دینی معلومات

اللہ وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمان کی ہر چیز بغیر کسی سامان کے اپنی قدرت سے بنائی ہے۔ وہ تمام دنیا کا حاکم سب کا بادشاہ اور ہر چیز کا مالک ہے وہ چھوٹی بڑی بات کی خبر رکھتا ہے کوئی کام اس کیلئے مشکل نہیں۔اللہ تعالیٰ واحد اور لازوال ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسکے کاموں میں نہ کوئی اس کا ساجھی ہے نہ ساتھی۔ نہ کوئی اس کا بیٹا ہے نہ بیوی، نہ باپ نہ بھائی، نہ اسے ان کی ضرورت ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ نہ بیمار ہوتا ہے نہ تھکتا ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ سب اس کے محتاج ہیں۔ مختصر یہ کہ سب خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کوئی نقص یا عیب اس میں نہیں ہے۔اللہ اسکا ذاتی نام ہے اسکے اور بھی کئی نام ہیں لیکن وہ سب صفاتی کہلاتے ہیں۔ یعنی ان سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی صفت ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً

رَبُّ الْعَالَمِیْن: اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی ہر چیز بنانے اور پرورش کرنے والا اور ہر شے کو درجہ بدرجہ بڑھانے اور ترقی دینے والاہے۔

 رَحْمٰن: اللہ تعالیٰ بڑا رحم کرنیوالا اور ہمارے کسی کام کے بغیر ہم پر مہربانی کرنیوالا ہے۔ مثلاً ہمارے لئے سورج‘چاند‘پانی‘ہوا وغیرہ پیدا کئے۔

 رَحِیْـم: اللہ تعالیٰ نہایت مہربان‘ ہماری کوشش اور محنت کا نتیجہ دینے والا ہے۔ مثلاً جو طالبعلم محنت سے پڑھتا ہے اسکو وہ پاس کر دیتا ہے۔

مٰـلِـکِ یَـوْمِ الـدِّیْن: اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے یعنی وہ اچھے کام کرنے والوں کو انعام اور برے کام کرنے والوں کو سزا دے گا۔ لیکن اگر وہ چاہے تو کسی کی سزا معاف بھی کر دے اور کسی کو انعام اس کی محنت سے زیادہ بھی دے دے۔

 عَلِــیْـم: اللہ تعالیٰ کو زمین اور آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا علم ہے اور اسے دلوں کا حال بھی معلوم ہے۔

ہمارا خدا ہماری دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے مگر وہ ہمیں آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ کیونکہ وہ ایسا نور ہے جس کا نہ کوئی جسم ہے نہ مادی شکل۔ البتہ ہم اس کے کاموں سے اسے پہچان سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم ہوا کو دیکھ تو نہیں سکتے لیکن جب وہ چلتی ہے تو ہمارے بدن اسے محسوس کرتے ہیں اور ہم فوراً کہتے ہیں کہ ہوا چل رہی ہے۔

  • نام:                 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
  • والد کا نام:       حضرت عبداللہ
  • والدہ کا نام:      حضرت آمنہ
  • دادا کا نام:       حضرت عبد المطلب
  • نام:                       حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام

  • والد کا نام:          حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب

  • والدہ کا نام:              حضرت چراغ بی بی صاحبہ

    1. حضرت ابوبکر صدیق ﷛
    2. حضرت عمر ﷛
    3. حضرت عثمان غنی ﷛
    4. حضرت علی ﷛
    1. حضرت حکیم مولوی نور الدین ﷛
    2. حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ﷛
    3. حضرت مرزا ناصر احمد ﷬
    4. حضرت مرزا طاہر احمد ﷬
    5. حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

Hadhrat Masih Maud asحضرت مسیح موعود علیہ السلام

Hadhrat Khalifatul Masih Iحضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

Hadhrat Khalifatul Masih IIحضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

Hadhrat Khalifatul Masih IIIحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

Hadhrat Khalifatul Masih IVحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

Hadhrat Khalifatul Masih Vحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

  • پیدائش: ۱۲ ربیع الاوّل سنہ عام الفیل بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ء

  •  قبیلہ: بنوہاشم

  • رضاعت: حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے کی

  •  کچھ دن ابولہب کی آزاد کردہ لونڈی حضرت ثُوَیْبَہ کے پاس پرورش پائی۔

  • تقریبا 4 یا 5سال حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے پاس پرورش پائی۔

  • 6 برس کی عمر میں اپنی والدہ حضرت آمنہ کے ساتھ یثرب کا سفر کیا۔

  • حضرت آمنہ نے واپسی پر ابواء کے مقام پر وفات پائی سفر میں ساتھ ان کی لونڈی اُم ایمن تھی۔

  • اُمّ ایمن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر مکہ آئیں اور حضرت عبدالمطلب کے سپرد کیا۔

  • 8 سال عمر ہوئی تو حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوا۔ ان کی عمر82 سال تھی۔

  • حضرت عبدالمطلب نے اپنی وفات سے قبل آپ کو اپنے بیٹے اور آپ کے چچا حضرت ابوطالب کے سپرد کیا۔

  • حضرت ابوطالب جب تک زندہ رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قسم کا ساتھ دیتے رہے۔

  • حضرت ابوطالب تجارت پیشہ تھے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۱۲ برس تھی تو آپؐ ابوطالب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر گئے۔ یہ آپؐ کا پہلا سفر تھا۔ بُصْریٰ کے مقام پر بُحَیْرَہ نام عیسائی راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا اس میں نبوت کی علامات ہیں اور جلد ہی نبوت کے منصب پر سرفراز ہوں گے۔ راہب کے مشورہ سے ابوطالب نے آپ کو واپس مکہ بھیج دیا۔

  •  لڑکپن میں چچا کے زیر سایہ تجارت کاتجربہ حاصل کر کے تجارت شروع کی۔

  • تجارت کے سلسلہ میں یمن‘ شام اور دیگر علاقوں کے سفر کئے۔

  • جاہلیت کی خرافات سے ہمیشہ دور رہے۔

  • حلف الفضول کے معاہدہ میں شامل ہوئے۔
    جس کی شرائط یہ تھیں:۱۔ آئندہ آپس میں جنگ و جدل نہیں کریں گے۔ ۲۔ ملک سے بدامنی دور کریں گے۔ ۳۔ مسافروں کی حفاظت کریں۔ ۴۔غریبوں کی امداد کریں۔ ۵۔ ظالموں کو ظلم سے روکیں۔

  • آنحضرت ﷺ حضرت خدیجہؓ کا سامانِ تجارت لے کر بُصریٰ گئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ منافع ہوا۔ سفر سے واپسی پر ان کے غلام میسرہ نے آپﷺ کی بہت تعریف کی اور رائے دی کہ مکہ میں ان کی برابری کا کوئی نوجوان نہیں۔
  • حضرت خدیجہؓ نے متاثر ہو کر شادی کی خواہش کی۔ اس وقت ان کی عمر ۴۰ سال اور حضور ﷺکی عمر ۲۵ سال تھی۔ چچا حضرت ابوطالب کے مشورہ سے رشتہ قبول کیا۔ حضرت خدیجہؓ کے بطن سے حضورﷺ کے چار بیٹے قاسم‘ طیب‘ طاہر اورعبداللہ چار بیٹیاں زینب‘ رقیہ‘ اُم کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عَنْھُنَّ پیدا ہوئیں۔
  • حجر اسود رکھنے کے لئے اپنی چادر بچھا کر قبائل کے جھگڑے کا مسئلہ حل کیا۔ اس وقت حضور ﷺ کی عمر ۳۵ برس تھی۔
  • حق کی تلاش اور اللہ کی عبادت کیلئے غار حرا میں چلے جاتے۔ غار حرا ۴ گز لمبی اور پونے دو گز چوڑی تھی۔
  • غار میں فرشتہ نے کہا اِقْـرَأ (پڑھ) آپ ﷺ نے فرمایا ’’مَا اَنا بِقَارِیٔ‘‘ میں پڑھنا نہیں جانتا ۔ اس نے آپ ﷺ کو پکڑ کر دبایا اور کہا اِقْـرَأ آپ نے وہی جواب دیا پھر تیسری بار ایسا ہی ہوا۔ تو آپ ﷺکی زبان پر اِقْــرَأ بِـاسْــمِ رَبِّــکَ الَّـــذِیْ خَــلَــقَ۔ خَــلَـقَ اَلْاِنْــسَانَ مِنْ عَـــلَــقٍ کے الفاظ جاری ہوئے۔ یہ پہلی وحی تھی۔

     

  • حضرت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی مسیح موعود و مہدئ معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام 13 فروری 1835ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔

  • قرآن کریم اور چند فارسی کتب مکرم فضل الٰہی صاحب سے۔ عربی کی ابتدائی تعلیم مکرم فضل احمد صاحب سے علمِ صَرف کی بعض کتب اور قواعد نحو مکرم گل علی شاہ صاحب سے پڑھیں اور حکمت کی تعلیم اپنے والد محترم سے گھر پر ہی حاصل کی۔

  • 1864ء سے 1868ء تک سیالکوٹ شہر میں ملازمت کی۔

  • آپ کو پہلا الہام1865ء کو ہوا جو یہ ہے ثَـمَانِیـْنَ حَـوْلًا اَوْ قَـرِیْبًا مِّنْ ذٰلِکَ اَوْ تَـزِیْدُ عَــلَـیْـہِ سِـنِیْـنًا وَتَرٰی نَـسْلًا بَــعِـیْــدًا  (یعنی تیری عمر اسّی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل دیکھے گا (تذکرہ مطبوعہ1969ء صفحہ7)

  • 1875ء کے آخر یا 1876ء کے شروع میں آپ نے آٹھ نو ماہ کے روزے رکھے اور اس دوران کثرت سے آپ پر انوار سماویہ کا نزول ہوا۔

  • جون 1876ء میں آپ کے والدمحترم کی وفات پر آپ کو الہام ہوا اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ یعنی کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔

  • آپ کو ماموریت کا پہلا الہام مارچ 1882ء کو ہوا قُـلْ اِنِّـیْ اُمِــرْتُ وَ اَ نَـا اَوَّلُ الْــمُؤمِـنِـیْـنَ (تو کہہ دے مجھے حکم دیا گیاہے اور میں مومنوں میں سے سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں)

  • 10 جولائی 1885ء کو سرخ چھینٹوں والا نشان ظاہر ہوا۔ اس دن رمضان کا 27واں روزہ تھا اور اس کے عینی شاہد حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحبؓ تھے۔

  • جنوری 1886ء کو آپ ہوشیار پور گئے وہاں چالیس روز چلہ کشی کی۔ 20 فروری 1886ء کو خدا سے خبر پا کر ایک بیٹے مصلح موعود کی پیشگوئی فرمائی۔

  • یکم دسمبر 1888ء کو آپ نے بیعت کا اعلان فرمایا۔ 12جنوری 1889ء کو آپ نے بیعت کے لئے دس شرائط کا اعلان فرمایا۔ 4 مارچ 1889ء کو لدھیانہ اور ہوشیار پور کا سفر کیا اور 23مارچ 1889ء کو حضرت صوفی احمد جان صاحب آف لودھیانہ کے گھر میں پہلی بیعت لی اور جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔ حضرت صوفی صاحب کا گھر ’’دارالبیعت ‘‘اور وہ دن ’’یوم البیعت‘‘ کہلاتا ہے۔

  1. حضرت آدمؑ
  2. حضرت نوحؑ 
  3. حضرت ابراہیمؑ
  4. حضرت اسمٰعیل ؑ
  5. حضرت اسحاقؑ
  6. حضرت لوطؑ
  7. حضرت یعقوبؑ
  8. حضرت یوسفؑ
  9. حضرت موسیٰ ؑ
  10. حضرت ہارون ؑ
  11. حضرت داؤد ؑ
  12. حضرت سلیمان ؑ
  13. حضرت ایوبؑ
  14. حضرت الیاس
  15. حضرت یونس ؑ
  16. حضرت عزیر ؑ
  17. حضرت الیسع ؑ
  18. حضرت ادریس ؑ
  19. حضرت شعیب ؑ
  20. حضرت صالح ؑ
  21. حضرت ہود ؑ
  22. حضرت یحییٰ ؑ
  23.  حضرت ذکریا ؑ
  24. حضرت عیسیٰ ؑ
  25. حضرت محمدمصطفی ٰﷺ 

اور (یاد رکھ) جب تیرے ربّ نے فرشتوں سے کہا کہ یقیناًمیں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا تُو اُس میں وہ بنائے گا جو اُس میں فساد کرے اور خون بہائے۔ جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ اُس نے کہا یقیناًمیں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔* اور اس نے آدم کو تمام نام سکھائے پھر ان (مخلوقات) کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا مجھے ان کے نام بتلاؤ اگر تم سچے ہو۔* انہوں نے کہا پاک ہے تُو۔ ہمیں کسی بات کا کچھ علم نہیں سوائے اس کے جس کا تُو ہمیں علم دے۔ یقیناًتُو ہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔* اُس نے کہا اے آدم! تُو اِن کو اُن کے نام بتا۔ پس جب اُس نے اُنہیں اُن کے نام بتائے تو اُس نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یقیناًمیں ہی آسمانوں اور زمین کے غیب جانتا ہوں اور میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ (بھی) جو تم چھپاتے ہو۔* اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی خاطر سجدہ کرو تو وہ سب سجدہ ریز ہو گئے سوائے ابلیس کے۔ اُس نے انکار کیا اور استکبار سے کام لیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔*(2:31-35) اُس نے کہا تجھے کس چیز نے روکا کہ تُو سجدہ کرے جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ اُس نے کہا میں اِس سے بہتر ہوں۔ تُو نے مجھے تو آگ سے پیدا کیا ہے اور اِسے گیلی مٹی سے پیدا کیا۔* اُس نے کہا تُو اِس سے نکل جا۔ تجھے توفیق نہ ہو گی کہ تُو اِس میں تکبر کرے۔ پس نکل جا یقیناًتُو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔* اُس نے کہا مجھے اُس دن تک مہلت عطا کر جب وہ اٹھائے جائیں گے۔* اُس نے کہا تُو یقیناًمہلت دئیے جانے والوں میں سے ہے۔* اُس نے کہا کہ بسبب اس کے کہ تُو نے مجھے گمراہ ٹھہرایا ہے میں یقیناًاُن کی تاک میں تیری راہ پر بیٹھوں گا۔*پھر میں ضرور اُن تک اُن کے سامنے سے بھی اور اُن کے پیچھے سے بھی اور اُن کے دائیں سے بھی اور اُن کے بائیں سے بھی آؤں گا۔ اور تُو ان میں سے اکثر کو شکر گذار نہیں پائے گا۔* اُس نے کہا تُو یہاں سے نکل جامذمّت کیا ہوا اور دھتکارا ہوا۔ ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا میں یقیناًتم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔* اور اے آدم! تُو اور تیری بیوی جنّت میں سکونت اختیار کرو اور دونوں جہاں سے چاہو کھاؤ۔ ہاں تم دونوں اِس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔* پس شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تا کہ وہ اُن کی ایسی کمزوریوں میں سے بعض کو اُن پر ظاہر کر دے جو اُن سے چھپائی گئیں تھیں اور اس نے کہا کہ تمہیں تمہارے ربّ نے اِس درخت سے نہیں روکا مگر اس لئے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔* اور اُس نے ان دونوں سے قسمیں کھا کر کہا کہ یقیناًمیں تم دونوں کے حق میں محض (نیک) نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں۔*پس اُس نے انہیں ایک بڑے دھوکے سے بہکا دیا۔ پس جب اُن دونوں نے اُس درخت کو چکھا تو ان کی کمزوریاں اُن پر ظاہر ہو گئیں اور وہ دونوں جنّت کے پتّوں میں سے کچھ اپنے اوپر اوڑھنے لگے۔ اور ان کے ربّ نے ان کو آواز دی کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ یقیناًشیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے؟۔* اُن دونوں نے کہا کہ اے ہمارے ربّ! ہم نے جانوں پر ظلم کیا اور اگر تُو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناًہم گھاٹا کھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔* اس نے کہا کہ تُم سب (یہاں سے) نکل جاؤ اس حال میں کہ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ اور تمہارے لئے زمین میں کچھ عرصہ قیام ہے اور کچھ مدت کے لئے معمولی فائدہ اٹھانا ہے۔* اُس نے کہا تم اسی میں جیو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تم نکالے جاؤ گے۔*(7:13-26) پھر آدم نے اپنے ربّ سے کچھ کلمات سیکھے۔ پس وہ اس پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا۔ یقیناًوہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔* ہم نے کہا اس میں سے تم سب کے سب نکل جاؤ۔ پس جب کبھی بھی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ کوئی غم کریں گے۔* اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور ہمارے نشانات کو جھٹلایا وہی ہیں جو آگ میں پڑنے والے ہیں۔ وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔* (2:38-40) اور ان کے سامنے حق کے ساتھ آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ پڑھ کر سنا جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے سے قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کروں گا۔ (جواباً ) اس نے کہا یقیناًاللہ متقیوں ہی کی ( قربانی) قبول کرتا ہے۔* اگر تُو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا کہ تُومجھے قتل کرے (تو) میں (جواباً) تیری طرف اپنا ہاتھ بڑھانے والا نہیں تا کہ تجھے قتل کروں۔ یقیناًمیں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔* یقیناًمیں چاہتا ہوں کہ تُو میرے اور اپنے گناہ اٹھائے ہوئے لوٹے پھر تُو اہلِ نار میں سے ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی جزا ہوتی ہے۔* تب اُس کے نفس نے اس کے لئے اپنے بھائی کا قتل اچھا بنا کر دکھایا۔ پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔* پھر اللہ نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین کو (پنجوں سے) کھود رہا تھا تا کہ وہ (یعنی اللہ ) اسے سمجھا دے کہ کس طرح وہ اپنے بھائی کی لاش کو ڈھانپ دے۔ وہ بول اٹھا وائے حسرت ! کیا میں اس بات سے بھی عاجز آ گیا کہ اُس کوّے جیسا ہی ہو جاتا اور اپنے بھائی کی لاش ڈھانپ دیتا۔ پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہو گیا۔* (5:28-32)

اور یقیناًہم نے نوح کو بھی اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (جس نے کہا) میں یقیناًتمہارے واسطے ایک کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔* ( اور یہ) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں یقیناًتم پر ایک دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں۔* پس اُس کی قوم میں سے اُن سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا کہ ہم تو تجھے محض اپنے جیسا ہی ایک بشر دیکھتے ہیں۔ نیز ہم اُس کے سوا تجھے کچھ بھی نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے وہ بادئ النظر میں ہمارے ذلیل ترین لوگ ہیں اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں سمجھتے بلکہ تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔* اُس نے کہا اے میری قوم! غور تو کرو کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم) ہوں اور اُس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا کی ہے اور تم پر یہ بات پوشیدہ رہ گئی تو کیا ہم زبردستی تمہیں اس کا پابند بنا سکتے ہیں جب کہ تم اس سے کراہت کرتے ہو۔* اور اے میری قوم! اس پر میں تم سے کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔ اور میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں کبھی دھتکارنے والا نہیں۔ یقیناًوہ لوگ اپنے ربّ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ لیکن تمہیں میں ایک ایسی قوم دیکھتا ہوں جو جہالت کر رہے ہیں۔* اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اللہ سے مجھے بچانے میں کون میری مدد کرے گا۔ پس کیا تم نصیحت نہیں پکڑو گے۔* اور میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں کہتا ہوں کہ میں ایک فرشتہ ہوں۔ اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقیر اور ذلیل دیکھتی ہیں انہیں اللہ ہر گز کوئی خیر عطا نہیں کرے گا۔ اللہ ہی سب سے زیادہ جانتا ہے جو اُن کے دلوں میں ہے۔ (اگر میں بھی وہ کہوں جو تم کہتے ہو) تب تو ضرور میں ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔* انہوں نے کہا اے نوح! تُو نے ہم سے جھگڑا کیا اور ہم سے جھگڑنے میں بہت بڑھ گیا۔ پس اب تُو ہمارے پاس وہ لے آ جس کا تُو ہمیں ڈراوا دیتا ہے اگر تُو سچوں میں سے ہے۔* اُس نے کہا یقیناًاللہ ہی اُسے لئے ہوئے تمہارے پاس آئے گا اگر وہ چاہے گا۔ اور تم کبھی (اُسے) عاجز کرنے والے نہیں ہو سکتے۔* اورتمہیں میری نصیحت کوئی فائدہ نہیں دے گی خواہ میں تمہیں نصیحت کرنے کا ارادہ بھی کروں اگر اللہ چاہے کہ تمہیں گمراہ ٹھہرا دے۔ وہ تمہارا ربّ ہے اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔* (11:26-35) اور تُو اُن پر نوح کی خبر پڑھ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر تم پر میرا مؤقف اور اللہ کے نشانات کے ذریعہ نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے تو میں تو اللہ ہی پر توکّل کرتا ہوں۔ پس تم اپنی تمام طاقت اکٹھی کر لو اور اپنے شرکاء کو بھی۔ پھر اپنی طاقت پر تمہیں کوئی اشتباہ نہ رہے پھر کر گزرو جو مجھ سے کرنا ہے اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔* (10:72) اُس نے کہا اے میرے ربّ! میں نے اپنی قوم کو رات کو بھی دعوت دی اور دن کو بھی۔* پس میری دعوت نے انہیں فرار کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھایا۔* اور یقیناًجب کبھی میں نے اُنہیں دعوت دی تا کہ تُو انہیں بخش دے اُنہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور بہت ضد کی اور بڑے استکبار سے کام لیا۔* پھر میں نے اُنہیں بآوازِ بلند بھی دعوت دی۔* پھر میں نے اُن کی خاطر اعلان بھی کئے اور بہت اِخفاء سے کام لیا۔* پس میں نے کہا اپنے ربّ سے بخشش طلب کرو یقیناًوہ بہت بخشنے والا ہے۔*وہ تم پر لگاتار برسنے والا بادل بھیجے گا۔* اور وہ اموال اور اولاد کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔*تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ سے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ ۔* حالانکہ اُس نے تمہیں مختلف طریقوں پر پیدا کیا۔* کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کیسے سات آسمانوں کو طبقہ بر طبقہ پیدا کیا؟۔* اور اُس نے اُن میں چاند کو ایک نور بنایا اور سورج کو ایک روشن چراغ۔* اوراللہ نے تمہیں زمین سے نبات کی طرح اگایا۔* پھر وہ تمہیں اس میں واپس کر دے گا اور تمہیں ایک نئے رنگ میں نکالے گا۔* اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے بچھایا ہو ابنایا۔* تا کہ تم اُس کی کشادہ راہوں پر چلو پھرو۔* نوح نے کہا اے میرے ربّ! یقیناًانہوں نے میری نافرمانی کی اور اُس کی پیروی کی جسے اس کے مال اور اولاد نے گھاٹے کے سوا اور کسی چیز میں نہ بڑھایا۔* اور انہوں نے بہت بڑا مکر کیا۔* اور انہوں نے کہا ہر گز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ وَدّ کو چھوڑو اور نہ سواع کو اور نہ ہی یغوث اور یعوق اور نسر کو۔* اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کر دیا اور تُو ظالموں کو نامرادی کے سوا اور کسی چیز میں نہ بڑھانا۔* وہ اپنی خطاؤں کے سبب غرق کئے گئے پھر آگ میں داخل کئے گئے۔ پس انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی مددگار نہ پائے۔* اور نوح نے کہا اے میرے ربّ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بستا ہوا نہ رہنے دے۔* یقیناًاگر تُو ان کو چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور بدکار اور سخت ناشکرے کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔*اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور اسے بھی جو بحیثیت مومن میرے گھر میں داخل ہوا اور سب مومن مردوں اور سب مومن عورتوں کو۔ اور تُو ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھانا۔* (71:06-29) اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ اُس کے سوا جو ایمان لا چکا تیری قوم میں سے اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس اُس سے دل بُرا نہ کر جو وہ کرتے ہیں۔* اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا اور جن لوگوں نے ظلم کیا اُن کے بارہ میں مجھ سے کوئی بات نہ کر۔ یقیناًوہ غرق کئے جانے والے ہیں۔* اور وہ کَشتی بناتا رہا اور جب کبھی اُس کی قوم کے سرداروں کا اس پر سے گزر ہوا وہ اس سے تمسخر کرتے رہے۔ اس نے کہا اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو یقیناًہم بھی تم سے اسی طرح تمسخر کریں گے جیسے تم کر رہے ہو۔* پس عنقریب تم جان لو گے کہ وہ کون ہے جس پر وہ عذاب آئے گا جو اُسے ذلیل کر دے گا اور اس پر ایک ٹھہر جانے والا عذاب اُترے گا۔* یہاں تک کہ جب ہمارا فیصلہ آ پہنچا اور بڑے جوش سے چشمے پھوٹ پڑے تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ اس (کشتی) میں ہر ایک (ضرورت کے جانور) میں سے جوڑا جوڑا سوار کر اور اپنے اہل کو بھی سوائے اس کے جس کے خلاف فیصلہ گزر چکا ہے اور (اسے بھی سوار کر) جو ایمان لایا ہے۔ اور اس کے ہمراہ ایمان نہیں لائے مگر تھوڑے۔* اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہو جاؤ۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا ہے۔ یقیناًمیرا ربّ بہت بخشنے والا(اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔* اور وہ انہیں لئے ہوئے پہاڑوں جیسی موجوں میں چلتی رہی۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔* اُس نے جواب دیا میں جلد ہی ایک پہاڑ کی طرف پناہ (ڈھونڈھ) لوں گا جو مجھے پانی سے بچالے گا۔ اُس نے کہا آج کے دن اللہ کے فیصلہ سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے (صرف وہی بچے گا)۔ پس ان کے درمیان ایک موج حائل ہو گئی اور وہ غرق کئے جانے والوں میں سے ہو گیا۔* اور کہا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تھم جا۔ اور پانی خشک کر دیاگیا اور فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ) پر ٹھہر گئی اور کہا گیا کہ ہلاکت ہو ظالم قوم پر۔* اور نوح نے اپنے ربّ کو پکارا اور کہا اے میرے ربّ! یقیناًمیرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ ضرور سچا ہے اور تُو فیصلہ کرنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔* اس نے کہا اے نوح! یقیناًوہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ بلاشبہ وہ تو سراپا ایک ناپاک عمل تھا۔ پس مجھ سے وہ نہ مانگ جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں مبادا تُو جاہلوں میں سے ہو جائے۔* اس نے کہا اے میرے ربّ! یقیناًمیں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ بات پوچھوں جس (کے مخفی رکھنے کی وجہ) کا مجھے کوئی علم نہیں۔ اور اگر تُو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔* (تب) کہا گیا اے نوح! تُو ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اُتر اور ان برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر ہیں اور ان قوموں پر بھی جو تیرے ساتھ (سوار) ہیں۔ کچھ اور قومیں (بھی) ہیں جنہیں ہم ضرور فائدہ پہنچائیں گے (لیکن) پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔* (11:37-49)

اور (اس) کتاب میں ابراہیم کا ذکر بھی کر۔ یقیناًوہ ایک صدیق نبی تھا۔* جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو کیوں اس کی عبادت کرتا ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور تیرے کسی کام نہیں آتا۔* اے میرے باپ! یقیناًمیرے پاس وہ علم آ چکا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا۔ پس میری پیروی کر۔ میں ٹھیک راستے کی طرف تیری رہنمائی کروں گا۔* اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر۔ شیطان یقیناًرحمان کا نافرمان ہے۔* اے میرے باپ! یقیناًمیں ڈرتا ہوں کہ رحمان کی طرف سے تجھے کوئی عذاب نہ پہنچے۔ پس تُو (اسوقت) شیطان کا دوست نکلے۔* اس نے کہا تُو میرے معبودوں سے انحراف کر رہا ہے اے ابراہیم! اگر تُو باز نہ آیا تو یقیناًمیں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تُومجھے لمبے عرصہ تک تنہا چھوڑ دے۔* اس نے کہا تجھ پر سلام۔ میں ضرور اپنے ربّ سے تیرے لئے مغفرت طلب کروں گا۔ یقیناًوہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔* اور میں تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور ان کو بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ اور میں اپنے ربّ سے دعا کروں گا۔ عین ممکن ہے کہ میں اپنے ربّ سے دعا کرتے ہوئے بد نصیب نہ رہوں۔* (19:42-49) اور ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لئے محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو اُس نے اس سے کیا تھا۔ پس جب اس پر یہ بات خوب روشن ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا۔ یقیناًابراہیم بہت نرم دل (اور) بُردبار تھا۔* (9:114) (یادکر) جب وہ اپنے ربّ کے حضور قلبِ سلیم لے کر حاضر ہوا۔* (پھر) جب اس نے اپنے باپ سے اور اس کی قوم سے کہا وہ ہے کیا جس کی تم عبادت کرتے ہو؟۔* کیا اللہ کے سوا، تم سراپا جھوٹ دوسرے معبود چاہتے ہو؟۔* پس تم نے تمام جہانوں کے ربّ کو کیا سمجھ رکھا ہے۔* پھر اس نے ستاروں پر نظر ڈالی۔* اور کہا میں تو یقیناًبیزار ہو گیا ہوں۔* (37:85-90) پس جب رات اس پر چھا گئی اس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا (گویا) یہ میرا ربّ ہے۔ پس جب وہ ڈوب گیا تو کہنے لگا میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔* پھر جب اس نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا (گویا) یہ میرا ربّ ہے۔ پس جب وہ (بھی) ڈوب گیا تو اس نے کہا اگر میرے ربّ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہو جاتا۔* پھر جب اس نے سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا (گویا) یہ میرا ربّ ہے۔ یہ (ان) سب سے بڑا ہے۔ پس جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا اے میری قوم! یقیناًمیں اس شرک سے جو تم کرتے ہو سخت بیزار ہوں۔* میں تو یقیناًاپنی توجہ کو اس کی طرف مائل رہتے ہوئے پھیر چکا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔* اور اس کی قوم اس سے جھگڑتی رہی۔ اس نے کہا کیا تم اللہ کے بارہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو جب کہ وہ مجھے ہدایت دے چکا ہے اور میں ان چیزوں (کے گزند) سے بالکل نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک بنا رہے ہو۔ (میں کچھ نہیں چاہتا) سوائے اس کے کہ میرا ربّ کچھ چاہے۔ میرا ربّ ہر چیز پر علم کے لحاظ سے حاوی ہے۔ پس کیا تم نصیحت نہیں پکڑو گے؟۔* اور میں اس سے کیسے ڈروں جسے تم شریک بنا رہے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے کہ تم ان کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو جن کے حق میں اس نے تم پر کوئی حجت نہیں اتاری۔ پس دونوں میں سے کونسا گروہ سلامتی کا زیادہ مستحق ہے اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔* وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ذریعے مشکوک نہیں بنایا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں امن نصیب ہوگا اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔* یہ ہماری حجت تھی جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے خلاف عطا کی۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجات میں بلند کر دیتے ہیں۔ یقیناًتیرا ربّ بہت حکمت والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔* (6:77-84) اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔* جب اس نے اپنے باپ اور اس کی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟۔* انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی (عبادت کی ) خاطر بیٹھے رہتے ہیں۔* اس نے کہا جب تم (انہیں) پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکار سنتے ہیں؟۔* یا تمہیں فائدہ پہنچاتے ہیں یا کوئی نقصان پہنچاتے ہیں؟۔* انہوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے اباء و اجداد کو دیکھا کہ وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔* اس نے کہا کیا تم نے غور کیا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ہو؟۔* (یعنی) تم اور تمہارے پہلے اباء و اجداد۔* پس یقیناًیہ (تمام) میرے دشمن ہیں سوائے ربّ العالمین کے۔* جس نے مجھے پیدا کیا ۔ پس وہی ہے جو میری رہنمائی کرتا ہے۔* اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔* اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو مجھے شفا دیتا ہے۔* اور جو مجھے مارے گا اور پھر مجھے زندہ کرے گا۔* اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا سزا کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔* اے میرے ربّ! مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر۔* اور میرے لئے آخرین میں سچ کہنے والی زبان مقدّر کر دے۔* اور مجھے نعمتوں والی جنّت کے وارثوں میں سے بنا۔* (26:76-86) انہوں نے کہا کیا تُو ہمارے پاس کوئی حق لایا ہے یا تُو محض شغل کرنے والوں میں سے ہے۔* اس نے کہا بلکہ تمہارا ربّ آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں تمہارے لئے اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔* اور خدا کی قسم! میں ضرور تمہارے بتوں سے کچھ تدبیر کروں گا بعد اس کے کہ تم پیٹھ پھیرتے ہوئے چلے جاؤ گے۔* (21:56-58) پس وہ اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے چلے گئے۔* پھر وہ نظر بچا کر ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوا۔ پس پوچھا کیا تم کھاتے نہیں۔* تمہیں ہوا کیا ہے کہ تم بولتے نہیں۔* پھر اس نے ان کے خلاف مخفی کاروائی کی، داہنے ہاتھ سے ایک کاری ضرب لگاتے ہوئے۔*(37:91-94) پس اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے ان کے سردار کے تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔* انہوں نے کہا ہمارے معبودوں سے یہ کس نے کیا ہے؟ یقیناًوہ ظالموں میں سے ہے۔* انہوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو سنا تھا جو اُن کا ذکر کر رہا تھا۔ اسے ابراہیم کہتے ہیں ۔* انہوں نے کہا پس اسے لوگوں کی نظروں کے سامنے لے آؤ تا کہ وہ دیکھ لیں۔* انہوں نے کہا کیا تُو نے ہمارے معبودوں سے یہ کچھ کیا ہے؟ اے ابراہیم!۔*اس نے کہا بلکہ ان کے اس سردار نے یہ کام کیا ہے۔ پس ان سے پوچھ لو اگر وہ بول سکتے ہیں۔* پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف چلے گئے اور کہا کہ یقیناًتم ہی ظالم ہو۔* پس وہ سر بہ گریباں کر دئے گئے (اور بولے) تُو یقیناًجانتا ہے کہ یہ کلام نہیں کرتے۔* اس نے کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں ذرّہ بھر فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے؟۔* تُف ہے تم پر اور اُس پر جس کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ پس کیا تم عقل سے کام نہیں کرتے؟۔* انہوں نے کہا اِس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔*ہم نے کہا اے آگ! تُو ٹھنڈی پڑ جا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔* اور انہوں نے اُس سے ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے خود انہی کو کلیتہً نامراد کر دیا۔* اور ہم نے اسے اور لوط کو ایک ایسی زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے تمام جہانوں کے لئے برکت رکھی تھی۔*(21:59-72) کیا تُو نے اس شخص پر غور کیا جس نے ابراہیم سے اس کے ربّ کے بارہ میں اس بِرتے پر جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت عطا کی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ اس نے کہا میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا یقیناًاللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تُو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا مبہوت ہو گیا۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔* (2:259) اور ( کیا تُو نے اس پر بھی غور کیا) جب ابراہیم نے کہا اے میرے ربّ! مجھے دکھلا کہ تُو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ اُس نے کہا کیا تُو ایمان نہیں لا چکا؟ اُس نے کہا کیوں نہیں مگر اس لئے (پوچھا ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اُس نے کہا تُو چارپرندے پکڑ لے اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لے۔ پھر ان میں سے ایک ایک کوہر پہاڑ پر چھوڑ دے۔ پھر انہیں بُلا، وہ جلدی کرتے ہوئے تیری طرف چلے آئیں گے۔ اور جان لے کہ اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔* (2:261) اور (ابراہیم نے) کہا میں یقیناًاپنے ربّ کی طرف جانے والا ہوں وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔* اے میرے ربّ! مجھے صالحین میں سے (وارث) عطاکر۔* پس ہم نے اسے ایک بُردبار لڑکے کی بشارت دی۔* پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا اُس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! یقیناًمیں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس غور کر تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا اے میرے باپ! وہی کر جو تجھے حکم دیا جاتا ہے۔ یقیناًاگر اللہ چاہے گا تو مجھے تُو صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔* پس جب وہ دونوں رضا مند ہوگئے اور اس نے اُسے پیشانی کے بَل لٹا دیا۔* تب ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم!۔* یقیناًتُو اپنی رویا پوری کر چکاہے۔ یقیناًاسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔* یقیناًیہ ایک بہت کھلی کھلی آزمائش تھی۔* اور ہم نے ایک ذبحِ عظیم کے بدلے اُسے بچا لیا۔* اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔* ابراہیم پر سلام ہو۔* (37:100 – 114) اور یقیناًابراہیم کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے خوشخبری لے کر آئے۔ انہوں نے سلام کہا۔ اس نے بھی کہا سلام اور ذرا دیر نہ کی کہ ان کے پاس ایک بھُنا ہوا بچھڑا لے آیا۔* پھر جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اُس (کھانے) کی طرف بڑھ نہیں رہے تو اُس نے انہیں غیر سمجھا اور ان سے ایک خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا خوف نہ کر۔ یقیناًہمیں قومِ لوط کی طرف بھیجا گیا ہے۔* اور اس کی بیوی (پاس ہی) کھڑی تھی۔ پس وہ ہنسی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بھی۔* اس نے کہا اے وائے میرا غم! کیا میں بچہ جنوں گی جبکہ میں ایک بُڑھیا ہوں اور میرا خاوند بوڑھا ہے۔ یقیناًیہ تو بہت عجیب بات ہے۔* انہوں نے کہا کیا تُو اللہ کے فیصلے پر تعجب کرتی ہے۔ تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں اے اہلِ بیت! یقیناًوہ صاحبِ حمد (اور) بہت بزرگی والا ہے۔* (11:70-74) اور جب ابراہیم کو اس کے ربّ نے بعض کلمات سے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر دیا تو اُس نے کہا میں یقیناًتجھے لوگوں کے لئے عظیم امام بنانے والا ہوں۔ اُس نے عرض کیا اور میری ذرّیت میں سے بھی۔ اُس نے کہا (ہاں مگر) ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچے گا۔* اور جب ہم نے (اپنے) گھر کو لوگوں کے باربار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا۔ اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک و صاف بنائے رکھو۔* اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے ربّ! اس کو ایک پُر امن اور امن دینے والا شہر بنا دے اور اس کے بسنے والوں کو جو اُن میں سے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائے ہر قسم کے پھلوں میں سے رزق عطا کر۔ اُس نے کہا کہ جو کفر کرے گا اسے بھی میں کچھ عارضی فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر میں اسے آگ کی طرف جانے پر مجبور کر دوں گا اور (وہ) بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔*(2:125-127) اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا اے میرے ربّ! اس شہر کو امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔* اے میرے ربّ! انہوں نے یقیناًلوگوں میں سے بہتوں کو گمراہ بنا دیا ہے۔ پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقیناًمجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقیناًتُو بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔* اے ہمارے ربّ! یقیناًمیں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں تیرے معزز گھر کے پاس آباد کر دیا ہے۔ اے ہمارے ربّ! تا کہ وہ نماز قائم کریں۔ پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں میں سے رزق عطا کر تا کہ وہ شکر کریں۔* اے ہمارے ربّ! یقیناًتُو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں۔ اور یقیناًاللہ سے نہ زمین میں کچھ چھپ سکتا ہے اور نہ آسمان میں۔* سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کئے۔ یقیناًمیرا ربّ دعا کو بہت سننے والا ہے۔* اے میرے ربّ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔ اے ہمارے ربّ! اور میری دعا قبول کر۔*اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور مومنوں کو بھی جس دن حساب برپا ہو گا۔* (14:36-42) اور جب ابراہیم اس خاص گھر کی بنیادوں کو استوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی (یہ دعا کرتے ہوئے) کہ اے ہمارے ربّ! ہماری طرف سے قبول کر لے۔ یقیناًتُو ہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔* اور اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے دو فرمانبردار بندے بنا دے اور ہماری ذرّیت میں سے بھی اپنی ایک فرمانبردار امّت (پیدا کر دے)۔ اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جُھک جا۔ یقیناًتُو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور)بار بار رحم کرنے والا ہے۔* اور اے ہمارے ربّ! تُو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس کی) حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ کر دے۔ یقیناًتُو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔*اور کون ابراہیم کی ملّت سے اعراض کرتا ہے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو بے وقوف بنا دیا۔ اور یقیناًہم نے اُس (یعنی ابراہیم) کو دنیا میں بھی چُن لیا اور یقیناًآخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہو گا۔* (یادکرو) جب اللہ نے اُس سے کہا کہ فرمانبردار بن جا۔ تو (بے ساختہ) اس نے کہا میں تو تمام جہانوں کے ربّ کے لئے فرمانبردار ہو چکا ہوں۔* اور اسی بات کی تاکیدی نصیحت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی (کہ) اے میرے پیارے بچو! یقیناًاللہ نے تمہارے لئے اس دین کو چُن لیا ہے۔ پس ہر گز مرنا نہیں مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔* (2:128-133)

لوط کی قوم نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا تھا۔* جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرو گے؟۔* یقیناًمیں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں۔* پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔* اور میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو محض تمام جہانوں کے ربّ پر ہے۔* کیا تم دنیا بھر میں مردوں ہی کے پاس آتے ہو؟۔* اور اسے چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے ربّ نے تمہارے لئے تمہارے ساتھی پیدا کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔* انہوں نے کہا اے لوط! اگر تُو باز نہ آیا تو یقیناًتُو ( اس بستی سے) نکالے جانے والوں میں سے ہو جائے گا۔* اس نے کہا یقیناًمیں تمہارے کردار سے سخت بیزار ہوں۔* اے میرے ربّ! مجھے اور میرے اہل کو اس سے نجات بخش جو وہ کرتے ہیں۔* (26:161-170) پس جب آلِ لوط کے پاس پیغمبر پہنچے۔* اس نے کہا تم یقیناًاجنبی لوگ ہو۔* انہوں نے جواب دیا بلکہ ہم تو تیرے پاس وہ (خبر) لائے ہیں جس کے متعلق وہ شک میں مبتلا رہتے تھے۔* اور ہم تیرے پاس حق کے ساتھ آئے ہیں اور یقیناًہم سچے ہیں۔* پس اپنے اہل کو لے کر رات کے ایک حصے میں نکل کھڑا ہو اور ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور تم چلتے رہو جس طرف (چلنے کا) تمہیں حکم دیا جاتا ہے۔* اور ہم نے اسے یہ فیصلہ سنا دیا کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے وقت کاٹی جا چکی ہو گی۔* اور شہر کے رہنے والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے۔* اس نے کہا یہ میرے مہمان ہیں پس مجھے رسوا نہ کرو۔* اور اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔* انہوں نے کہا کیا ہم نے تجھے سب جہانوں (سے راہ و رسم رکھنے) سے منع نہیں کیا تھا؟۔* اس نے کہا (دیکھو) یہ میری بیٹیاں ہیں (ان کی حیا کرو) اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔* (اللہ نے وحی کی کہ) تیری عمر کی قسم! یقیناًوہ اپنی بدمستی میں بھٹک رہے ہیں۔* پس انہیں ایک گونج دار عذاب نے صبح ہوتے آ پکڑا۔* پس ہم نے اس (بستی) کو تہ و بالا کر دیا اور ان پر ہم نے کنکر وں والی مٹی سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔* (15:62-78) پس ہم نے اسے اور اس کے اہل کو نجات عطا کی ۔* سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔*پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا۔*اور ان پر ہم نے ایک بارش برسائی۔ پس بہت بُری تھی ڈرائے جانے والوں کی بارش۔* یقیناًاس میں ایک بڑا نشان تھا۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔* ( 26:171-175)

(یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! یقیناًمیں نے (رویاء میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں۔ (اور) میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ ریز دیکھا۔* اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! اپنی رویاء اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال چلیں گے۔ یقیناًشیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔* اور اسی طرح تیرا رب تجھے (اپنے لئے) چُن لے گا اور تجھے معاملات کی تہہ تک پہنچنے کا علم سکھا دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گااور آلِ یعقوب پر بھی جیسا کہ اس نے اُسے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پہلے تمام کیا تھا۔ یقیناًتیرا رب دائمی علم رکھنے والا (اور) حکمت والا ہے۔* یقیناًیوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعہ) میں پوچھنے والوں کے لئے کئی نشانات ہیں۔* (یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ یقیناًیوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک مضبوط ٹولی ہیں۔ یقیناًہمارا باپ ایک ظاہر و باہر غلطی میں مبتلا ہے۔* یوسف کو قتل کر ڈالو یا اسے کسی جگہ پھینک آؤ تو تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لئے رہ جائے گی اور تم اس کے بعد نیک لوگ بن جانا۔*اُن میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی کنویں کی اوجھل تہوں میں پھینک دو جو چراگاہ کے پاس واقع ہو۔ اسے کوئی قافلہ اٹھا لے جائے گا۔ (یہی کرو) اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔* انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! تجھے کیا ہوا ہے کہ تُو یوسف کے بارہ میں ہم پر اعتماد نہیں کرتا جب کہ ہم تو یقیناًاس کے خیر خواہ ہیں۔* اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دے تا وہ کھاتا پھرے اور کھیلے جب کہ ہم اس کے یقیناًمحافظ ہوں گے۔* اس نے کہا یقیناًمجھے یہ بات فکر میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے جب کہ تم اس سے غافل ہو۔* انہوں نے کہا اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ ہم ایک مضبوط ٹولی ہیں تب تو ہم یقیناًبہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔* پس جب وہ اسے لے گئے اور اس بات پر متفق ہو گئے کہ اسے ایسے کنویں کی اوجھل تہوں میں پھینک دیں جو چراگاہ کے پاس واقع تھا تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تُو (ایک دن) یقیناًانہیں ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرے گا اور انہیں کچھ پتا نہ ہو گا (کہ تُو کون ہے)۔* اور رات کے وقت وہ اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔* انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! یقیناًہم ایک دوسرے سے دوڑ لگاتے ہوئے (دُور) چلے گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پس اسے بھیڑیا کھا گیا اور تُو کبھی ہماری ماننے والا نہیں خواہ ہم سچے ہی ہوں۔* اور وہ اس کی قمیض پر جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمہارے نفوس نے ایک بہت سنگین بات تمہارے لئے معمولی اور آسان بنا دی ہے۔ پس صبرِ جمیل (کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں) اور اللہ ہی ہے جس سے اس (بات) پر مدد مانگی جائے جو تم بیان کرتے ہو۔* اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنا پانی نکالنے والابھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈال دیا۔ اس نے کہا اے (قافلہ والو) خوشخبری! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے ایک پونجی کے طور پر چھپا لیا اور اللہ اسے خوب جانتا تھا جو وہ کرتے تھے۔* اور انہوں نے اسے معمولی قیمت چند درہم کے عوض فروخت کر دیا اور وہ اس کے بارہ میں بالکل بے رغبت تھے۔* اور جس نے اسے مصر سے خریدا اپنی بیوی سے کہا اسے عزت کے ساتھ ٹھہراؤ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ اور اس طریقہ سے ہم نے یوسف کے لئے زمین میں جگہ بنا دی اور (یہ خاص انتظام اس لئے کیا) تا کہ ہم اسے معاملات کی تہہ تک پہنچنے کا علم سکھا دیں اور اللہ اپنے فیصلہ پر غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔* اور جب وہ اپنی مضبوطی کی عمر کو پہنچا تو اسے ہم نے حکمت اور علم عطا کی اور اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔* اور اس عورت نے جس کے گھر میں وہ تھا اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی اور دروازے بند کر دئیے اور کہا تم میری طرف آؤ۔ اس (یوسف) نے کہا خدا کی پناہ! یقیناًمیرا رب وہ ہے جس نے میرا ٹھکانہ بہت اچھا بنایا۔ یقیناًظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے۔* اور یقیناًوہ اس کا پختہ ارادہ کر چکی تھی اور وہ (یعنی یوسف) بھی اس کا ارادہ کر لیتا اگر اپنے رب کی ایک عظیم برہان نہ دیکھ چکا ہوتا۔یہ طریق اس لئے اختیار کیا تا کہ ہم اس سے بدی اور فحشاء کو دور رکھیں۔ یقیناًوہ ہمارے خالص کئے گئے بندوں میں سے تھا۔* اوروہ دونوں دروازے کی طرف لپکے اور اس (عورت) نے پیچھے سے (اسے کھینچتے ہوئے) اس کی قمیص پھاڑ دی اور ان دونوں نے اس کے سرتاج کو دروازے کے پاس پایا۔ اس (عورت) نے کہا جو تیرے گھر والی سے بدی کا ارادہ کرے اس کی جزا قید کئے جانے یا دردناک عذاب کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔* اس (یعنی یوسف) نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ اور اس کے گھر والوں ہی میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کی قمیص سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ سچ کہتی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے۔* اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ جھوٹ بول رہی ہے اور وہ سچوں میں سے ہے۔* پس جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو (بیوی سے) کہایقیناًیہ (واقعہ) تمہاری چالبازی سے ہوا۔ یقیناًتمہاری چالبازی (اے عورتو!) بہت بڑی ہوتی ہے۔* اے یوسف! اس سے اعراض کر اور تُو (اے عورت!) اپنے گناہ کی وجہ سے استغفار کر۔ یقیناًتُو ہی ہے جو خطاکاروں میں سے تھی۔* اور شہر کی عورتوں نے کہا کہ سردار کی بیوی اپنے غلام کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلاتی ہے۔ اس نے محبت کے اعتبار سے اس کے دل میں گھر کر لیا ہے۔ یقیناًہم اسے ضرور ایک کھلی کھلی گمراہی میں پاتی ہیں۔* پس جب اُس نے ان کی مکاری کی بات سنی تو انہیں بُلا بھیجا اور ان کے لئے ایک ٹیک لگا کر بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری پکڑا دی اور اس (یعنی یوسف) سے کہا کہ ان کے سامنے جا۔ پس جب انہوں نے اسے دیکھا اسے بہت عالی مرتبہ پایا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا پاک ہے اللہ۔ یہ انسان نہیں۔ یہ تو ایک معزز فرشتہ کے سوا کچھ نہیں۔* وہ بولی یہی وہ شخص ہے جس کے بارہ میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور یقیناًمیں نے اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تو وہ بچ گیا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور ضرور ذلیل لوگوں میں سے ہو جائے گا۔* اس نے کہا اے میرے ربّ! قید خانہ مجھے زیادہ پیارا ہے اس سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں۔ اور اگر تُو مجھ سے اُن کی تدبیر(کا منہ) نہ پھیر دے تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا اور میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا۔* پس اس کے ربّ نے اس کی دعا کو سُنا اور اس سے ان کی چال کو پھیر دیا۔ یقیناًوہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔*پھر بعد اس کے جو آثار انہوں نے دیکھے اُن پر ظاہر ہوا کہ کچھ عرصہ کے لئے اسے ضرور قید خانہ میں ڈال دیں۔* اور اس کے ساتھ قید خانہ میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یقیناًمیں (رؤیا میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب بنانے کی خاطر رَس نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں (رؤیا میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ اپنے سَر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں ۔ ہمیں ان کی تعبیر سے مطلع کر۔ یقیناًہم تجھے احسان کرنے والے لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں۔* اس نے کہا کہ تم دونوں تک وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمہیں دیا جاتاہے کہ میں تمہارے پاس اس کے آنے سے پہلے ہی اِن (خوابوں) کی تعبیر سے تم دونوں کو مطلع کر چکا ہوں گا۔ یہ (تعبیر) اس (علم) میں سے ہے جو میرے ربّ نے مجھے سکھایا۔ یقیناًمیں اس قوم کے مسلک کو چھوڑ بیٹھا ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے تھے اور وہ آخرت کا انکار کرتے تھے۔* اور میں نے اپنے آباء و اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔ ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے۔ یہ اللہ کے فضل ہی سے تھا جو اس نے ہم پر اور (مومن) انسانوں پر کیا لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔* اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! کیا کئی مختلف ربّ بہتر ہیں یا ایک صاحبِ جبروت اللہ؟۔* تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر ایسے ناموں کی جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے خود ہی ان (فرضی خداؤں) کو دے رکھے ہیں جن کی تائید میں اللہ نے کوئی غالب آنے والی برہان نہیں اتاری۔ فیصلے کا اختیار اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا تم کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہ قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا دین ہے لیکن اکثر انسان نہیں جانتے۔* اے قید خانہ کے ساتھیو! جہاں تک تم دونوں میں سے ایک کا تعلق ہے تو وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جہاں تک دوسرے کاتعلق ہے تو وہ سولی پر چڑھایا جائے گاپس پرندے اس کے سر میں سے کچھ (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔ اُس بات کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس کے بارہ میں تم دونوں استفسار کر رہے تھے۔* اور اس نے اُس شخص سے جس کے متعلق خیال کیا تھا کہ ان دونوں میں سے وہ بچ جائے گا کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اُسے بھُلا دیا کہ اپنے آقا کے پاس (یہ) ذکر کرے۔ پس وہ چند سال تک قید خانہ میں پڑا رہا۔* اور بادشاہ نے (دربار میں) بیان کیا کہ میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دُبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سر سبز بالیں اور کچھ دوسری سوکھی ہوئی بھی (دیکھتا ہوں)۔ اے سردارو! مجھے میری رؤیا کے بارہ میں تعبیر سمجھاؤ اگر تم خوابوں کی تعبیر کر سکتے ہو۔* انہوں نے کہا یہ پراگندہ خیالات پر مشتمل نفسانی خوابیں ہیں اور ہم نفسانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے۔* اور اس شخص نے جو اُن دونوں (قیدیوں) میں سے بچ گیا تھا اور ایک طویل مدّت کے بعد اس نے (یوسف کو) یاد کیا، یہ کہا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا پس مجھے (یوسف کی طرف) بھیج دو۔* یوسف اے راستباز! ہمیں سات موٹی گائیوں کا جنہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہوں اور سات سبزوشاداب بالیوں اور دوسری سوکھی ہوئی بالیوں کے بارہ میں مسئلہ سمجھا تا کہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید کہ وہ (اس کی تعبیر) معلوم کر لیں۔* اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔ پس جو تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں رہنے دو سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔*پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے آگے بھیجا ہو گا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے) سنبھال رکھو گے۔* پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ خوب سیراب کئے جائیں گے اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔* بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ پس جب ایلچی اس (یعنی یوسف) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو اُن عورتوں کا کیا قصہ ہے جو اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ یقیناًمیرا ربّ ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔* اس (بادشاہ) نے پوچھا (اے عورتو!) بتاؤ تمہار اکیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہاتھا۔ انہوں نے کہا پاک ہے اللہ۔ ہمیں تو اس کے خلاف کسی برائی کا علم نہیں۔ سردار کی بیوی نے کہا اب سچائی ظاہر ہو چکی ہے۔ میں نے ہی اسے اس کے نفس کے خلاف پھسلانا چاہا تھا اور یقیناًوہ صادقوں میں سے ہے۔* یہ اس لئے ہوا تا کہ وہ (عزیزِ مصر) جان لے کہ میں (یعنی یوسف) نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور یقیناًاللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو سِرے نہیں چڑھاتا۔* اور میں اپنے نفس کو بَری قرار نہیں دیتا یقیناًنفس تو بدی کا بہت حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا ربّ رحم کرے۔ یقیناًمیرا ربّ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔* اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ میں اُسے اپنے لئے چن لوں۔ پھر جب وہ اس سے ہم کلام ہوا تو کہا یقیناًآج (سے) تُو ہمارے حضور بہت تمکنت والا (اور) قابلِ اعتماد ہے۔* اُس نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے۔ میں یقیناًبہت حفاظت کرنے والا (اور) صاحبِ علم ہوں۔* اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں تمکنت دی۔ وہ اس میں جہاں چاہتا ٹھہرتا۔ ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچاتے ہیں۔ اور ہم احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتے۔* اور آخرت کا اجر یقیناًان لوگوں کے لئے بہترہے جو ایمان لے آئے اور تقویٰ سے کام لیتے رہے۔* اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے حضور پیش ہوئے۔ پس اس نے انہیں پہچان لیا جب کہ وہ اس سے ناواقف رہے۔* اور جب اس نے انہیں ان کے سامان کے ساتھ (رخصت کے لئے) تیار کیا توکہا تمہارے باپ کی طرف سے جو تمہار ابھائی ہے اسے بھی میرے پاس لاؤ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں بھرپور ماپ دیتا ہوں اور میں بہترین میزبان ہوں۔* پس اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو پھر تمہارے لئے میرے پاس کچھ ماپ نہیں ہو گا اور تم میرے قریب بھی نہ آنا۔* انہوں نے کہا ہم اس کے بارہ میں اس کے باپ کو ضرور پھُسلائیں گے اور ہم یقیناًضرور کر گزرنے والے ہیں۔* اور اس نے اپنے کارندوں سے کہا کہ ان کی پونجی ان کے سامان ہی میں رکھ دو تا کہ وہ اس بات کا پاس کریں جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں تا کہ شاید وہ پھر لوٹ آئیں۔* پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہم سے ماپ روک دیا گیا ہے۔ پس ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج تا کہ ہم ماپ حاصل کر سکیں اور یقیناًہم اس کے ضرور محافظ رہیں گے۔* اس نے کہا کیا میں اس کے متعلق اس کے سوا بھی تم پر کوئی اعتماد کر سکتا ہوں جیسا کہ میں نے اس کے بھائی کے بارہ میں (اس سے) پہلے تم پر کیا تھا؟ پس اللہ ہی ہے جو بہترین حفاظت کرنے والا اور وہی سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔* پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنی پونجی کو اپنی طرف واپس کیا ہو اپایا۔ انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمیں (اور) کیا چاہیئے یہ ہے ہماری پونجی (جو) ہمیں واپس لوٹا دی گئی ہے۔ اور ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ مزید حاصل کر لیں گے۔ یہ تو بہت آسان سودا ہے۔* اس نے کہا میں ہر گز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ تم اللہ کے حوالے سے مجھے پختہ عہد دو کہ تم ضرور اسے میرے پاس (واپس) لے آؤ گے سوائے اس کے کہ تمہیں گھیر لیا جائے۔ پس جب انہوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگران ہے۔* اور اس نے کہا اے میرے بیٹو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں اللہ (کی تقدیر) سے کچھ بھی بچا نہیں سکتا۔ حکم اللہ ہی کا چلتا ہے۔ اسی پر میں توکل کرتا ہوں اور پھر چاہیئے کہ اسی پر سب توکل کرنے والے توکل کریں۔* پس جب وہ جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا داخل ہوئے۔ وہ اللہ کی تقدیر سے تو انہیں قطعاً بچا نہیں سکتا تھا مگر محض یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کی۔ اور یقیناًوہ صاحبِ علم تھا اس لئے کہ ہم نے اسے اچھی طرح علم سکھایا تھا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔* پس جب وہ یوسف کے سامنے پیش ہوئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے قریب جگہ دی (اور) کہا یقیناًمیں تیرا بھائی ہوں۔ پس جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس پر غمگین نہ ہو۔* پھر جب اس نے انہیں ان کے سامان سمیت (رخصت کے لئے) تیار کیا تو اس نے (بے خیالی میں) اپنے بھائی کے سامان میں پینے کا برتن رکھ دیا۔ پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلہ والو! تم ضرور چور ہو۔* انہوں نے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جواب دیا تم کیا گم پاتے ہو۔* انہوں نے کہا ہم بادشاہ کا ماپ تول کا پیمانہ گم کیا ہوا پاتے ہیں اور جو بھی اسے لائے گا اسے ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) دیا جائے گا اور میں اس بات کا ذمہ دار ہوں۔* انہوں نے ( جواباً)کہا اللہ کی قسم! تم یقیناًجان چکے ہو کہ ہم اس لئے نہیں آئے کہ زمین میں فساد کریں اور ہم ہر گز چور نہیں ہیں۔* انہوں نے پوچھا پر اس کی کیا جزا ہوگی اگر تم جھوٹے نکلے؟۔* انہوں نے جواب دیا اس کی جزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ (پیمانہ) پایا جائے وہی اس کی جزا ہوگا۔ اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیا کرتے ہیں۔* پھر اس (اعلان کرنے والے) نے اس (یعنی یوسف) کے بھائی کے بورے سے پہلے ان کے بوروں سے شروع کیا پھر اس کے بھائی کے بورے میں سے اس (پیمانہ) کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کی حکمرانی میں روک لیتا سوائے اسکے کہ اللہ چاہتا۔ ہم جسے چاہیں درجات کے لحاظ سے بلند کرتے ہیں اور ہر علم رکھنے والے سے برتر ایک صاحبِ علم ہے۔* انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی تو یوسف نے اس (الزام کے اثر) کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اسے ان پر ظاہر نہ کیا۔ (ہاں دل ہی دل میں) کہا تم مقام کے لحاظ سے بدترین ہواور اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔* انہوں نے کہا اے صاحبِ اختیار! یقیناًاس کا باپ بہت بوڑھا شخص ہے۔ پس اس کی بجائے ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے۔ یقیناًہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔* اس نے کہا اللہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم اپنا سامان پائیں اس کے سوا کسی اور کو پکڑیں۔ تب تو ہم یقیناًظلم کرنے والے بن جائیں گے۔* پس جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو مشورہ کے لئے علیحدہ ہوئے۔ ان کے بڑے نے کہا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کے حوالہ سے تم پر واجب پختہ عہد لیا تھا اور (اس سے) پہلے بھی تم یوسف کے معاملہ میں زیادتی کر چکے ہو۔ پس میں ہرگز یہ ملک نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا میرے لئے اللہ کوئی فیصلہ کر دے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔* اپنے باپ کی طرف واپس جاؤ اور اسے کہو کہ اے ہمارے باپ ! یقیناًتیرے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم سوائے اس کے جس کا ہمیں علم ہے کوئی گواہی نہیں دے رہے اور ہم یقیناًغیب کے محافظ نہیں۔* پس اس بستی (والوں) سے پوچھ جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی جس میں شامل ہوکر ہم آئے ہیں اور یقیناًہم سچے ہیں۔* اس نے کہا (نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے ایک بہت بڑے معاملے کو تمہارے لئے ہلکا اور معمولی بنا دیا ہے۔ پس صبرِ جمیل (کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں) ۔ عین ممکن ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ یقیناًوہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔* اور اس نے ان سے توجہ پھیر لی اور کہا وائے افسوس یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غم سے ڈبڈبا آئیں اور وہ اپنا غم دبانے والا تھا۔* انہوں نے کہا خداکی قسم! تُو ہمیشہ یوسف ہی کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تُو (غم سے) نڈھال ہو جائے یا ہلاک ہو جانے والوں میں سے ہو جائے۔* اس نے کہا میں تو اپنے رنج و الم کی صرف اللہ کے حضور فریاد کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔* اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کے متعلق کھوج لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقیناًاللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتامگر کافر لوگ۔* پس جب وہ اس کی جناب میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا اے صاحبِ اختیار! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے اور ہم تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔ پس ہمیں بھر پور تول عطا کر اور ہم پر صدقہ کر۔ یقیناًاللہ صدقہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔* اس نے کہا کیا تم جانتے ہو جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے کیا تھاجب تم جاہل لوگ تھے۔* انہوں نے کہا کیا واقعی تُو ہی یوسف ہے؟ اس نے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے یقیناًہم پر بہت احسان کیا ہے۔ یقیناًجو بھی تقویٰ کرے اور صبر کرے تو اللہ ہر گز احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔* انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ نے یقیناًتجھے ہم پر فضیلت دی ہے اور یقیناًہم ہی خطا کار تھے۔* اس نے کہا آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے گا اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔* میری یہ قمیص ساتھ لے جاؤ اور میرے باپ کے سامنے اسے ڈال دو اس پر حقیقت واضح ہو جائے گی اور (بعد میں) میرے پاس اپنے سب گھر والوں کو لے آؤ۔* پس جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا یقیناًمجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے خواہ تم مجھے دیوانہ ٹھہراتے رہو۔* انہوں نے کہا اللہ کی قسم! یقیناًتُو اپنی اُسی پرانی غلطی میں مبتلا ہے۔* پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) اس نے اس( قمیص) کو اس کے سامنے ڈال دیا تو اس پر حقیقت واضح ہوگئی۔ اس نے کہا کیا میں تمہیں نہیں کہتا تھا کہ میں یقیناًاللہ کی طرف سے ان باتوں کا علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟۔* انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کر۔ یقیناًہم خطا کار تھے۔* اس نے کہا میں ضرور تمہارے لئے اپنے ربّ سے بخشش طلب کروں گا۔ یقیناًوہی بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔* پس جب وہ یوسف کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے قریب جگہ دی اور کہا کہ اگر اللہ چاہے تو مصر میں امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔* اوراس نے اپنے والدین کو عزت کے ساتھ تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کی خاطر سجدہ ریز ہوگئے۔ اور اس نے کہا اے میرے باپ! یہ تعبیر تھی میری پہلے سے دیکھی ہو ئی رؤیا کی۔ میرے ربّ نے اسے یقیناًسچ کر دکھایا اور مجھ پر بہت احسان کیا جب اس نے مجھے قید خانہ سے نکالا اور تمہیں صحرا سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان رخنہ ڈال دیا تھا۔ یقیناًمیرا ربّ جس کے لئے چاہے بہت لطف و احسان کرنے والا ہے۔ بے شک وہی دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔* اے میرے ربّ! تُو نے مجھے امورِ سلطنت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی اصلیّت سمجھنے کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تُو دنیا اور آخرت میں میرا دوست ہے۔ مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زُمرہ میں شامل کر۔* ( سورۃ یوسف ۔ 5تا 102 )

احادیث کی چھ مستند کتابوں کے نام

  1. صحیح بخاری
  2.  صحیح مسلم
  3.  جامع ترمذی
  4.  سنن ابن ماجہ
  5.  سنن نسائی
  6.  سنن ابو داؤد
  1. یَاْ تُـوْنَ مِنْ کُـلِّ فَــجٍ عَـمِیْـقِ (ترجمہ : تیرے پاس لوگ ہر ایک گہرے راستہ سے آئیں گے)
  2. اِنِّـیْ اُحَافِــظُ کُـلَّ مَنْ فِـی الــدَّارِ (ترجمہ : میں ہر ایک کی جو تیرے ’’ دار ‘‘ میں ہے حفاظت کرنے والا ہوں)
  3. آسمان سے دودھ اترا محفوظ رکھو
  4. قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے ۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے
  5. مَکَنْ تَکْیَہ بَر عُمْرِ ناپائیدار   (ترجمہ : اس ناپائیدار زندگی پر بھروسہ مت کرو)
  6. اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ   (ترجمہ:کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں)
  7. میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا

ان دس مبارک صحابہ کے نام جن کی زندگی میں ہی آنحضرت ﷺ نے انہیں جنّت کی بشارت دے دی تھی

  1. حضرت ابوبکرؓ
  2.  حضرت عمرؓ
  3.  حضرت عثمانؓ
  4.  حضرت علیؓ
  5. حضرت ابو طلحہؓ
  6.  حضر ت ابو عبیدہ بن الجراحؓ
  7.  حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ
  8. حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
  9.  حضرت زبیر بن العوامؓ
  10. حضرت سعید بن زیدؓ
  1. حضرت امام ابو حنیفہؓ
  2.  حضرت امام شافعیؓ
  3. حضرت امام مالکؓ
  4.  حضرت امام احمد بن حنبلؓ

اَشْــھَـدُ اَنْ لَّآ  اِلٰــہَ اِلَّا الـلّٰـہُ وَحْــدَہٗ لَا شَـرِیْکَ لَــہٗ وَ اَشْــھَـدُ اَنَّ مُـحَـمَّــدًا عَــبْـدُہ‘ وَرَسُوْلُــہٗ

اطفال

میں وعدہ کرتا ہوں کہ دین اسلام اور جماعتِ احمدیہ، قوم اوروطن کی خدمت کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔ ہمیشہ سچ بولوں گا۔ کسی کو گالی نہیں دوں گا۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح کی تمام نصیحتوں پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

خدام

میں اقرار کرتا ہوں کہ دینی، قومی اور ملّی مفاد کی خاطر میں اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔ اسی طرح خلافتِ احمدیہ کے قائم رکھنے کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہوں گا اور خلیفۂ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

ناصرات

میں اقرار کرتی ہوں کہ اپنے مذہب ، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے ہروقت تیار رہوں گی۔اور سچائی پر ہمیشہ قائم رہوں گی اور خلافتِ احمدیہ کے قائم رکھنے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہوں گی ۔ان شاء اللہ تعالیٰ

اماء اللّٰہ

میں اقرار کرتی ہوں کہ اپنے مذہب اور قوم کی خاطر اپنی جان، مال، وقت اوراولاد کو قربان کرنے کے لئے تیار رہوں گی۔ نیز سچائی پر ہمیشہ قائم رہوں گی اور خلافتِ احمدیہ کے قائم رکھنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہوں گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِـمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِـمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِـمۡ ؕ (المائدہ: 118)۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے جب تک میں ان میں موجود رہا۔ مَیں ان کا نگران رہا۔ مگر اے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی تو توُ ہی ان پر نگران تھامَیں نہ تھا
وَ مَا مُـحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الـرُّسُلُ ؕ (آل عمران :145)
محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ آپ ﷺسے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔


کَـیْـفَ اَنْــتُـمْ اِذَا نَـزَلَ ابْـنُ مَـرْ یَــمَ فِـیْـکُـمْ وَ اِمَـامُـکُـمْ مِـنْـکُـمْ (صحیح بخاری)
تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور وہ تم میں سے ہی تمہارا امام ہو گا۔
اِمَـامًـا مَّـھْـدِیًّــا حَکَـمًا عَــدَلًا فَـیَـکْـسِـرُ الــصَّـلِـیْـبَ (مسند احمد بن حنبل)
آنے والا موعود) امام مہدی عدل کے ساتھ صحیح فیصلہ کرنے والا ہوگا اور صلیب کو توڑے گا۔
اَ لَا مَـنْ اَدْرَکَــہٗ فَـلْـیَـقْـرَءْ عَــلَـیْـہِ السَّلَا مَ (طبرانی)
اے مسلمانو! سنو جو تم میں سے اس امام مسیح موعود کو پائے۔ وہ میری طرف سے انہیں میرا سلام پہنچا دے۔

ہر واقفِ نو کو اپنی جماعت یا حلقہ کے نام کا علم ہونا چاہئے

سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تربیتی نقطۂ نظر سے جماعت کے احباب و خواتین کو مختلف ذیلی تنظیموں میں تقسیم فرمایا۔ ان تنظیموں کے بارہ میں یہ بات نوٹ فرمانے کے قابل ہے کہ یہ خالصۃً مذہبی تنظیمیں ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یہ تنظیمیں متعلقہ احباب و خواتین کی تعلیم و تربیت کی ذمہ دار ہیں اور ان کی اخلاقی‘ دینی‘ روحانی‘ ذہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتی رہتی ہیں۔ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا اپنی عمر کے اعتبار سے ان تنظیموں سے منسلک رہنا ضروری ہے۔

مجلس خدام الاحمدیہ

مجلس خدام الاحمدیہ احمدی نوجوانوں کی روحانی تنظیم ہے جس کا قیام حضرت مصلح موعودؓ کی زیرِہدایت جنوری 1938 ؁ء میں عمل میں لایا گیا ۔یہ تنظیم پندرہ(15) سے چالیس(40)سال کی عمرتک کے مرداحباب پر مشتمل ہے۔اس تنظیم کا ہر رکن خادم کہلاتا ہے ۔ اس مجلس کے قوانین حضرت خلیفۃ المسیح کی منظوری سے مقرر ہیں جن کو ’’دستورِ اساسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور کام کرنے کے طریقِ کار بھی مقرر ہیں جو مجلس کا ’’لائحہ عمل‘‘ کہلاتے ہیں۔اس تنظیم کا تنظیمی و مالی سال نومبرسے اکتوبر تک ہوتا ہے۔ یہ تنظیم صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے جس کا ہر دو سال بعد شوریٰ کے موقع ہر انتخاب ہوتا ہے۔ صدرِمجلس اورنیشنل عاملہ کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں۔ جبکہ دوسرے تمام عہدیداران کی منظوری صدرِمجلس دیتے ہیں۔ نیشنل سطح پرعاملہ ممبران کو „مہتمم “ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ریجنل، زونل اور مجلس کی سطح پر عاملہ ممبران ناظمین کہلاتے ہیں مثلاًناظم تعلیم یا ناظم تربیت وغیرہ۔اس مجلس کے مالی معاملات کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ہر خادم چندہ مجلس دیتا ہے جو ماہانہ آمد کا ایک فیصد (1% ) ہوتا ہے۔ اسی طرح سالانہ اجتماع کے لئے ایک ماہ کی آمد کا 2,5% سالانہ دیتا ہے۔لیکن کم از کم چندہ مجلس 36یورو اور چندہ اجتماع 24یورو سالانہ مقرر ہے۔ چندہ اشاعت 3یورو سالانہ ہوتا ہے۔خدام کی دینی تعلیم کے لئے نصاب مقرر ہے۔ دینی تعلیم کے لئے روزانہ یا ہفتہ وار یا پندرہ روزہ تربیتی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس مجلس کا مہینہ میں کم از کم ایک اجلاس ہوتا ہے اور سال میں ایک دفعہ زونل یاریجنل اور نیشنل اجتماع ہوتا ہے جس میں علمی اور ورزشی مقابلہ جات بھی ہوتے ہیں۔ اس تنظیم کا ماٹو ہے ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی‘‘

مجلس اطفال الاحمدیہ

مجلس اطفال الاحمدیہ احمدی بچوں کی تنظیم ہے جو صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت کام کرتی ہے۔ نیشنل سطح پر اس کے نگران کو مہتمم اطفال کہتے ہیں۔ مجلس کی سطح پر قائد مجلس کے تحت ناظم اطفال کی زیر نگرانی کام ہوتا ہے۔ عاملہ کے ممبر کو سیکریٹری کہا جاتا ہے جیسے سیکریٹری عمومی یا سیکریٹری تعلیم وغیرہ۔اس مجلس میں 7سال سے 15سال کے احمدی بچے شامل ہوتے ہیں جن کے مزید دو گروپس ہوتے ہیں۔ 7سال سے 12 سال کے اطفال ’’معیار صغیر‘‘ میں جبکہ 12سال سے 15سال کے اطفال ’’معیار کبیر‘‘ میں شامل ہوتے ہیں۔ مالی قربانی کی عادت ڈالنے کے لئے اطفال کا چندہ مجلس 13یورو اور چندہ اجتماع 6یورو سالانہ مقرر ہے۔ اطفال کی دینی تعلیم کے لئے کتب ’’کامیابی کی راہیں‘‘ نصاب کے طور پر مقرر ہیں۔ دینی تعلیم کے لئے روزانہ یا ہفتہ وار یا پندرہ روزہ تربیتی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس مجلس کا مہینہ میں کم از کم ایک اجلاس ہوتا ہے اور سال میں ایک دفعہ زونل یاریجنل اور نیشنل اجتماع ہوتا ہے جس میں علمی اور ورزشی مقابلہ جات بھی ہوتے ہیں

مجلس ناصرات الاحمدیہ

مجلس ناصرات الاحمدیہ احمدی بچیوں کی تنظیم ہے جو نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ کے تحت کام کرتی ہے۔ نیشنل سطح پر اس کی نگران نیشنل سیکریٹری ناصرات کہلاتی ہیں۔ مجلس کی سطح پرصدر لجنہ کے تحت سیکریٹری ناصرات کی زیر نگرانی کام ہوتا ہے۔ اس مجلس میں 7سال سے 15سال کی احمدی بچیاں شامل ہوتی ہیں جن کے مزیدتین گروپس ہوتے ہیں۔ 7سال سے 10 سال کی ناصرات ’’معیار سوم‘‘، 11سال سے 13 سال کی ناصرات ’’معیاردوم‘‘ اور 14سال سے 15 سال کی ناصرات ’’معیاراوّل‘‘ میں شامل ہوتی ہیں۔ مالی قربانی کی عادت ڈالنے کے لئے ناصرات کا ’’چندہ مجلس‘‘ 12یورو اور چندہ اجتماع 5یورو سالانہ مقرر ہے۔ ناصرات کی دینی تعلیم کے لئے نصاب مقرر ہے۔ دینی تعلیم کے لئے روزانہ یا ہفتہ وار یا پندرہ روزہ تربیتی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس مجلس کا مہینہ میں کم از کم ایک اجلاس ہوتا ہے اور سال میں ایک دفعہ ریجنل اور نیشنل اجتماع ہوتا ہے جس میں علمی اور ورزشی مقابلہ جات بھی ہوتے ہیں۔

لجنہ اماء اللہ

لجنہ اماء اللہ احمدی خواتین کی روحانی تنظیم ہے جس کا قیام حضرت مصلح موعودؓ کی زیرِہدایت جنوری 1922 ؁ء میں عمل میں لایا گیا ۔یہ تنظیم پندرہ سال سے بڑی عمرکی خواتین پر مشتمل ہے۔تنظیم کے قوانین حضرت خلیفۃ المسیح کی منظوری سے مقرر ہیں جنکو ’’دستورِ اساسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور کام کرنیکے طریقِ کار بھی مقرر ہیں جو مجلس کا ’’ لائحہ عمل‘‘ کہلاتے ہیں۔اس تنظیم کا تنظیمی و مالی سال اکتوبرسے ستمبر تک ہوتا ہے۔ یہ تنظیم نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی کام کرتی ہے جس کا ہر دو سال بعد شوریٰ کے موقع پر انتخاب ہوتا ہے۔ نیشنل صدر اورنیشنل عاملہ کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں۔ جبکہ دوسرے تمام عہدیداران کی منظوری نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ دیتی ہیں۔ ہر سطح پرعاملہ ممبران کو سیکریٹری کہا جاتا ہے۔<تنظیم کے مالی معاملات کو بہتر طور پر چلانے کیلئے ہرممبر لجنہ چندہ ممبری دیتی ہے جو ماہانہ آمد کا ایک فیصد (1% ) ہوتا ہے۔ اسی طرح چندہ اجتماع 12یورو سالانہ ہے۔لیکن کم از کم چندہ ممبری 36 یورو اور چندہ اجتماع 12یورو سالانہ مقرر ہے۔ چندہ اشاعت 2 یورو سالانہ ہوتا ہے۔خواتین کی دینی تعلیم کے لئے نصاب مقرر ہے۔ دینی تعلیم کیلئے روزانہ یا ہفتہ وار یا پندرہ روزہ تربیتی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس تنظیم کا مہینہ میں کم از کم ایک اجلاس ہوتا ہے اور سال میں ایک دفعہ ریجنل اور نیشنل  ہے جس میں علمی اور ورزشی مقابلہ جات بھی ہوتے ہیں۔

ہر واقفِ نو کو اپنے گھر کا ایڈریس معلوم ہونا چاہیئے جس میں سڑک کا نام، شہرکا نام، شہر کا کوڈ اور ٹیلیفون نمبر شامل ہے۔

اپنے والدین کا مکمل نام معلوم ہونا چاہیئے نیز یہ کہ نام کے ساتھ صاحب اور صاحبہ ضرور لگایا جائے۔

اپنے دادا اور نانا کا مکمل نام معلوم ہونا چاہیئے نیز یہ کہ نام کے ساتھ صاحب ضرور کہا جائے۔