقتہ نمازوں کا التزام کرو

۲۔نماز تہجد کا التزام کریں

۳۔آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے میں مداومت اختیار کریں

۴۔استغفار میں مداومت اختیار کریں

۵۔اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں

چہارم :۔ یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔

۱۔کسی کو ناجائز تکلیف نہ دینا

۲۔عفو و درگزر سے کام لو

۳۔کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ

۴۔عاجزی و انکساری کو اپناؤ

 

پنجم :۔ یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہو گا اور ہر ایک ذِلّت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔۔

۱۔اپنے نفس کو خدا کی راہ میں بیچ دینا

۲۔تکالیف گناہوں کا کفّارہ ہو جاتی ہیں

۳۔اصل صبر تو صدمہ کے آغاز کے وقت ہی ہوتا ہے

۴۔تم خدا کی آخری جماعت ہو

۵۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے

۶۔کامل وفا اور استقامت کا نمونہ دکھائیں

ششم :۔ یہ کہ اتباعِ رسم اور متابعتِ ہواوہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قَالَ اللّٰہ اور قَالَ الرَّسُوْل کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔

۱۔رسم و رواج سے پرہیز

۲۔نئی نئی بدعات و رسوم ردّ کرنے کے لائق ہیں

۳۔اسلامی تعلیم کے لئے ہمارا رہنما قرآن شریف ہے

۴۔قرآن شریف ہی میں تمہاری زندگی ہے

 

ہفتم :۔ یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اورحلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔

۱۔شرک کے بعد تکبر جیسی کوئی بلا نہیں

۲۔متکبر ہر گز جنت میں داخل نہیں ہو گا

۳۔تکبر اور شیطان کا گہرا تعلق ہے

۴۔تکبر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں سخت مکروہ ہے

۵۔آنحضرت ﷺ کی نظر میں مسکینوں کا مقام

ہشتم :۔ یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردئ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔

۱۔دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا عہد

۲۔اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ

۳۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے

۴۔گناہ سے نجات کا ذریعہ ۔ یقین

نہم :۔ یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔

۱۔اسلام کی تعلیم

۲۔سب کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم

۳۔حضرت مسیح موعودؑ اور بنی نوع انسان کی ہمدردی

دہم :۔ یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض لِلّٰہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیردنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔

۱۔حضرت مسیح موعودؑ اور خلیفہ وقت کے ساتھ بھائی چارہ کا رشتہ قائم کرنا ضروری ہے

۲۔معروف اور غیر معروف کی تعریف

۳۔اطاعت کی اعلیٰ مثال

۴۔حضرت مسیح موعودؑ نے جو کچھ پایا وہ آنحضرتﷺ کی وجہ سے ہے

۵۔اطاعت ہر حال میں ضروری ہے

۶۔جماعت میں کون داخل ہے

۷۔آپس میں اخوت و محبت پیدا کرو

۸۔حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے دو فائدے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد پیدا ہونے والی روحانی تبدیلیوں کے بعض واقعات


۱۔طاعت در معروف کی پُر حکمت تفسیر و توضیح

۲۔حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ لایا ہوا روحانی انقلاب

۳۔شرک سے اجتناب

۴۔نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہونا

۵۔نمازوں کی پابندی اور تہجد میں شغف

۶۔نفسانی جوشوں کو دبانا

۷۔عسر اور یسر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری

۸۔صبر کا بے مثال نمونہ

۹۔رسموں سے اجتناب

۱۰۔اطاعت کے نادر نمونے

۱۱۔لاٹری جائز نہیں

۱۲۔شراب کی ممانعت

۱۳۔قرآن کریم سے محبت

۱۴۔فروتنی اور عاجزی

۱۵۔تکبر سے پرہیز

۱۶۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا

۱۷۔خدمت انسانیت اور اخلاص و وفا کے بے نظیر نمونے

۱۸۔احمدی ڈاکٹر وقف کریں

۱۹۔حضرت مسیح موعودؑ سے بے نظیر تعلق

۲۰۔مخلصین کی اولاد کا فرض

۲۱۔غیروں کا اعتراف