Anweisungen Hadhrat Khalifatul Masih IV (ra)

زریں نصائح حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ برائے والدین و  واقفین نو 

۔۔۔ مَیں نے آپ سے گزشتہ خطبے میں یہ ذکر کیا تھا کہ مَیں ایک تحریک جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جسکا اس مضمون سے تعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت کے نتیجے میں انسان تحائف پیش کرتا ہے اور قرآن کریم نے ہر چیز جو خدا کی راہ میں پیش کی جاتی ہے اسکے ساتھ محبت کی شرط لگا دی ہے بلکہ نیکی کی تعریف میں محبت کے تحفے کو بطور شرط کے داخل فرمادیا۔ فرمایا لَنْ تَـنَالُوا الْـبِرَّ حَـتّٰی تُـنْـفِـقُـوْا مِمَّا تُحِبُّـوْنَ ط کہ تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پا سکتے نیکی کی باتیں کرتے ہو تمہیں پتا کیا ہے کہ نیکی کیا ہے؟ تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پا سکو گے اگر یہ راز جان لو کہ خدا کے راستے میں وہ خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔ اپنی محبوب چیز وں کو خدا کی راہ میں پیش کرنا سیکھو پھر تم کہہ سکتے ہو کہ ہاں ہم نے نیکی کا مفہوم سمجھ لیا ہے۔ تو وہاں بھی محبت ہی کا مضمون جاری ہے۔

۔۔۔ اسلام نے جس طرح اس محبت کی تعلیم کو انسانی زندگی کے ہر جزو میں داخل کر دیا ہے اس تفصیل کے ساتھ آپ کو کسی اور مذہب میں محبت کے فلسفے کا بیان نہیں ملے گا فرمایا لَنْ تَـنَالُوا الْـبِرَّ حَـتّٰی تُـنْـفِـقُـوْا مِـمَّا تُـحِبُّـوْنَ ط تم نیکی کو جانتے ہی نہیں تمہیں پتا ہی کیا ہے نیکی کیا ہوتی ہے؟ اگر یہ بات سیکھو تو خدا کی راہ میں سب سے اچھی چیز سب سے پیاری چیز قربان کرنا شروع کر دو۔ یا خدا کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز دینے کی تمنا اگر تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو تم نیکی کو نہیں جانتے۔


اس کسوٹی پر جب ہم انبیاء کو پرکھتے ہیں اور خصوصاً حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں یہ چیز درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے انسان ایسے ہیں جو محبت کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھی چیز پیش کرنی چاہیئے اور پھر سوچتے ہیں اور متردّد رہتے ہیں یہ پیش کروں یا وہ پیش کروں، یہ پیش کروں کہ وہ پیش کروں۔ چنانچہ صوفیاء کے بھی بہت سے دلچسپ واقعات اس میں ملتے ہیں اور عام دنیا میں محبت کرنے والوں کے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ایک خیال آیا یہ مجھے چیز سب سے زیادہ پیاری ہے پھر یہ خیال آیا کہ نہیں یہ زیادہ پیاری ہے پھر خیال آیا کہ وہ زیادہ پیاری ہے اور پھر آکر وہی پیش کر دی۔


چنانچہ ہمایوں کے متعلق بھی بابر نے جب یہ سوچا کہ ہمایوں کی زندگی بچانے کےلئے مَیں خدا کے سامنے اپنی کوئی پیاری چیز پیش کروں تو کہتے ہیں کہ بابر اس کے گرد گھومتا رہا اور اس نے سوچا کہ مَیں یہ ہیرا جو بہت پیارا ہے یہ دے دوں۔ اسے خیال آیا یہ ہیرا کیا چیز ہے مَیں یہ دے دوں۔ پھر خیال آیا کہ پوری سلطنت مجھے بہت پیاری ہے، یہ پوری سلطنت دے دیتا ہوں اور پھر سوچتا رہا۔ پھر آخر اس کو خیال آیا اُس کے نفس نے اُس کو بتایا کہ تمہیں تو اپنی جان سب سے زیادہ پیاری ہے ۔ اس وقت اس نے عہد کیا اور خدا سے دعا کی کہ اے خدا! واقعی اب مَیں سمجھ گیا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ پیاری میری جان ہے۔ میری جان لے لے اور میرے بیٹے کی جان بچالے۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ واقعتا اس وقت کے بعد ہمایوں کی صحت سدھرنے لگی اور بابر کی صحت بگڑنے لگی۔ تو لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیا چیز پیاری ہے اور کیا کم پیاری ہے۔


آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں سوچا بلکہ اپنا سب کچھ پیش کر دیا اپنا سونا، جاگنا ، اٹھنا ، بیٹھنا۔ چونکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے اور جب وہ زیادہ پیاری چیز دیتا ہے تو اس کے دل میں اطمینان رہ جاتا ہے کہ کچھ کم مَیں نے اپنے لئے بھی روک لی ہے۔ اس سے کم جب پیاری دے دیتا ہے تو پھر اس کو کچھ نہ کچھ اپنے ہاتھ میں بھی دکھائی دیتا ہےاور وہ پھر اس کے بعد اس سے سب سے زیادہ پیار ہو جاتا ہے۔ جو چیز پیچھے ہٹتی چلی جاتی ہے وہ زیادہ پیاری ہوتی چلی جا رہی ہوتی ہے۔ کسی ماں کا سب سے لاڈلا بچہ مر جائے تو دوسرے بچے سے پہلے سے بڑھ کر پیار ہو جاتا ہے اور یہ مضمون انسانی فطرت کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔ تو آنحضرت ﷺ نے یہ سَودا نہیں کیا کہ اے خدا مَیں نے اپنی سب سے پیاری چیز جب پیش کر دی یعنی اپنی جان دے دی اس لئے اب باقی چیزیں میری رہ گئیں۔ لیکن فرمایا قُـلْ اِنَّ صَـلَا تِیْ وَ نُـسُـکِیْ وَ مَـحْـیَایَ وَ مَـمَـاتِیْ لِـلّٰـہِ رَبِّ الْـعٰـلَـمِـیْنَ اے محمدؐ! تو محبت کرنا سکھا ان غلاموں کو۔ یہ تیرے غلام بن چکے ہیں مگر نہیں جانتے کس طرح مجھ سے محبت کی جائے۔ تُو محبت کے راز بتا ان کو۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ خدا کا حکم نہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ درپردہ عشق کے راز نہ بتاتے کسی کو۔ یہ بھی ایک عجیب حسین پہلو ہے جو میری نظر میں ابھرا ہےاور بے ساختہ دل اور فریفتہ ہوگیا۔ بعض جگہ حکماً خدا تعالیٰ نے اپنے راز ونیاز کی باتیں بنی نوع انسان کو بتانے پر پابند فرما دیا آنحضرت ﷺ کو۔ ورنہ نہ بتاتے تو لوگوں کو پتا نہ چلتا کہ اتنا حسین ہے اس شان کا نبی جو اسقدر منکسر المزاج ہو۔ اس کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو چھپاتا نہیں۔ اور یہی بنیادی فرق ہے مادہ پرست اور خدا پرست میں۔ مادہ پرست اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنے معمولی سے حسن کو بھی اچھالتا اور دکھاتا اور اس کی نشو و نما کرتا ہے اور پبلسٹی اس کی زندگی کے ہر شعبے کا ایک جزوِ لاینفک بن جاتی ہے۔ توخدا تعالیٰ نے حکماً رسول اکرم ﷺ کو پابند فرمایا کہ تیری بعض خوبیاں جو میری نظر میں ہیں تیرے غلاموں کا بھی حق ہے کہ انکو پتہ چلے اس لئے کہ تا کہ وہ تمہاری پیروی کر کے مجھ تک پہنچنا سیکھ جائیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ اپنا سب کچھ دیدے چنانچہ انبیاؑ کی یہ سنّت ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دینے کی خاطر یہ سوچتے سوچتے کہ ہم اَور کیا دیں اَور کیا دیں اپنی اولادیں بھی پیش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ابھی اولاد پیدا بھی نہیں ہوتی کہ وہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ابرار کی بھی یہ سنت ہے انبیاؑءکے علاوہ ۔ جیسے حضرت مریم ؑ کی والدہ نے یہ التجا کی خدا سے : رَبِّ اِ نِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَـطْنِیْ مُـحَرَّرًا فَـتَـقَـبَّلْ مِنِّیْ ج اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْـمُ o کہ اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کر رہی ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کیا چیز ہے لڑکی ہے کہ لڑکا ہے اچھا ہے یا بُرا ہے۔ مگر جو کچھ ہے میں تمہیں دے رہی ہوں فَـتَـقَـبَّلْ مِنِّیْ مجھ سے قبول فرما۔ اِنَّـکَ اَنْـتَ السَّمِیْعُ الْعَـلِیْـمُ تُو بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی سنتا ہے اور علم رکھتا ہے۔ اس مضمون کا الگ تعلق ہے اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہر حال یہ دعا حضرت مریم کی والدہ جو آل عمران سے تھیں کی خدا تعالیٰ کو ایسی پسندآئی کہ اسے قرآن کریم میں محفوظ کر لیا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاءکی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق یہ ساری قرآن میں محفوظ فرمائیں۔ بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا ہے مُـحَرَّرًا اے خدا میں تیری راہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں۔ لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا! جو نعمت تو نے مجھے دی ہے وہ میری اولاد کو بھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس رنگ میں دعا کی۔ لیکن حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو جو انعام مانگا جا رہا ہے وہ وقفِ کامل ہے۔ کامل وقف کے سوا نبوت ہو نہیں سکتی اور سب سے زیادہ چنانچہ بنی نوع انسان سے آزاد یعنی محرّر اور خدا کی غلامی میں جکڑا جانے والا نبی ہوتا ہے۔
تو امرِ واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولاد میں نبوت کو جاری فرما تو اس دعا کا حقیقی معنی یہ ہے کہ میری اولاد کو ہمیشہ میری طرح غلام در غلام در غلام بناتا چلا جا۔ اپنی محبت میں اور اپنی اطاعت میں جکڑتا چلا جا۔ اتنا کامل طور پر جکڑکہ ان میں کوئی بھی آزادی کا پہلو نہ رہے۔ تو محرراً کے مقابل دنیا سے آزاد کر کے مَیں تیرے سپرد کرتی ہوں۔ یہ مضمون اور بھی زیادہ بالا ہے وقف کا کہ میری اولاد کو تو اپنی غلامی میں جکڑ لے اور ان کا کوئی پہلو بھی آزاد نہ رہنے دے۔
بہر حال یہ بھی ایک پہلو ہے کہ جو کچھ تھا وہ تو دیا خدا کی راہ میں لیکن جو ابھی ہاتھ میں نہیں آیا وہ بھی پیش کرنے کی تمنارکھتے تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چلہ کشی کی تھی وہ بھی اسی مضمون کے تحت آتی ہے۔ آپ چالیس دن یہ گریہ و زاری کرتے رہے دن رات کہ اے خدا! مجھے اولاد دے اور وہ دے جو تیری غلام ہو جائے میری طرف سے ایک تحفہ ہو تیرے حضور۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ 3 اپریل 1987 ۔ ازخطبات طاہر ۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔جلد 6۔ صفحہ 243 تا 250)

پس مَیں نے یہ سوچا کہ ساری جماعت کو مَیں اِس بات پر آمادہ کروں کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے جہاں ہم روحانی اولاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں دعوت الی اللہ کے ذریعہ وہاں اپنے آئندہ ہونے والے بچوں کو خدا کی راہ میں ابھی سے وقف کر دیں اور یہ دعا مانگیں کہ اے خدا! ہمیں ایک بیٹا دے لیکن اگر تیرے نزدیک بیٹی ہی ہونا مقدر ہے تو ہماری بیٹی ہی تیرے حضور پیش ہے۔ مَا فِیْ بَـطْنِیْ جو کچھ بھی میرے بطن میں ہے۔ یہ مائیں دعائیں کریں اور والد بھی ابراہیمی دعائیں کریں کہ اے خدا! ہمارے بچوں کو اپنے لئے چن لے۔ اِن کو اپنے لئے خاص کر لے۔ تیرے ہو کر رہ جائیں۔ اور آئندہ صدی میں ایک عظیم الشّان واقفین بچوں کی فوج ساری دنیا سے اس طرح داخل ہو رہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہو رہی ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خدا کی غلام بن کے اس صدی میں داخل ہو رہی ہو۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہوں ۔
اور اس وقف کی شدید ضرورت ہے۔ آئندہ سوسالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے وہاں تربیت یافتہ غلام چاہیئں جو محمد رسو ل اللہ ﷺ کے خدا کے غلام ہوں ۔ واقفین زندگی چاہیئں کثرت کے ساتھ اور ہر طبقہ زندگی سے واقفین زندگی چاہیئں۔ ہر ملک سے واقفین زندگی چاہیئں۔
اس سے پہلے بھی ہم تحریک کرتے رہے ہیں ۔ بہت کوشش کرتے رہے ہیں لیکن بالعموم بعض خاص طبقوں نے عملاً اپنے آپ کو وقفِ زندگی سے مستثنیٰ سمجھا ہے۔ عملاً جو واقفین سلسلہ کو ملتے رہے ہیں وہ زندگی کے ہر طبقے سے نہیں آئے بعض بہت صاحبِ حیثیت لوگوں نے بھی اپنے بچے پیش کئے لیکن بالعموم دنیا کی نظر میں جس طبقے کو بہت زیادہ عزت سے نہیں دیکھا جاتا درمیانے درجہ کا جو طبقہ ہے غریبانہ اُس میں سے بچے پیش ہوتے رہے ہیں۔ اس طبقہ سے واقفین زندگی کا آنا ان واقفین زندگی کی عزت بڑھانے کا موجب ہے عزت گرانے کا موجب نہیں۔ لیکن دوسرے طبقوں سے نہ آنا ان طبقوں کی عزت گرانے کا ضرور موجب ہے۔ پس میں اس پہلو سے مضمون بیان کر رہا ہوں کہ کسی کو ہر گز کوئی یہ غلط فہمی سے نہ سمجھے کہ نعوذ باللہ من ذالک جماعت محروم رہ جائے گی اور جماعت کی عزت میں کمی آئے گی اگر ظاہری عزت والے اپنے بچے وقف نہ کریں ۔ یہ بتانا چاہتاہوں کہ ان کی عزتیں باقی نہیں رہیں گی۔ جو بظاہر دنیا میں معزز ہیں خدا کے نزدیک وہ اپنے آپ کو آئندہ ذلیل کرتے چلے جائیں گے اگر انہوں نے خدا کے حضور اپنے بچے پیش کرنے کا گر نہ سیکھا اور یقین نہ کر لیا۔ انبیاءکے بچوں سے زیادہ اور کوئی دنیا میں معزز نہیں ہو سکتے انہوں نے اس عاجزی سے وقف کئے ہیں، اس طرح گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے اور روتے ہوئے وقف کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اُن کو دیکھ کر۔

اگلی صدی میں واقفین زندگی کی شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقہ سے لکھوکھہا کی تعداد میں واقفین زندگی اس صدی کے ساتھ ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن استعمال تو اس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے بہرحال۔ تو یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں اس لئے جن کو بھی توفیق ہے وہ اس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے اس نیّت سے اس نذر کی برکت سے بعض ایسے خاندان جن میں اولاد نہیں پیدا ہو رہی اور ایسے میا ں بیوی جو کسی وجہ سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ اس قربانی کی روح کو قبول فرماتے ہوئے ان کو بھی اولاد دیدے۔ خدا تعالیٰ اس سے پہلے یہ کر چکا ہے۔ جو انبیاءاولاد کی دعائیں مانگتے ہیں وقف کی خاطر مانگتے ہیں تو بعض دفعہ بڑھاپے میں بھی ان کو اولاد ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں ہو جاتی ہے کہ بیوی بانجھ اور خاوند بھی۔ حضرت زکریا ؑ کو دیکھیں کس شان کی دعا کی ۔ یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں میرا سر بھڑک اٹھا ہے۔ بڑھاپے کے شعلوں سے ہڈیاں تک جل گئی ہیں اور میری بیوی بانجھ ہے عاقر ہے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کوئی نہیں۔ لیکن میری یہ تمنّا ہے کہ میں تیری راہ میں ایک بچہ پیش کروں میری یہ تمنّا قبول فرما وَ لَمْ اَکُن  بِدُعَآ ئِکَ رَبِّ شَقِـیًّا اے میرے رب! مَیں تیرے حضور یہ دعا کرتے کرتے کبھی بھی مایوس نہیں ہوا۔ کبھی کسی دعا سے بھی تیرے حضور مایوس نہیں ہوا ۔ شَقِـیًّا کا لفظ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا میں ایسا بد بخت تو نہیں کہ تیرے حضور دعا کر رہا ہوں اور مایوس ہو جاؤں اور تھک جاؤں ۔ اس عظمت کی اس درد کی دعا تھی کہ اسی وقت دعا کی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے یحییٰ کی خوشخبری دی ۔ خود اس کا نام رکھااس میں بھی عظیم الشان خدا کے پیار کا اظہار ہے ۔ عجیب کتاب ہے قرآن کریم ایسی ایسی پیار کی ادائیں سکھاتی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ آپ سوچتے ہیں کس سے نام رکھوائیں اور اسی جذبہ سے جو للّٰہی محبت جماعت احمدیہ کو ہر خلیفۂ وقت سے ہوتی ہے بعض لوگ بلکہ بڑی کثرت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے پیشتر اس کے کہ حضرت زکریاؑ کہتے ہیں میں اس کا کیا نام رکھوں یا سوچتے کہ میں کیا نام رکھوں خوشخبری کے ساتھ ہی فرمایا اِسْـمُہٗ یَـحْییٰ ہم ر کھ رہے ہیں نام۔ یہ پیار حضرت زکریاؑ سے تھا یہ حضرت زکریاؑ کی دعا سے پیار تھا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ 3 اپریل 1987 ۔ ازخطبات طاہر ۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔جلد 6۔ صفحہ 243 تا 250)

پس اس رنگ میں آپ اگلی صدی میں جو خدا کے حضور جو تحفے بھیجنے والے ہیں یا مسلسل بھیج رہے ہیں ۔ مسلسل احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بے شمار چندے دے رہے ہیں۔ مالی قربانیاں کر رہے ہیں ، وقت کی قربانیاں کر رہے ہیں۔ واقفین زندگی ہیں۔ ایک تحفہ جو مستقبل کا تحفہ ہے وہ باقی رہ گیا تھا۔ مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ مَیں آپ کو بتا دوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کر لیں جس کو بھی جو اولاد نصیب ہو گی وہ خدا کے حضور پیش کر دے اور اگر آج کچھ مائیں حاملہ ہیں تو وہ بھی اس تحریک میں اگر پہلے شامل نہیں ہو سکی تھیں تو اب ہو جائیں ۔ یہ بھی عہد کریں لیکن ماں باپ کو مل کر عہد کرنا ہوگا دونوں کو اکٹھے فیصلہ کرنا چاہیئے تا کہ اس سلسلہ میں پھر یک جہتی پیدا ہو۔ اولاد کی تربیت میں اور بچپن ہی سے ان کی اعلیٰ تربیت کرنی شروع کر دیں اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ ان کو بچپن ہی سے اس بات پر آمادہ کرنا شروع کریں کہ تم ایک عظیم مقصد کے لئے ایک عظیم الشان وقت میں پیدا ہوئے ہو جبکہ غلبۂ اسلام کی ایک صدی غلبۂ اسلام کی دوسری صدی سے مل گئی ہے۔ اس سنگم پر تمہاری پیدائش ہوئی ہے اور اس نیّت اور دعا کے ساتھ ہم نے تجھ کو مانگا تھا خدا سے کہ اے خدا! تو آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے ان کو عظیم الشان مجاہد بنا۔ اگر اس طرح دعائیں کرتے ہوئے لوگ اپنے آئندہ بچوں کو وقف کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ ایک بہت ہی حسین اور بہت ہی پیاری نسل ہماری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ 3 اپریل 1987 ۔ ازخطبات طاہر ۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔جلد 6۔ صفحہ 243 تا 250)

آئندہ صدی کی تیاری کے سلسلہ میں ایک بہت ہی اہم تیاری کا تعلق واقفینِ نو سے ہے۔ مَیں نے وقفِ نو کی جو تحریک کی تھی اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بارہ سو سے زائد ایسے بچوں کے متعلق اطلاع مل چکی ہے جو وقفِ نو کی نیّت کے ساتھ دعائیں مانگتے ہوئے خدا سے مانگے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی خیر و عافیت کے ساتھ ولادت کا سامان فرمایا۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے آئندہ صدی کے واقفینِ نو کہلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خطوط مسلسل ملتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دو طرح کی تیاریاں میرے پیش نظر ہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ مَیں اس تیاری کا ذکر کروں مَیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وقفِ نو کے لئے جتنی تعداد کی توقع تھی اتنی تعداد بلکہ اس کا ایک حصّہ بھی ابھی پورا نہیں ہو سکا اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اس میں پیغام پہنچانے والوں کا قصور ہے۔ بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں عامۃ النّاس تک یہ پیغام پہنچایا ہی نہیں گیا اور جن دنوں میں یہ تحریک کی گئی تھی ان دنوں کیسٹ کا نظام آج کی نسبت بہت کمزور حالت میں تھا اور افریقہ کے ممالک اور ایسے دیگر ممالک جہاں اردو زبان نہیں سمجھی جاتی اور بعض علاقوں میں انگریزی بھی نہیں سمجھی جاتی وہاں ترجمہ کر کے کیسٹیں پھیلانے کا عملاً کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس وجہ سے وہ جو براہ راست پیغام کا اثر ہو سکتا ہے اس سے بہت سے احمدی علاقے محروم رہ گئے۔ بعد ازاں مؤثر رنگ میں اس تحریک کو پہنچانا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی مگر بعض جگہ اس ذمہ داری کو ادا کیا گیا اور بعض جگہ یا تو ادا نہیں کیا گیا یا نیم دلی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔ صرف پیغام پہنچانا کافی نہیں ہوا کرتا۔ کس جذبے کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے، کس محنت اور کوشش اور خلوص کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے، یہ پیغام کے قبول کرنے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔
دنیا میں مختلف پیغمبر آئے۔ بنیادی طور پر ان کا ایک ہی پیغام تھا یعنی خدا کا پیغام بندوں کے نام۔ لیکن جس شان کے ساتھ وہ پیغام حضرت محمد مصطفی ﷺ نے پہنچایا اس شان سے کوئی اور پہنچا نہیں سکا اور جس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ آپ کا پیغام قبول کیا گیا۔ تاریخ انبیاءمیں اس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ کسی اور نبی کا پیغام قبول نہیں کیا گیا۔ اس لئے پیغام پہنچانا کافی نہیں۔ کس رنگ میں اور کس جذبے کے ساتھ ، کس خلوص کے ساتھ،کس درجہ محبت اور پیار کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے پیغام پہنچایا جاتا ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو پیغام کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کیاکرتی ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

اس لئے میری خواہش یہ تھی کہ کم سے کم پانچ ہزار بچے اگلی صدی کے واقفینِ نو کے طور پر ہم خدا کے حضور پیش کریں ۔ اس تعداد کو پورا کرنے میں ابھی کافی سفر باقی ہے۔ بعض دوست یہ لکھ رہے ہیں کہ جہاں تک ان کا تاثر تھا یا مَیں نے شروع میں خطبے میں بات کی تھی اس کاواقعتہً یہی نتیجہ نکلتا ہو گا کہ جو اس صدی سے پہلے پہلے بچے پیدا ہو جائیں گے وہ وقفِ نومیں لئے جائیں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔ لیکن جس طرح بعض دوستوں کے خطوط سے پتہ چل رہا ہے وہ خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھ کر کہ اب وقت نہیں رہا وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ ان کےلئے اور مزید تما م دنیا کی جماعتوں کے لئے جن تک ابھی یہ پیغام ہی نہیں پہنچا۔ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وقفِ نو میں شمولیت کےلئے مزید دو سال کا عرصہ بڑھایا جاتا ہے اور فی الحال یہ عرصہ دو سال کےلئے بڑھایا جارہا ہے تاکہ خواہشمند دوست اس پہلی تحریک میں شامل ہو جائیں ورنہ یہ تحریک تو بار بار ہوتی ہی رہے گی۔ لیکن خصوصاً وہ تاریخی تحریک جس میں اگلی صدی کےلئے واقفین بچوں کی پہلی فوج تیار ہو رہی ہے اس کا عرصہ آئندہ دو سال تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس عرصے میں جماعتیں کوشش کر لیں اور جس حد تک بھی ممکن ہو، یہ فوج پانچ ہزاری تو ضرور ہو جائے۔ اس سے بڑھ جائے تو بہت ہی اچھاہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

بہت سے والدین مجھے لکھ رہے ہیں کہ ان بچوں کے متعلق ہمیں کرناکیاہے؟ تو جیسا کہ میں نے بیا ن کیا تھا اسکے دو حصّے ہیں اوّل یہ کہ جماعت کی انتظامیہ نے کیا کرنا ہے اور دوسرا یہ کہ بچوں کے والدین نے کیا کرنا ہے؟ جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے اسکے متعلق وقتاً فوقتاً میں ہدایات دیتا رہا ہوں اور جو جو نئے خیال میرے دل میں آئیں یا بعض دوست مشورے کے طور پر لکھیں انکو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے آج میں اس ذمہ داری سے متعلق کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔
خدا کے حضور بچے کوپیش کرنا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اورآپ یاد رکھیں کہ وہ لوگ جوخلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیارکی نسبت سے ان قربانیوں کو سجا کر پیش کیاکرتے ہیں۔ قربانیاں اور تحفے دراصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔ آپ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں۔ عام چیز جو گھر کےلئے لیتے ہیں اسے باقاعدہ خوبصورت کاغذوں میں لپیٹ کر اور فیتوں سے باندھ کر سجا کر آپ کو پیش نہیں کیا جاتا ۔ لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے تحفہ لینا ہے تو پھر دکاندار بڑے اہتمام سے اسکو سجا کر پیش کرتا ہے۔ پس قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا بعض لوگ تو مینڈھوں اور بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو ان کو زیور پہنا کر پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاوٹیں کرتے ہیں۔ انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہوتی ہیں۔ انسانی زندگی کی سجاوٹ تقویٰ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اسکی محبت کے نتیجہ میں انسانی روح بن ٹھن کر تیار ہو ا کرتی ہے۔ پس پیشتر اس کے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کئے جائیں ان ماں باپ کی بہت ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ ان کے دل کی حسرتیں پوری ہوں۔ جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنا رکھتے ہیں وہ تمنائیں پوری ہوں۔
اس سے پہلے مختلف ادوار میں جو واقفین جماعت کے سامنے پیش کئے جاتے رہے انکی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ کئی قسم کے واقفین ہیں۔ کچھ تو وہ تھے جنہوں نے بڑی عمروں میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو خود پیش کیا کہ خوش قسمتی کے ساتھ ان کی اپنی تربیت بہت اچھی ہوئی تھی اور وقف نہ بھی کرتے تب بھی وہ وقف کی روح رکھنے والے لوگ تھے۔ وہ صحابہ ؓکی اولاد یا اوّل تا بعین کی اولاد تھے۔ انہوں نے اچھے ماحول میں اچھی پرورش پائی اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اچھی عادات سے سجے ہوئے لوگ تھے۔ واقفین کا یہ گروہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے زندگی کے ہر شعبہ میں نہایت کامیاب رہا۔
پھر ایک ایسا دور آیا جب بچے وقف کرنے شروع کئے گئے یعنی والدین نے اپنی اولاد کو خود وقف کرنا چاہا۔ اس دور میں مختلف قسم کے واقفین ہمارے سامنے آئے ہیں۔ بہت سے وہ ہیں جن کے متعلق والدین سمجھتے ہیں کہ جب ہم ان کو جماعت کے سپرد کریں گے تو وہ خود ہی انکی تربیت کریں گے اور اس عرصہ میں انہوں نے ان پر نظر نہیں رکھی۔ پس جب وہ جامعہ احمدیہ میں پیش ہوتے ہیں تو بالکل ایسے Raw Material یعنی ایسے خام مال کے طور پر پیش ہوتے ہیں جس کے اندر مختلف قسم کی بعض ملاوٹیں بھی شامل ہوچکی ہوتی ہیں۔ان کو صاف کرنا ایک کارے دارد ہوا کرتاہے۔ ان کو وقف کی روح کے مطابق ڈھالنا بعض دفعہ مشکل بلکہ محال ہو جایا کرتا ہے اور بعض بدعادتیں وہ ساتھ لےکر آتے ہیں۔ جماعت تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔ کسی کو جھوٹ کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔ اب یہ باتیں ایسی ہیں کہ جنکے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتاکہ اچھے نیک صالح احمدی میں پائی جائیں،کجایہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں۔ لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کردیا لیکن تربیت کی طرف توجہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد ان کو وقف کا خیال آیا کہ اس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔ بعض والدین سے تو یہ بھی پتہ چلا کہ انہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں نہایت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا۔ وقف کردو تو خود ہی جماعت سنبھالے گی اور ٹھیک کرے گی۔ جس طرح پرانے زمانے میں بعض دفعہ بگڑے ہوئے بچوں کے متعلق کہتے تھے۔ اچھا ان کو تھانےداربنوادیں گے۔ تو جماعت میں چونکہ نیکی کی روح ہے اس لئے ان کو تھانےداری کا تو خیال نہیں آتا لیکن واقفِ زندگی بنانے کا خیال آجاتا ہے۔ حالانکہ تھانیداری سے تو ایسے بچوں کا تعلق ہو سکتا ہے، وقف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ بہت بعید کی بات سوچتے ہیں۔ تھانیداری والا تو لطیفہ ہے لیکن یہ تو درد ناک واقعہ ہے۔ وہ تو ایک ہنسنے والی کہاوت کے طور پر مشہور ہے لیکن یہ تو زندگی کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کرنے کےلئے آپ کو بس گندہ بچہ ہی نظرآیا ہے ناکارہ محض بچہ نظر آیا ہے جو ایسی گندی عادتیں لےکر پَلا ہے کہ آپ اس کوٹھیک نہیں کرسکتے۔
اس لئے بچوں کی یہ جو تازہ کھیپ آنے والی ہے اس میں ہمارے پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے۔ اور اگر اب ہم انکی پرورش اور تربیت سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے اور پھر ہر گز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اتفاقاً یہ واقعات ہوگئے ہیں ۔ اسلئے والدین کو چاہیے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بیان کروں گا،بعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتادِ طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہیے کہ میں نے تو اپنی صاف نیّت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بدقسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں۔ اگر ان کے باوجود جماعت اس کو لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں، ورنہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔ پس اس طریق پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اب ہمیں آئندہ ان واقفینِ نو کی تربیت کرنی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

جہاں تک اخلاقِ حسنہ کا تعلق ہے اس سلسلہ میں جو صفات جماعت میں نظر آنی چاہئیں وہی صفات واقفین میں بھی نظر آنی چاہئیں بلکہ اُن میں وہ بدرجۂ اولیٰ نظر آنی چاہئیں۔ ان صفاتِ حسنہ یا اخلاق سے متعلق میں مختلف خطبات میں آپ کے سامنے مختلف پروگرام رکھتا رہا ہوں۔ ان سب کو ان بچوں کی تربیت میں خصوصیت سے پیش نظر رکھیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

خلاصۃً ہر واقفِ زندگی بچہ جو وقفِ نو میں شامل ہے بچپن سے ہی اس کو سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہیے اور یہ نفرت اس کو گویا ماں کے دودھ میں ملنی چاہیے۔ جس طرح Radiation کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے اس طرح پرورش کرنے والی باپ کی بانہوں میں سچائی اس بچہ کے دل میں ڈوبنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔ ضروری نہیں ہے کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے اب ان بچوں کی خاطر ان کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز اپنانا ہوگا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر یا مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے ۔کیونکہ یہ خدا کی مقدّس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہرحال آپ نے پورا کرنا ہے۔ اس لئے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں۔ قناعت کے متعلق مَیں نے کہا تھا، اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہیے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہیے۔ عقل اور فہم کیساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ غرض دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچانا ضروری ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

علاوہ ازیں بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہیے۔ ترش رُوئی وقف کے ساتھ پہلو بہ پہلو نہیں چل سکتی۔ ترش رُو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطرناک فتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔ اس لئے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ تحمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا، یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔ مذاق یعنی مزاح اچھی چیز ہے لیکن مزاح کے اندر پاکیزگی ہونی چاہیے اور مزاح کی پاکیزگی کئی طرح سے ہو سکتی ہے۔ لیکن میرے ذہن میں اس وقت خاص طور پر دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ گندے لطائف کے ذریعہ اپنے یا غیروں کے دل بہلانے کی عادت نہیں ہونی چاہیے اور دوسرے یہ کہ اس میں لطافت ہو۔ مذاق اور مزاح کے لئے ہم لطافت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں یعنی اس کو لطیفہ کہتے ہیں۔ لطیفہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ بہت ہی نفیس چیز ہے۔ ہر قسم کی کرختگی اور بھونڈا پن لطافت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ کثافت سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ ہندوستان کی اعلیٰ تہذیب میں جب بھی ایسے خاندانوں میں جہاں اچھی روایات ہیں کوئی بچہ ایسا لطیفہ بیان کرتا تھا جو بھونڈا ہو تو اسے کہا جاتا تھا کہ یہ لطیفہ نہیں ہے۔ یہ کثیفہ ہے۔ یہ تو بھانڈ پن ہے۔ تو بھانڈپن اور اچھے مزاح میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے جو مزاح ہمیں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی زندگی میں کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ کیونکہ اکثر وہ مزاح کے واقعات اب محفوظ نہیں ہیں۔ اس میں پاکیزگی پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اور آپؑ کے صحابہ کی زندگی میں بھی مزاح نظر آتا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی طبیعت میں بھی بڑا مزاح تھا لیکن اس مزاح کے ساتھ دونوں قسم کی پاکیزگی تھی۔ لیکن بعض ایسے دوستوں کو بھی میں نے دیکھا ہے جنہوں نے مزاح سے یہ رخصت تو حاصل کر لی کہ مزاح میں کبھی وقت گزار لینا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن وہ یہ فرق نہیں کر سکے کہ مزاح کے ساتھ پاکیزگی ضروری ہے۔ چنانچہ وہ بعض نہایت گندے اور بھونڈے لطیفے بھی اپنی مجلسوں میں بیان کرتے رہے اور بعض لوگوں نے اس سے سمجھ لیا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حالانکہ بہت فرق پڑتا ہے۔ اپنے گھر میں اچھے مزاح کو جاری کریں، قائم کریں۔ لیکن برے مزاح کے خلاف بچوں کے دل میں بچپن سے ہی نفرت اور کراہت پیدا کریں ۔یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے اور اس پر میں نے اتنا وقت لیا ہے لیکن مَیں جانتا ہوں کہ انسانی زندگی میں خصوصاً وہ زندگی جو تکلیفوں سے تعلق رکھتی ہو ،جو ذمہ داریوں سے تعلق رکھتی ہو اور جس میں کئی قسم کے اعصابی تناؤ ہوں وہاں مزاح بعض دفعہ بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسانی ذہن اور انسانی نفسیات کی حفاظت کرتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

غِنا کے متعلق مَیں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ قناعت کے بعد پھر غِنا کا مقام آتا ہے اور غِنا کے نتیجہ میں جہاں ایک طرف امیر سے حسد پیدا نہیں ہوتا وہاں غریب سے شفقت ضرور پیدا ہوتی ہے۔ غِنا کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غریب کی ضرورت سے انسان غنی ہو جائے۔ انسان اپنی ضرورت سے غیر کی ضرورت کی خاطر غنی ہوتا ہے۔ اسلامی غِنا میں یہ ایک خاص پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس لئے واقفین بچے ایسے ہونے چاہئیں جو غریب کی تکلیف سے غنی نہ بنیں لیکن امیر کی امارت سے غنی ہو جائیں اور کسی کو اچھا دیکھ کر انہیں تکلیف نہ پہنچے لیکن کسی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ ضرور تکلیف محسوس کریں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

جہاں تک ان کی تعلیم کا تعلق ہے جامعہ کی تعلیم کا زمانہ تو بعد میں آئے گا لیکن ابتداءہی سے ایسے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کی طرف سنجیدگی سے متوجہ کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں ان شاءاللہ یقیناً نظامِ جماعت بھی ضرور کچھ پروگرام بنائے گا۔ ایسی صورت میں والدین نظامِ جماعت سے رابطہ رکھیں اور جب بچے اس عمر میں پہنچیں کہ جہاں وہ قرآن کریم اور دینی باتیں پڑھنے کے لائق ہو سکیں تو اپنے علاقے کے نظام سے یا براہِ راست مرکز کو لکھ کر ان سے معلوم کریں کہ اب ہم کس طرح ان کو اعلیٰ درجہ کی قرآن خوانی سکھا سکتے ہیں اور پھر قرآن کے مطالب سکھا سکتے ہیں۔ کیونکہ قاری دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ ایک تو وہ جو اچھی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی آواز میں ایک کشش پائی جاتی ہے اور تجوید کے لحاظ سے وہ درست ادائیگی کرتے ہیں۔ لیکن محض پرکشش آواز سے تلاوت میں جان نہیں پڑا کرتی۔ ایسے قاری اگر قرآن کریم کے معنی نہ جانتے ہوں تو وہ تلاوت کا بت تو بنا دیتے ہیں، تلاوت کے زندہ پیکر نہیں بنا سکتے۔ لیکن وہ قاری جو سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں اور تلاوت کے اس مضمون کے نتیجہ میں ان کے دل پگھل رہے ہوتے ہیں، ان کے دل میں خدا کی محبت کے جذبات اُٹھ رہے ہوتے ہیں، ان کی تلاوت میں ایک ایسی بات پیدا ہو جاتی ہے جو اصل رُوح ہے تلاوت کی۔ تو ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس پہلو پر بہت زور دینا چاہیے۔ خواہ تھوڑا پڑھایا جائے لیکن ترجمہ کے ساتھ۔ مطالب کے بیان کے ساتھ پڑھایا جائے اور بچے کو یہ عادت ڈالی جائے کہ جو کچھ بھی وہ تلاوت کرتا ہے وہ سمجھ کر کرتا ہے۔ ایک تو روزمرہ کی صبح کی تلاوت ہے۔ اس میں تو ہو سکتا ہے کہ بغیر سمجھ کے بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کو اسے قرآن کریم پڑھانا ہی ہوگا لیکن ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ سکھانے اور مطالب کی طرف متوجہ کرنے کا پروگرام بھی جاری رہنا چاہیے نماز کی پابندی اور نماز کے جو لوازمات ہیں ان کے متعلق بچپن سے تعلیم دینا اور سکھانا، یہ بھی جامعہ میں آ کر سیکھنے والی باتیں نہیں۔ اس سے بہت پہلے گھروں میں بچوں کو اپنے ماں باپ کی تربیت کے نیچے یہ باتیں آ جانی چاہئیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

اس کے علاوہ تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور دینی تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ مرکزی اخبار و رسائل کا مطالعہ کرتا رہے۔ بدقسمتی سے اس وقت بعض ممالک ایسے ہیں جہاں مقامی اخبار نہیں ہیں اور بعض زبانیں ایسی ہیں جن میں مقامی اخبار نہیں ہیں۔ لیکن ابھی ہمارے پاس وقت ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اپنے اپنے اخبار جاری کرنے کے رجحان بڑھ چکے ہیں۔ تو ساری جماعت کی انتظامیہ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب آئندہ دو تین سال میں یہ بچے سمجھنے کے لائق ہو جائیں یا چار پانچ سال تک سمجھ لیں تو اس وقت واقفینِ نو کے لئے بعض مستقل پروگرام، بعض مستقل فیچر آپ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں کہ وقفِ نو کیا ہے؟ ہم ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ اور بجائے اس کے کہ اکٹھا ایک دفعہ ایسا پروگرام دے دیا جائے جو کچھ عرصہ کے بعد بھول جائے، یہ اخبارات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تربیتی پروگرام پیش کیا کریں اور جب ایک حصّہ رائج ہو جائے تو پھر دوسرے کی طرف متوجہ ہوں، پھر تیسرے کی طرف متوجہ ہوں۔ واقفین بچوں کی علمی بنیاد وسیع ہونی چاہیے۔ عام طور پر دینی علماءمیں یہی کمزوری دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو اُن کا علم کافی وسیع اور گہرا بھی ہوتا ہے لیکن دین کے دائرہ سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم ہوتے ہیں۔ علم کی اس کمی نے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہ وجوہات جو مذاہب کے زوال کا موجب بنتی ہیں اُن میں سے یہ ایک بہت ہی اہم وجہ ہے۔ اس لئے جماعت احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور علم کی وسیع بنیاد پر قائم دینی علم کو فروغ دینا چاہیے۔ یعنی پہلے بنیاد عام دنیاوی علم کی وسیع ہو۔ پھر اُس پر دینی علم کا پیوند لگے تو بہت ہی خوبصورت اور بابرکت ایک شجرۂ طیبہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تو اس لحاظ سے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو جنرل نالج بڑھانے کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ آپ خود متوجہ ہوں تو ان کا علم آپ ہی آپ بڑھے گا۔ یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لئے ایسے رسائل، ایسے اخبارات لگوایا کریں ایسی کتابیں پڑھنے کی ان کو عادت ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کا علم وسیع ہو اور جب وہ سکول میں جائیں تو ایسے مضامین کا انتخاب ہو جس سے سائنس کے متعلق بھی کچھ واقفیت ہو۔ عام دنیا کے جو آرٹس کے سیکولر مضامین ہیں مثلاً معیشت، اقتصادیات، فلسفہ، نفسیات،حساب، تجارت وغیرہ ایسے جتنے بھی متفرق امور ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ علم بچے کو ضرور ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے کیونکہ سکولوں میں تو اتنا زیادہ انسان کے پاس اختیار نہیں ہوا کرتا۔ یعنی بچہ پانچ مضمون، چھ مضمون، سات مضمون ر کھ لے گا، بعض دس بھی ر کھ لیتے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو اپنے تدریسی مطالعہ کے علاوہ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اب یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے واقفین زندگی بچوں کے والدین میں سے اکثر کے بس کی نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے بیچارے ایسے ہیں، افریقہ میں بھی اور ایشیا، یورپ اور امریکہ میں بھی جن کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ اس پروگرام کو وہ واقعةً عملی طور پر اپنے بچوں میں رائج کر سکیں۔ اس لئے یہ جتنی باتیں ہیں تحریکِ جدید کے متعلقہ شعبہ کو یہ نوٹ کرنی چاہئیں اور اس خطبہ میں جو نکات ہیں ان کو آئندہ جماعت تک اس رنگ میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہیے کہ والدین کی اپنی کم علمی اور اپنی استطاعت کی کمی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں روک نہ بن سکے۔ چنانچہ بعض جگہوں پر ایسے بچوں کی تربیت کا انتظام شروع ہی سے جماعت کو کرنا پڑے گا۔ بعض جگہ ذیلی تنظیموں سے استفادے کئے جا سکتے ہیں، مگر یہ بعد کی باتیں ہیں۔ اس وقت تو جو ذہن میں چند باتیں آ رہی ہیں وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ ہمیں کس قسم کے واقفین بچے چاہئیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

ایسے واقفین بچے چاہئیں جن کو شروع ہی سے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی عادت ہونی چاہیے، جن کو اپنے سے کم علم کو حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے، جن کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ مخالفانہ بات سنیں اور تحمل کا ثبوت دیں۔ جب ان سے کوئی بات پوچھی جائے تو تحمل کا ایک یہ بھی تقاضا ہے کہ ایک دم منہ سے کوئی بات نہ نکالیں بلکہ کچھ غور کر کے جواب دیں۔ یہ ساری ایسی باتیں ہیں جو بچپن ہی سے طبیعتوں میں اور عادتوں میں رائج کرنی پڑتی ہیں۔ اگر بچپن سے یہ عادتیں پختہ نہ ہوں تو بڑے ہو کر بعض دفعہ ایک انسان علم کے ایک بہت بلند معیار تک پہنچنے کے باوجود بھی ان عام سادہ سادہ باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو فوراً جواب دیتا ہے خواہ اس بات کا پتہ ہو یا نہ ہو۔ پھر بعض دفعہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک بات پوچھی اور جس شخص سے پوچھی گئی ہے اس کے علم میں یہ تو ہے کہ یہ بات ہونے والی تھی لیکن یہ علم میں نہیں ہے کہ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بسا اوقات وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں ہو چکی ہے۔ واقفین زندگی کے اندر یہ چیز بہت بڑی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔ میں نے اپنے انتظامی تجربہ میں بارہا دیکھا ہے کہ اس قسم کی خبروں سے بعض دفعہ بہت سخت نقصان پہنچ جاتا ہے۔ مثلاً لنگر خانے میں مَیں ناظم ہوتا تھا توفون پر پوچھا کہ اتنے ہزار روٹی پک چکی ہے؟ تو جواب ملا کہ جی ہاں پک چکی ہے۔ اس پر تسلی ہو گئی۔ جب وہاں پہنچا تو پتہ لگا کہ ابھی کئی ہزار کی کمی ہے۔ میں نے کہا آپ نے یہ کیا ظلم کیا ہے۔ یہ جھوٹ بولا، غلط بیانی کی اور اس سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ کہنے لگے کہ نہیں جی۔ جب مَیں نے بات کی تھی اس سے آدھا گھنٹہ پہلے اتنے ہزار ہو چکی تھی تو آدھے گھنٹے میں اتنی تو ضرور بننی چاہیے تھی۔ یہ فارمولا تو ٹھیک ہے۔ لیکن واقعاتی دنیا میں فارمولے تو نہیں چلا کرتے۔ واقعةً ایسی صورت میں یہ بات نکلی کہ وہاں کچھ خرابی پیدا ہو گئی۔ مزدوروں کی آپس میں کوئی لڑائی ہو گئی، گیس بند ہو گئی۔ کئی قسم کی خرابیاں ایسی پیدا ہو جاتی تھیں تو جس آدھے گھنٹے میں اُس نے کئی ہزار کا حساب لگایا ہوا تھا وہ آدھا گھنٹہ کام ہی نہیں ہو رہا تھا۔ تو یہ عادت عام ہے۔ میں نے اپنے وسیع تجربے میں دیکھا ہے کہ ایشیا میں خصوصیت کے ساتھ یہ عادت بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ ایک چیز کا اندازہ لگا کر اس کو واقعات کے طور پر بیان کر دیتے ہیں اور واقفین زندگی میں بھی یہ عادت آ جاتی ہے۔ یعنی جو پہلے سے واقفین آئے ہوئے ہیں ان کی رپورٹوں میں بھی بعض دفعہ ایسے نقص نکلتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لئے اس بات کی بچپن سے عادت ڈالنی چاہیے کہ جتنا علم ہے اس کو علم کے طور پر بیان کریں۔ جتنا اندازہ ہے اس کو اندازے کے طور پر بیان کریں اور اگر بچپن میں آپ نے یہ عادت نہ ڈالی تو بڑے ہو کر پھر دوبارہ بڑی عمر میں اسے رائج کرنا بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں انسان بغیر سوچے کرتاہے۔ عادت کا مطلب ہی یہ ہے کہ خودبخود منہ سے ایک بات نکلتی ہے اور یہ بے احتیاطی بعض دفعہ پھر انسان کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاتی ہے اور بڑی مشکل صورتِ حال پیدا کر دیتی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں میں سے بہت سے مَیں نے ایسے دیکھے ہیں کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ کیوں کیا؟ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف بیان کریں کہ ہم سے غلطی ہو گئی، ہم نے اندازہ لگایا تھا، وہ اپنی پہلی غلطی کو چھپانے کے لئے دوسری دفعہ پھر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی ایسا عُذر تلاش کرتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ جب اس عُذر کو پکڑیں تو پھر ایک اور جُھوٹ بولتے ہیں۔ خجالت الگ، شرمندگی الگ، سب دنیا ان پر ہنس رہی ہوتی ہے اور وہ بیچارے جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جب کسی بات پر گھر میں پکڑے جاتے ہیں کہ آپ نے یہ کہا تھا یہ نہیں ہوا، اس وقت وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ماں باپ اُس کا نوٹس نہیں لیتے۔ اس کے نتیجہ میں مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ ایسے بگڑتے ہیں کہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔ عادتاً وہ یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی جھوٹ نہیں ہوا کرتا، عادت ہے کہ تخمینے یا اندازے کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ تو ایسے واقفین اگر جامعہ میں آ جائیں گے تو جامعہ میں تو کوئی ایسا جادو نہیں ہے کہ پرانے بگڑے ہوئے رنگ اچانک درست ہو جائیں۔ ایسے رنگ درست ہوا کرتے ہیں غیر معمولی اندرونی انقلابات کے ذریعہ۔وہ ایک الگ مضمون ہے۔ ہم ایسے انقلابات کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے لیکن یہ دستورعام نہیں ہے۔ اس لئے ہم جب حکمت کے ساتھ اپنی زندگی کے پروگرام بناتے ہیں تو اتفاقات پر نہیں بنایا کرتے بلکہ دستورعام پر بنایا کرتے ہیں۔ پس اس پہلو سے بچوں کو بہت گہری تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

پھر عمومی تعلیم میں واقفین بچوں کی بنیاد وسیع کرنے کی خاطر جو ٹائپ سیکھ سکتے ہیں ان کو ٹائپ سکھانا چاہیے۔ اکاؤنٹس رکھنے کی تربیت دینی چاہیے دیانت پر جیسا کہ میں نے کہا تھا بہت زور ہونا چاہیے۔ اموال میں خیانت کی جو کمزوری ہے یہ بہت ہی بھیانک ہو جاتی ہے اگر واقفین زندگی میں پائی جائے۔ اس کے بعض دفعہ نہایت ہی خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ وہ جماعت جو خالصةً طوعی چندوں پر چل رہی ہے اس میں دیانت کو اتنی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ گویا دیانت کا ہماری شہ رگ کی حفاظت سے تعلق ہے۔ سارا مالی نظام جو جماعت احمدیہ کا جاری ہے وہ اعتماد اور دیانت کی وجہ سے جاری ہے۔ اگر خدانخواستہ جماعت میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ واقفین زندگی اور سلسلہ کے شعبہ اموال میں کام کرنے والے خود بددیانت ہیں تو ان کو چندے دینے کی جو توفیق نصیب ہوتی ہے اس توفیق کا گلا گھونٹا جائے گا۔ لوگ چاہیں گے بھی تو پھر بھی انکو واقعةً چندہ دینے کی توفیق نہیں ملے گی۔ اسلئے واقفین کو خصوصیت کے ساتھ مالی لحاظ سے بہت ہی درست ہونا چاہیے اور اس لحاظ سے اکاؤنٹس کا بھی ایک گہرا تعلق ہے۔ جو لوگ اکاؤنٹس نہیں ر کھ سکتے ان سے بعض دفعہ مالی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بددیانتی ہوئی ہے اور بعض دفعہ مالی غلطیوں کے نتیجہ میں وہ لوگ جن کو اکاؤنٹس کا طریقہ نہ آتا ہو بددیانتی کرتے ہیں اور افسر متعلقہ اس میں ذمہ دار ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو اموال پر مقرر ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا مالی لحاظ سے دیانت کا معیار جماعت احمدیہ میں اتنا بلند ہے کہ دنیا کی کوئی جماعت بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن خرابیاں پھر بھی دکھائی دیتی ہیں۔ عمداً بددیانتی کی مثالیں تو بہت شاذ ہیں یعنی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایسے واقعات کی مثالیں بہت سی ہیں (یعنی بہت سی سے مراد یہ ہے کہ مقابلةً بہت ہیں) کہ جن میں ایک شخص کو حساب رکھنا نہیں آتا، ایک شخص کو یہ نہیں پتہ کہ میں دستخط کرنے لگا ہوں تو اس کے نتیجہ میں میری کیا ذمہ داری ہے؟ مجھے کیا دیکھنا چاہیے؟ جس کو جمع تفریق نہیں آتی اس بیچارے کے نیچے بعض دفعہ بددیانتیاں ہو جاتی ہیں اور بعد میں پھر الزام اس پر لگتے ہیں اور بعض دفعہ تحقیق کے نتیجہ میں وہ بری بھی ہو جاتا ہے۔
بعض دفعہ معاملہ اُلجھا ہی رہتا ہے۔ پھر ہمیشہ ابہام باقی رہ جاتا ہے کہ پتہ نہیں بددیانت تھا یا نہیں۔ اس لئے اکاؤنٹس کے متعلق تمام واقفین بچوں کو شروع سے ہی تربیت دینی چاہیے۔ تبھی میں نے حساب کا ذکر کیا تھا کہ ان کا حساب بھی اچھا ہو اور ان کو بچپن سے تربیت دی جائے کہ کس طرح اموال کا حساب رکھا جاتا ہے۔ روزمرہ سودے کے ذریعہ سے ہی ان کو یہ تربیت دی جا سکتی ہے اور پھر سودا اگر ان کے ذریعے کبھی منگوایا جائے تو اس سے ان کی دیانتداری کی نوک پلک مزید درست کی جا سکتی ہے۔ مثلاً بعض بچوں سے ماں باپ سودا منگواتے ہیں تو وہ چند پیسے جو بچتے ہیں وہ جیب میں ر کھ لیتے ہیں، بددیانتی کے طور پر نہیں اُن کے ماں باپ کا مال ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ پیسے کیا واپس کرنے ہیں۔ وہ وقت ہے تربیت کرنے کا۔ اس وقت ان کو کہنا چاہیے کہ سودا منگوانے میں اگر ایک دھیلا، ایک دمڑی بھی باقی بچی ہو تو واپس کرنی چاہیے۔ پھر چاہے دھیلے کی بجائے دس روپے مانگو، اسکا کوئی حرج نہیں ۔ لیکن بغیر بتائے کے جو دھیلا جیب میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ بچ گیا تھا، اس کا کیا واپس کرنا تھا۔ اس نے آئندہ بدیانتی کے بیج بو دئیے ہیں، آئندہ بے احتیاطیوں کے بیج بو دیئے ہیں ۔ تو قومیں جو بگڑتی اور بنتی ہیں وہ دراصل گھروں میں ہی بگڑتی اور بنتی ہیں۔ ماں باپ اگر باریک نظر سے اپنے بچوں کی تربیت کررہے ہوں تو وہ عظیم مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں یعنی بڑی شاندار قومیں انکے گھروں میں تخلیق پاتی ہیں۔ لیکن یہ چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں بڑے بڑے عظیم اور بعض دفعہ سنگین نتائج پر منتج ہو جایا کرتی ہیں ۔ پس مالی لحاظ سے واقفین بچوں کو تقویٰ کی باریک راہیں سکھائیں۔ یہ جتنی باتیں میں کہہ رہا ہوں ان سب کا اصل میں تقویٰ سے تعلق ہے۔ تو تقویٰ کی کچھ موٹی راہیں ہیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں ۔ کچھ مزید باریک ہیں اور واقفین کو ہمیں نہایت لطیف رنگ میں تقویٰ کی تربیت دینی چاہیے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

اسکے علاوہ واقفین بچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظامِ جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، ناصرات سے وابستہ کرنا، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ انصاراللہ کی ذمہ داری تو بعد میں آئے گی لیکن15سال کی عمر تک، خدام کی حد تک تو آپ تربیت کر سکتے ہیں۔ خدام کی حد تک اگر تربیت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر انصار کی عمر میں بگڑنے کا امکان شاذ کے طور پر ہی کوئی ہوگا۔ ورنہ جتنی لمبی نالی سے گولی چلائی جائے اتنی دیر تک سیدھی رہتی ہے۔ خدام کی حد تک اگر تربیت کی نالی لمبی ہو جائے تو خدا کے فضل سے پھر موت تک وہ انسان سیدھا ہی چلے گا ۔ الاماشاءاﷲ۔ تو اس پہلو سے بہت ضروری ہے کہ نظام کا احترام سکھایا جائے۔ پھرا پنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے نظامِ جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہد ےدار کے خلاف شکوہ ہو۔ وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کےلئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔ آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے۔ یہ ایسا زخم ہوا کرتا ہے کہ جس کو لگتا ہے اسکو کم لگتاہے۔ جو قریب کا دیکھنے والا ہے اس کو زیادہ لگتا ہے۔ اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظامِ جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں انکی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتاہے اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔ واقفین بچوں کو نہ صرف اس لحاظ سے بتانا چاہیے بلکہ یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی سے کو ئی شکایت ہے خواہ تمہاری توقعات اس کے متعلق کتنی عظیم کیوں نہ ہوں، اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی امیر جما عت ہے اور اس سے ہر انسان کو توقع ہے کہ یہ کرے اور وہ کرے اور کسی توقع کواس سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو واقفین زندگی کےلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کو یہ خاص طور پر سمجھایا جائے کہ اس ٹھوکر کے نتیجہ میں تمہیں ہلاک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی اسی قسم کے زخم والی بات ہے جس کا مَیں نے ذکر کیا ہے۔ یعنی دراصل ٹھوکر تو کھاتاہے کوئی عہدیدار اور لحد میں اتر جاتا ہے دیکھنے والا۔ وہ تو ٹھوکر کھا کر پھر بھی اپنے دین کی حفاظت کرلیتاہے۔ اپنی غلطی پر انسان استغفار کرتا ہے اور سنبھل جاتا ہے وہ اکثر ہلاک نہیں ہو جایا کرتاسوائے اس کے کہ بعض خاص غلطیاں ایسی ہوں۔ لیکن جن کا مزاج ٹھوکر کھانیوالا ہے وہ ان غلطیوں کو دیکھ کر بعض دفعہ ہلاک ہی ہو جایا کرتے ہیں، دین سے ہی متنفر ہو جایا کرتے ہیں اور پھر جراثیم پھیلانے والے بن جاتے ہیں۔ مجلسوں میں بیٹھ کر جہاں دوستوں میں تذکرے ہوتے ہیں وہاں کہہ دیا۔ جی فلاں صاحب نے تو یہ کیا تھا اور فلاں صاحب نے یہ کیا تھا۔ اس طرح وہ ساری قوم کی ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں۔ تو بچوں کو پہلے تو اس بلا سے محفوظ رکھیں۔ پھر جب ذرا بڑی عمر کے ہوں تو ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اُسکے دین سے ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔ آپکو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اسکا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپکو حق ہے کہ اپنے ماحول، اپنے دوستوں، اپنے بچوں اور اپنی اولاد کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کر دیں۔ اپنا زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اس کے اندر مال کے جو ذرائع باقاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان کو اختیار کریں لیکن لوگوں میں ایسی باتیں کرنے سے پرہیز کریں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

آج بھی جماعت میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں اور ایسے واقعات میری نظر میں آتے رہتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس نے بعض مخلصین کے سامنے وہ باتیں بیان کیں۔ وہ باتیں اگرچہ سچی تھیں لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ ان مخلصین کے ایمان کو کتنا بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض واقفین زندگی نے بھی ایسی حرکتیں کیں۔ ان کو انتظامیہ سے یا تبشیر سے شکوہ ہوا۔ غیر ملکوں کے نَو احمدی مخلصین بیچارے ساری عمر بڑے اخلاص کے ساتھ جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر، یہ بتانے کے لئے کہ دیکھیں جی ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے، وہ قصے بیان کرنے شروع کئے۔ خود تو اس طرح بچ کے واپس اپنے ملک میں چلے گئے اور پیچھے کئی زخمی رُوحیں چھوڑ گئے۔ ان کا گناہ کس کے سر پہ ہوگا؟ یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ انتظامیہ کی غلطی تھی بھی یا نہیں اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا، غلطی انتظامیہ کی نہیں تھی۔ بدظنّی سے سارا سلسلہ شروع ہوا لیکن اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے دوسروں کے ایمان ضائع کرے۔ پس سچا وفادار وہ ہوا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی جماعت پر نظر رکھے۔ اس کی صحت پر نظر رکھے۔ پیار کا وہی ثبوت سچا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تجویز کیا تھا اور اس سے زیادہ بہتر قابل اعتماد اور کوئی بات نہیں۔ آپ نے سنا ہے، بارہا مجھ سے بھی سنا ہے، پہلے بھی سنتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان ؑ کی عدالت میں دو دعویدار ماؤں کا جھگڑا پہنچا جن کے پاس ایک ہی بچہ تھا ۔کبھی ایک گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی، کبھی دوسری گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی اور دونوں روتی اور شور مچاتی تھیں کہ یہ میرا بچہ ہے۔ کسی صاحبِ فہم کو سمجھ نہیں آئی کہ اس مسئلہ کو کیسے طے کیا جائے۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا تو آپ ؑ نے فرمایا کہ یہ طے کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔ اگر ایک کا بچہ ہوا اور دوسری کو دے دیا گیا تو بڑا ظلم ہوگا۔ اس لئے کیوں نہ اس بچے کو دو ٹکڑے کر دیا جائے اور ایک ٹکڑا ایک کو دے دیا جائے اور دوسرا ٹکڑا دوسری کو دے دیا جائے تاکہ ناانصافی نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے جلاّد سے کہا کہ آؤ اس بچے کو عین بیچ سے نصف سے دو ٹکڑے کر کے ایک، ایک کو دے دو اور دوسرا، دوسری کو دے دو۔ جو ماں تھی وہ روتی چیختی ہوئی بچے پر گر پڑی کہ میرے ٹکڑے کردو اور یہ بچہ اس کو دے دو۔ لیکن خدا کے لئے اس بچہ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بچہ اِس کا ہے۔ پس جو خدا کی خاطر جماعت سے محبت رکھتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہ جماعت کو ٹکڑے ہونے دے اور ایسی باتیں برداشت کر جائے کہ جس کے نتیجہ میں کسی کے ایمان کو گزند پہنچتا ہو۔ وہ اپنی جان پر سب وبال لے لے گا اور یہی اُس کی سچائی کی علامت ہے۔ لیکن اپنی تکلیف کو دوسرے کی رُوح کو زخمی کرنے کے لئے استعمال نہیں کرے گا، واقفین میں اس تربیت کی غیر معمولی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ ایک دفعہ واقعہ نہیں ہوا، دو دفعہ نہیں ہوا۔ بیسیوں مرتبہ پہلے ہو چکا ہے اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک شخص سمجھتا ہے کہ مَیں نے خوب چالاکی کی ہے خوب انتقام لیا ہے۔ اس طرح تحریکِ جدید نے مجھ سے کیا اور اس طرح پھر مَیں نے اس کا جواب دیا۔ اب دیکھ لو میرے پیچھے کتنا بڑا گروہ ہے اور یہ نہیں سوچا کہ وہ گروہ اُس کے پیچھے نہیں، وہ شیطان کے پیچھے تھا۔ وہ بجائے متقیوں کا امام بننے کے منافقین کا امام بن گیا ہے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا ہے اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی ہلاک کیا۔ پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سہی لیکن غیر معمولی نتائج پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔ آپ بچپن سے ہی اپنے واقفینِ نو کو یہ باتیں سمجھائیں اور پیار و محبت سے ان کی تربیت کریں تاکہ وہ آئندہ صدی کی عظیم لیڈر شپ کے اہل بن سکیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

اور بہت سی باتوں میں سے ایک اہم بات جو میں آخر پر کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ واقفین بچوں کو وفا سکھائیں۔ وقفِ زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے۔ وہ واقفِ زندگی جو وفا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف کے ساتھ نہیں چمٹتا وہ جب الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اس کو سزا دے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غداری کا داغ لگا لیتا ہے اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔ اس لئے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اپنے بچوں کو وقف کرنے کا، یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے نتیجہ میں یا تو یہ بچے عظیم اولیاءبنیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گے اور ان کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہے۔ جتنی بلندی ہو اتنا ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی تو بڑھ جایا کرتا ہے۔ اس لئے بہت احتیاط سے ان کی تربیت کریں اور ان کو وفا کے سبق دیں اور بار بار دیں۔ بعض دفعہ ایسے واقفین جو وقف چھوڑتے ہیں وہ اپنی طرف سے چالاکی سے چھوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہم جماعت کی حد سے باہر نکل گئے، اب ہم آزاد ہو گئے، اب ہمارا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چالاکی تو ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہوتی۔ وہ چالاکی سے اپنا نقصان کرنے والے ہوتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایک ایسے واقفِ زندگی کا معاملہ آیا جس کی ایسے ملک میں تقرری تھی کہ اگر وہاں ایک معین عرصہ تک وہ رہے تو وہاں کی نیشنیلٹی کا حق دار بن جاتا تھا۔ بعض وجوہات سے میں نے اس کا تبادلہ ضروری سمجھا۔ چنانچہ جب میں نے اس کا تبادلہ کیا تو چھ یا سات ماہ ابھی اس مدت میں باقی تھے جس کے بعد وہ نیشنیلٹی کا حقدار بنتا تھا۔ تو اس کے بڑے لجاجت کے اور محبت اور خلوص کے خط آنے شروع ہوئے کہ مجھے یہاں قیام کی کچھ مزید مہلت دی جائے۔ میں نے وہ مہلت دے دی۔ بعض صاحب فہم لوگوں نے یہ سمجھا کہ وہ مجھے بیوقوف بنا گیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا کہ جناب یہ تو آپ کے ساتھ چالاکی کر گیا ہے اور یہ تو چاہتا ہے کہ عرصہ پورا ہو اور پھر وقف سے آزاد ہو جائے، پھر اس کو پرواہ کوئی نہ رہے۔ میں نے ان کو بتایا یا لکھا کہ مجھے سب پتہ ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ یہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ لیکن وہ میرے ساتھ چالاکی نہیں کر رہا۔ وہ اپنے نفس کے ساتھ چالاکی کر رہا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے یُـخٰـدِعُـوْنَ اللّٰہَ وَالَّـذِیْـنَ اٰمَـنُوْا ج وَمَا یَـخْـدَعُـوْنَ اِلَّآ اَنْــفُسَھُـمْ اس لئے مَیں اسکی ڈور ڈھیلی چھوڑ رہا ہوں تاکہ یہ جو مجھے ظن ہے اور آپکو بھی ہے یہ کہیں بدظنی نہ ہو۔ اگر وہ اس قسم کا ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں اور جیسا مجھے بھی گمان ہے تو پھر وقف میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔ بدظنی کے نتیجہ میں یعنی اس ظن کے نتیجہ میں جو بدظنی بھی ہو سکتی ہے بجائے اسکے کہ ہم اسکو بدلتے پھریں اور اسکو بچاتے پھریں اسکو موقع ملنا چاہیے۔ چنانچہ وہ حیران رہ گیا کہ مَیں نے اسکو اجازت دے دی ہے۔ پھر اسنے کہا اب مزید اتنا عرصہ مل جائے تو اتنا روپیہ بھی مجھے مل جائے گا۔ مَیں نے کہا بیشک تم وہ بھی لے لو اور جب وہ واپس گیا تو اسکے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔ کیسی بے وقوفوں والی چالاکی ہے۔ بظاہر سمجھ کی وہ بات جو تقویٰ سے خالی ہوا کرتی ہے اسکو ہم عام دنیا میں چالاکی کہتے ہیں۔ پس اپنے بچوں کو سطحی چالاکیوں سے بھی بچائیں۔ بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور ان کو عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالاکیوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ان شوخیوں کی تیزی خود ان کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔ واقفین بچوں کو یہ سمجھائیں کہ خدا کے ساتھ ایک عہد ہے جو ہم نے تو بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن اگر تم اس بات کے متحمل نہیں ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ ایک گیٹ اور بھی آئے گا جب یہ بچے بلوغت کے قریب پہنچ رہے ہوں گے۔ اس وقت دوبارہ جماعت ان سے پوچھے گی کہ وقف میں رہنا چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔ ایک دفعہ امریکہ میں ڈزنی لینڈ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک Ride ایسی تھی جس میں بہت ہی زیادہ خوفناک موڑ آتے تھے اور اس کی رفتار بھی تیز تھی اور اچانک بڑی تیزی کے ساتھ مڑتی تھی، تو کمزور دل والوں کو اس سے خطرہ تھا کہ ممکن ہے کسی کا دل ہی نہ بیٹھ جائے۔ چنانچہ انہوں نے وارننگ لگائی ہوئی تھیں کہ اب بھی واپس جا سکتے ہو، اب بھی واپس جا سکتے ہو اور پھر آخری وارننگ تھی سرخ رنگ میں کہ اب یہ آخری ہے، اب واپس نہیں جا سکو گے۔ تو وہ بھی ایک گیٹ جماعت میں آنے والا ہے جب ان بچوں سے جو آج وقف ہوئے ہیں ان سے پوچھا جائے گا کہ اب یہ آخری دروازہ ہے، پھر تم واپس نہیں جا سکتے۔ اگر زندگی کا سودا کرنے کی ہمت ہے، اگر اس بات کی توفیق ہے کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کردو اور پھر کبھی واپس نہ لو، پھر تم آگے آؤ ورنہ تم اُلٹے قدموں واپس مڑ جاؤ۔ تو اس دروازے میں داخلے کے لئے آج سے ان کو تیار کریں۔ وقف وہی ہے جس پر آدمی وفا کے ساتھ تادمِ آخر قائم رہتا ہے۔ ہر قسم کے زخموں کے باوجود انسان گھسٹتا ہوا بھی اسی راہ پر بڑھتا ہے۔ واپس نہیں مڑا کرتا۔ ایسے وقف کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کو تیار کریں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم واقفین کی ایک ایسی فوج خدا کی راہ میں پیش کریں جو ہر قسم کے ان ہتھیاروں سے مزین ہو جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے ضروری ہوا کرتے ہیں اور پھر اُن پر ان کو کامل دسترس ہو۔آمین

(خطبہ جمعہ فرمودہ  حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ بتاریخ 10  فروری  1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 83  تا  100

۔۔۔ واقفین کی تیاری کے سلسلے میں ان کی بدنی صحت کا بھی خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔ وہ واقفین جو مختلف عوارض کا شکار رہتے ہیں اگرچہ بعض ان میں سے خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر غیر معمولی خدمت بھی سرانجام دے سکتے ہیں لیکن بالعموم صحت مند واقفین بیمار واقفین کے مقابل پر زیادہ خدمت کے اہل ثابت ہوتے ہیں۔ اسلئے بچپن ہی سے ان کی صحت کی بہت احتیاط کے ساتھ نگہداشت ضروری ہے۔ پھر انکو مختلف کھیلوں میں آگے بڑھانے کی باقاعدہ کوشش کرنی چاہیے۔ ہر شخص کا مزاج کھیلوں کے معاملے میں مختلف ہے۔ پس جس کھیل سے بھی کسی واقف بچے کو رغبت ہو اس کھیل میں حتی المقدور کوشش کے ساتھ ماہرین کے ذریعے اس کو تربیت دلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بعض دفعہ ایک ایسا مربی جو کسی کھیل میں مہارت رکھتا ہو محض اس کھیل کی وساطت سے لوگوں پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیتا ہے اور نوجوان نسلیں اس کے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہو جاتی ہیں۔ پس ہم تربیت کا کوئی بھی راستہ اختیار کریں، کیونکہ ہماری نیّتیں خالص ہیں اس لئے وہ رستہ خدا ہی کی طرف جائے گا۔ دنیاوی تعلیم کے سلسلے میں مَیں نے بیان کیا تھا کہ ان کی تعلیم کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے، ان کے علم کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں قوموں کی تاریخ اور مختلف ممالک کے جغرافیہ کو خصوصیت کے ساتھ ان کی تعلیم میں شامل کرنا چاہیے۔ لیکن تعلیم میں بچے کے طبعی بچپن کے رجحانات کو ضرور پیش نظر رکھنا ہوگا اور محض تعلیم میں ایسی سنجیدگی اختیار نہیں کرنی چاہیے جس سے وہ بچہ یا تو بالکل تعلیم سے بے رغبتی اختیار کر جائے یا دوسرے بچوں سے اپنے آپ کو بالکل الگ شمار کرنے لگے اور اس کا طبعی رابطہ دوسرے بچوں سے منقطع ہو جائے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

مثلاً بچے کہانیاں بھی پسند کرتے ہیں اور ایک عمر میں جا کر ان کو ناولز کے مطالعہ سے بھی دور نہیں رکھنا چاہیے۔ لیکن بعض قسم کی لغو کہانیاں جو انسانی طبیعت پر گندے اور گہرے بداثرات چھوڑ جاتی ہیں ان سے ان کو بچانا چاہیے خواہ نمونے کے طور پر ایک آدھ کہانی انہیں پڑھا بھی دی جائے۔ بعض بچے (Detective Stories) یعنی جاسوسی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں لیکن اگر انہیں اسی قسم کی لغو جاسوسی کہانیاں پڑھائی جائیں جیسے آج کل پاکستان میں رائج ہیں اور بعض مصنّف بچوں میں غیر معمولی شہرت اختیار کر چکے ہیں جاسوسی کہانیوں کے مصنّف کے طور پر تو بجائے اس کے کہ ان کا ذہن تیز ہو، ان کی استدلال کی طاقتیں صیقل ہو جائیں اور زیادہ پہلے سے بڑھ کر ان میں استدلال کی قوت چمکے وہ ایسے جاہلانہ جاسوسی تصورات میں مبتلا ہو جائیں گے کہ جس کا نتیجہ عقل کے ماؤف ہونے کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ شرلک ہومز کو تمام دنیا میں جو غیر معمولی عظمت حاصل ہوئی ہے وہ بھی تو جاسوسی ناول لکھنے والا انسان تھا لیکن اس کی جاسوسی کہانیاں دنیا کی اتنی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں کہ آج تک کسی دوسرے مصنف کی اس طرز کی کہانیاں دوسری زبانوں میں اس طرح ترجمہ نہیں کی گئیں۔ جس طرح شیکسپئر کے نام پر انگریز قوم کو فخر ہے۔ اسی طرح اس جاسوسی ناول نگار کے نام پر بھی انگریز قوم فخر کرتی ہے۔ یہ محض اس لئے ہے کہ اس کے استدلال میں معقولیت تھی اگرچہ کہانیاں فرضی تھیں۔ اس لئے اس قسم کی جاسوسی کہانیاں بچوں کو ضرور پڑھائی جائیں جن سے استدلال کی قوتیں تیز ہوں۔ لیکن احمقانہ جاسوسی کہانیاں تو استدلال کی قوتوں کو پہلے سے تیز کرنے کی بجائے ماؤف کرتی ہیں۔ اسی طرح ایک رواج ہندوستان میں اور پاکستان میں آجکل بہت بڑھ رہا ہے اور وہ بچوں کو دیومالائی کہانیاں پڑھانے کا رواج ہے اور ہندوستان کی دیومالائی کہانیوں میں اس قسم کے لغو تصورات بکثرت ملتے ہیں جو بچے کو بھوتوں اور جادو کا قائل کریں۔ اس قسم کے تصورات اس کے دل میں جاگزیں کریں کہ گویا سانپ ایک عمر میں جا کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ دنیا کے ہرجانور کا روپ دھار لے اور اسی طرح جادوگرنیاں اور ڈائنیں انسانی زندگی میں ایک گہرا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سارے فرضی قصے اگر بڑا پڑھے تو جانتا ہے کہ یہ محض دل بہلاوے کی من گھڑت کہانیاں ہیں لیکن جب بچہ پڑھتا ہے تو ہمیشہ کے لئے اس کے دل پہ بعض اثرات قائم ہو جاتے ہیں۔ جو بچہ ایک دفعہ ان کہانیوں کے اثر سے ڈرپوک ہو جائے اور اندھیرے اور انہونی چیزوں سے خوف کھانے لگے پھر تمام عمر اس کی یہ کمزوری دور نہیں کی جا سکتی۔ بعض لوگ بچپن کے خوف اپنے بڑھاپے تک لے جاتے ہیں۔ اس لئے کہانیوں میں بھی ایسی کہانیوں کو ترجیح دینا ضروری ہے جن سے کردار میں عظمت پیدا ہو، حقیقت پسندی پیدا ہو، بہادری پیدا ہو۔ دیگر انسانی اخلاق میں سے بعض نمایاں کر کے پیش کئے گئے ہوں۔ ایسی کہانیاں خواہ جانوروں کی زبان میں بھی پیش کی جائیں وہ نقصان کی بجائے فائدہ ہی دیتی ہیں۔ عربی کہانیاں لکھنے والوں میں یہ رجحان پایا جاتا تھا کہ وہ جانوروں کی کہانیوں کی صورت میں بہت سے اخلاقی سبق دیتے تھے اور الف لیلیٰ کے جو قصے تمام دنیا میں مشہور ہوئے ہیں ان میں اگرچہ بعض بہت گندی کہانیاں بھی شامل ہیں لیکن ان کے پس پردہ روح یہی تھی کہ مختلف قصوں کے ذریعہ بعض انسانی اخلاق کو نمایاں طور پر پیش کیا جائے۔ مثلاً یہ قصہ کہ ایک بادشاہ نے اپنی ملکہ کو ایک کتے کی طرح باندھ کر ایک جگہ رکھا ہوا تھا اور جانوروں کی طرح اس سے سلوک کیا جا رہا تھا اور کتے کو بڑے اہتمام کے ساتھ معزز انسانوں کی طرح محلات میں بٹھایا گیا تھا اور اس کی خدمت پر نوکر مامور تھے۔ یہ قصہ ظاہر ہے کہ بالکل فرضی ہے لیکن جو اعلیٰ خلق پیش کرنا مقصود تھا وہ یہ تھا کہ کتا مالک کا وفادار تھا اور ملکہ دغا باز اور احسان فراموش تھی۔ پس ایسی کہانیاں پڑھ کر بچہ کبھی یہ سبق نہیں لیتا کہ بیوی پر ظلم کرنا چاہیے بلکہ یہ سبق لیتا ہے کہ انسان کو دوسرے انسان کا وفادار اور احسان مند رہنا چاہیے۔ اسی طرح مولانا روم کی مثنوی بعض کہانیاں ایسی بھی پیش کرتی ہے جو پڑھ کر بعض انسان سمجھتے ہیں کہ یہ کیسے مولانا ہیں جو اتنی گندی کہانیاں بھی اپنی مثنوی میں شامل کئے ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کی ساری توجہ جنسیات کی طرف ہے اور اس کے باہر یہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ چنانچہ ایک دفعہ لاہور کے ایک معزز غیر احمدی سیاستدان نے مجھے مولانا روم کی مثنوی پیش کی جس میں جگہ جگہ نشان لگائے ہوئے تھے اور ساتھ یہ کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بزرگ انسان تھا یہ اتنا بڑا مرتبہ تھا، ایسا بڑا فلسفی تھا، ایسا صوفی تھا۔ لیکن یہ واقعات آپ پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ کوئی شریف انسان یہ برداشت کرے گا کہ اس کی بہو بیٹیاں ان کہانیوں کو پڑھیں۔ چنانچہ جب میں نے ان حصّوں کو خصوصیت سے پڑھا تو یہ معلوم ہوا کہ نتیجہ نکالنے میں اس دوست نے غلطی کی ہے۔ یہ کہانیاں جنسیات سے ہی تعلق رکھتی تھیں لیکن ان کا آخری نتیجہ ایسا تھا کہ انسان کو جنسی بے راہ روی سے سخت متنفر کر دیتا تھا اور انجام ایسا تھا جس سے جنسی جذبات کو انگیخت ہونے کی بجائے پاکیزگی کی طرف انسانی ذہن مائل ہوتا تھا۔ پس یہ تو اس وقت میرا مقصد نہیں کہ تفصیل سے لٹریچر کی مختلف قسموں پرتبصرہ کروں۔ یہ چند مثالیں اس لئے آپ کے سامنے ر کھ رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو جو کچھ آپ پڑھاتے ہیں اس کے متعلق خوب متنبہ رہیں کہ اگر غلط لٹریچر بچپن میں پڑھایا گیا تو اس کے بداثرات بعض موت تک ساتھ چمٹے رہتے ہیں اور اگر اچھا لٹریچر پڑھایا جائے تو اس کے نیک اثرات بھی بہت ہی شاندار نتائج پیدا کرتے ہیں اور بعض انسانوں کی زندگیاں سنوار دیا کرتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے سب سے زیادہ زور شروع ہی سے عربی زبان پر دینا چاہیے۔ کیونکہ ایک مبلغ عربی کے گہرے مطالعہ کے بغیر اور اس کے باریک در باریک مفاہیم کو سمجھے بغیر قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے بچپن ہی سے عربی زبان کے لئے بنیاد قائم کرنی چاہیے اور جہاں ذرائع میسر ہوں اس کی بول چال کی تربیت بھی دینی چاہیے۔ قادیان اور ربوہ میں ایک زمانے میں جب ہم طالبعلم تھے عربی زبان کی طرف توجہ تھی لیکن بول چال کا محاورہ نہیں سکھایا جاتا تھا یعنی توجہ سے نہیں سکھایا جاتا تھا۔ اس لئے اس کا بھی ایک نقصان بعد میں سامنے آیا۔ آج کل جو رواج ہے کہ بول چال سکھائی جا رہی ہے لیکن زبان کے گہرے معانی کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاتی۔ اس لئے بہت سے عرب بھی ایسے ہیں اور تجارت کی غرض سے عربی سیکھنے والے بھی ایسے ہیں جو زبان بولنا تو سیکھ گئے ہیں لیکن عربی کی گہرائی سے ناواقف ہیں اور اس کی گرائمر پر عبور نہیں ہے۔ پس اپنی واقفین نسلوں کو ان دونوں پہلوؤں سے متوازن تعلیم دیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

عربی کے بعد اردو بھی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی کامل غلامی میں اس زمانے کا جو امام بنایا گیا ہے اس کا اکثر لٹریچر اردو میں ہے۔ احمدیہ لٹریچر چونکہ خالصةً قرآن اور حدیث کی تفسیر میں ہے اس لئے عرب پڑھنے والے بھی جب آپ کے عربی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ قرآن اور حدیث پر ایک ایسی گہری معرفت اس انسان کو حاصل ہے کہ جو اِن لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی تھی جو مادری لحاظ سے عربی زبان سیکھنے اور بولنے والے ہیں۔ چنانچہ ہمارے عربی مجلہ’’ الـتّـقویٰ‘‘ میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے جو اقتباسات شائع ہوتے ہیں ان کو پڑھ کر بعض غیر احمدی عرب علماءکے ایسے عظیم الشان تحسین کے خط ملے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ بعض ان میں سے مفتیوں کے بیٹے ہیں۔ اس عظمت کے آدمیوں کے بیٹے ہیں جن کو دین پر عبور ہے اور دین میں معروف مفتی ہیں۔ ان کا نام لینا یہاں مناسب نہیں لیکن انہوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم تو حیران رہ گئے ہیں دیکھ کر اور بعض عربوں نے کہا کہ ایسی خوبصورت زبان ہے، ایسی دلکش عربی زبان ہے حضرت مسیح موعود ؑ کی۔ ایک شخص نے کہا ۔مَیں بہت شوقین ہوں عربی لٹریچر کا مگر آج تک اس عظمت کا لکھنے والا مَیں نے کوئی عربی نہیں دیکھا۔ پس عربی کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود ؑکے اردو لٹریچر کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور بچوں کو اتنے معیار کی اردو سکھانی ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے اردو لٹریچر سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔ جہاں تک دنیا کی دیگر زبانوں کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے اکثر اہم ممالک میں ایسی احمدی نسلیں تیار ہو رہی ہیں جو مقامی زبان نہایت شستگی کے ساتھ اہل زبان کی طرح بولتی ہیں اور یہاں ہالینڈ میں بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں ہے جو باہر سے آنے کے باوجود ہالینڈ کی زبان ہالینڈ کے باشندوں کی طرح نہایت شستگی اور صفائی سے بولنے والے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کا اردو کا معیار ویسا نہیں رہا۔ چنانچہ بعض بچوں سے جب مَیں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ہالینڈش زبان میں تو وہ بہت ترقی کر چکے ہیں لیکن اردو زبان پر عبور خاصا قابل توجہ ہے یعنی عبور حاصل نہیں ہے اور معیار خاصا قابل توجہ ہے۔ پس آئندہ اپنی واقفین نسلوں کو کم از کم تین زبانوں کا ماہر بنانا ہوگا۔ عربی، اردو اور مقامی زبان۔ پھر ہمیں ان شاءاللہ آئندہ صدی کے لئے دیگر ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تعلیم پیش کرنے والے بہت اچھے مبلغین مہیا ہو جائیں گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

آئندہ جماعت کی ضروریات میں بعض انسانی خلق سے تعلق رکھنے والی ضروریات ہیں جن کا مَیں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اور اب دوبارہ اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں۔ پس واقفین بچوں کے اخلاق پر خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے۔ انہیں خوش اخلاق بنانا چاہیے۔ ایک تو اخلاق کا لفظ ہے جو زیادہ گہرے خصائل سے تعلق رکھتا ہے۔ اسکے متعلق مَیں پہلے کئی دفعہ بات کر چکا ہوں۔ لیکن ایک اخلاق کا معنی عرف عام میں انسان کی میل جول کی اس صلاحیت کو کہتے ہیں جس سے وہ دشمن کم بناتا ہے اور دوست زیادہ۔ کوئی بدمزاج انسان اچھا واقفِ زندگی ثابت نہیں ہو سکتا اور کوئی خشک مزاج انسان ملاّں تو کہلا سکتا ہے، صحیح معنوں میں روحانی انسان نہیں بن سکتا۔
ایک دفعہ ایک واقفِ زندگی کے متعلق ایک جگہ سے شکایتیں ملیں کہ یہ بدخلق ہے اور ترش روئی سے لوگوں سے سلوک کرتا ہے۔ جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے یہ جواب دیا کہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔ میں تو بالکل درست اور صحیح چل رہا ہوں اور انکی خرابیاں ہیں۔ جب توجہ دلاتا ہوں تو پھر آگے سے غصہ کرتے ہیں۔ مَیں نے ان سے کہا کہ خرابیوں کی طرف تو سب سے زیادہ توجہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دلائی تھی اور جتنی دوری اس دنیا کے لوگوں کی آپ سے تھی اسکا ہزارواں حصّہ بھی جماعت احمدیہ کے نوجوان آپ سے فاصلے پر نہیں کھڑے۔ آنحضرت ﷺ کامل طور پر معصوم تھے اور آپ خود اپنے اندر کچھ خرابیاں رکھتے ہیں ۔ جن سے حضور اکرم ﷺ مخاطب تھے وہ تمام برائیوں کی آماجگاہ تھے۔ مگر یہ نوجوان تو کئی پہلوؤں سے سلجھے ہوئے ،منجھے ہوئے اور باہر کی دنیا کے جوانوں سے سینکڑوں گنا بہتر ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ جب نصیحت کریں تو وہ بد کتے ہیں اور متنفر ہوتے ہیں اور آنحضرتﷺ جب نصیحت فرماتے تھے وہ آپؐ کے عاشق ہو جایا کرتے تھے۔ دوسرے مَیں نے ان سے کہا کہ ایک آدھ شکایت تو ہر مبلغ کے متعلق ، ہر ایسے شخص کے متعلق آہی جاتی ہے جو کسی کام پر مامور ہو۔ ہر شخص کو وہ راضی نہیں کر سکتا۔ کچھ لوگ ضرور ناراض ہو جایا کرتے ہیں لیکن ایک شخص کے متعلق شکایتوں کا تانتا لگ جائے تو اس پر غالب کا یہ شعر اطلاق پاتا ہے۔

سختی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

پس اپنے بچوں کو خوش اخلاق ان معنوں میں بنائیں کہ میٹھے بول بول سکتے ہوں۔ لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہوں۔ غیروں اور دشمنوں کے دلوں میں راہ پاسکتے ہوں۔ اعلیٰ سوسائٹی میں سرایت کرسکتے ہوں۔ کیونکہ اسکے بغیر نہ تربیت ہو سکتی، نہ تبلیغ ممکن ہے۔ بعض مبلغین کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ اسلئے اپنے ملک کے بڑے سے بڑے لوگوں سے جب وہ ملتے ہیں تو تھوڑی سی ملاقات میں وہ انکے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور اسکے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کی عظیم الشان راہیں کھل جاتی ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

جہاں تک بچیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی بارہا ماں باپ سوال کرتے ہیں کہ ہم انہیں کیا بنائیں ؟وہ تمام باتیں جو مردوں کے متعلق یا لڑکوں کے متعلق میں نے بیان کی ہیں وہ ان پر بھی اطلاق پاتی ہیں۔ لیکن اسکے علاوہ انہیں گھر گرہستی کی اعلیٰ تعلیم دینی بہت ضروری ہے اور گھریلو اقتصادیات سکھانا ضروری ہے۔ کیونکہ بعید نہیں کہ وہ واقفین بچیاں واقفین کے ساتھ ہی بیاہی جائیں۔ جب مَیں کہتا ہوں کہ بعید نہیں تو مراد یہ ہےکہ آپکی دلی خواہش یہی ہونی چاہیے کہ واقفین بچیاں واقفین سے ہی بیاہی جائیں ورنہ غیر واقفین کے ساتھ ان کی زندگی مشکل گزرے گی اور مزاج میں بعض دفعہ ایسی دوری ہو سکتی ہے کہ ایک واقفِ زندگی بچی کا اپنے غیر واقف خاوند کے ساتھ مذہب میں اسکی کم دلچسپی کی وجہ سے گزارانہ ہو اور واقفین کے ساتھ شادی کے نتیجے میں بعض دوسرے مسائل اسکو درپیش ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ امیر گھرانے کی بچی ہے۔ اسکی پرورش نازو نعم میں ہے اور اعلیٰ معیار کی زندگی گزار رہی ہے تو جب تک شروع ہی سے اسے اس بات کے لئے ذہنی طور پر آمادہ نہ کیا جائے کہ وہ سادہ، سخت زندگی اور مشقت کی زندگی برداشت کر سکے اور یہ سلیقہ نہ سکھایا جائے کہ تھوڑے پر بھی انسان راضی ہو سکتا ہے اور تھوڑے پر بھی سلیقے کے ساتھ انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ پس ایسی لڑکیاں جن کو بچپن سے مطالبوں کی عادت ہوتی ہے وہ جب واقفین زندگی کے گھروں میں جاتی ہیں تو انکے لئے بھی جہنم پیداکرتی ہیں اور اپنے لئے بھی۔ مطالبے میں فی ذاتہ ٖکوئی نقص نہیں لیکن اگر مطالبہ توفیق سے بڑھ کر ہو تو پھر خواہ خاوند سے ہو یا ماں باپ سے یا دوستوں سے تو زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہمیں کیا خوبصورت سبق دیا جب فرمایا۔ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَــفْسًااِلَّا وُسْعَھَا کہ خدا کسی کی توفیق سے بڑھ کر اس سے مطالبہ نہیں کرتا۔ تو بندوں کا کیا حق ہے کہ توفیق سے بڑھ کر مطالبے کریں۔ پس واقفین زندگی کی بیویوں کیلئے یا واقفین زندگی لڑکیوں کے لئے ضروری ہے کہ یہ سلیقہ سیکھیں کہ کسی سے اسکی توفیق سے بڑھ کر نہ توقع رکھیں، نہ مطالبہ کریں اور قناعت کے ساتھ کم پر راضی رہنا سیکھ لیں۔ اس ضمن میں ایک اہم بات جو بتانی چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واقفین کی تحریک کے ساتھ ایک یہ بھی تحریک فرمائی کہ امیر گھروں کے بچوں کے باقی افراد کو یہ قربانی کرنی چاہیے کہ اسکے وقف کی وجہ سے اسکے لئے خصوصیت کے ساتھ کچھ مالی مراعات مہیا کریں اور یہ سمجھیں کہ جتنامالی لحاظ سے ہم اسکو بے نیاز بنائیں گے اتنا بہتر رنگ میں وہ قومی ذمہ داریوں کی امانت کا حق ادا کر سکے گا۔ اس نصیحت کا اطلاق صرف امیر گھرانوں پر نہیں بلکہ غریب گھرانوں پر بھی ہوتا ہے۔ ہر واقفِ زندگی گھر کو یعنی ہر گھر جس میں کوئی واقفِ زندگی ہے آج ہی سے یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ خدا ہمیں جس پر رکھے گا ہم اپنے واقفِ زندگی تعلق والے کو اس سے کم معیار پر نہیں رہنے دیں گے۔ یعنی جماعت سے مطالبے کی بجائے بھائی اور بہنیں یا ماں باپ اگر زندہ ہوں اور توفیق رکھتے ہوں یا دیگر قریبی مل کر یہ ایسا نظام بنائیں گے کہ واقفِ زندگی بچہ اپنے زندگی کے معیار میں اپنے گھر والوں کے ماحول اور انکے معیا رسے کم تر نہ رہے۔ چنانچہ ایسے بچے جب زندگی کی دوڑ میں حصّہ لیتے ہیں تو کسی قسم کے(Inferiority Complex)یعنی احساسِ کمتری کا شکار نہیں رہتے اور امانت کا حق زیادہ بہتر ادا کرسکتے ہیں ۔ جہاں تک بچیوں کی تعلیم کا تعلق ہے اس میں خصوصیت کے ساتھ تعلیم دینے کی تعلیم دلانا یعنی ایجوکیشن کی انسڑکشن جسےBachelor Degree in Education غالباً کہا جاتا ہے یا جو بھی اسکا نام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انکو استانیاں بننے کی ٹریننگ دلوانا، خواہ انکو استانی بنانا ہو یا نہ بنانا ہو انکے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ اسی طرح لیڈی ڈاکٹر ز کی جماعت کو خدمت کے میدان میں بہت ضرورت ہے۔ پھر کمپیوٹر سپیشلسٹ کی ضرورت ہے اور ٹائپسٹ کی ضرورت ہے اور یہ سارے کام عورتیں مرد وں کے ملے جلے بغیر ، سوائے ڈاکٹری کے، باقی سارے کام عمدگی سے سرانجام دے سکتی ہیں۔ پھر زبانوں کا ماہر بھی انکو بنایا جائے یعنی لٹریری (Literary) نقطۂ نگاہ سے، ادبی نقطۂ نگاہ سے انکو زبانوں کا چوٹی کا ماہر بنانا چاہیے تاکہ یہ جماعت کی تصنیفی خدمات کرسکیں۔ ا س طرح اگر ہم سب اپنی آئندہ واقفین نسلوں کی نگہداشت کریں اور انکی پرورش کریں انکو بہترین واقف بنانے میں مل کر جماعتی لحاظ سے اور انفرادی لحاظ سے سعی کریں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ صدی کے اوپر جماعتِ احمدیہ کی اس صدی کی نسلوں کا ایک ایسا احسان ہو گا کہ جسے وہ ہمیشہ جذبہ تشکّر اور دعاؤں کے ساتھ یاد کریں گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

آخر پر یہ بتانا ضروری ہے کہ سب سے زیادہ زور تربیت میں دعا پر ہونا چاہیے۔ ان بچوں کے لئے ہمیشہ دردمندانہ دعائیں کرنا اور ان بچوں کو دعا کرنا سکھانا اور دعا کرنے کی تربیت دینا تاکہ بچپن ہی سے یہ اپنے ربّ سے ایک ذاتی گہرا تعلق قائم کر لیں اور اس تعلق کے پھل کھانے شروع کر دیں۔ جو بچہ دعا کے ذریعے اپنے رب کے احسانات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے وہ بچپن ہی سے ایک ایسی روحانی شخصیت حاصل کرلیتا ہے جس کا مربی ہمیشہ خدا بنارہتا ہے اور دن بدن اسکے اندر وہ تقدّس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو خدا کے سچے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا اور دنیا کی کوئی تعلیم اورکوئی تربیت وہ اندرونی تقدس انسان کو نہیں بخش سکتی جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور اسکے پیار اسکی محبت کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔ پس ان بچوں کی تربیت میں دعاؤں سے بہت زیادہ کام لیں۔ خود انکے لئے دعا کریں اور انکو دعا کرنے والے بچے بنائیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ ان ذرائع کو اختیار کرکے ان شاءاللہ تعالیٰ جماعت کے سپرد کرنے سے پہلے پہلے ہی یہ بچے ہر قسم کے حسن سے آراستہ ہو چکے ہوں گے اور ایسے ماں باپ بڑی خوشی کے ساتھ اور کامل اطمینان کے ساتھ ایک ایسی قربانی خدا کے حضور پیش کر رہے ہوں گے جسے انہوں نے اپنی توفیق کے مطابق خوب سجا کر اور بنا کر خدا کے حضور پیش کیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ   17 فروری 1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 101  تا  110)

۔

وہ مخلصین، وہ سعادت مند احمدی جنہوں نے توفیق پائی کہ اگلی صدی کے لئے اپنے بچے ہدیتاً اسلام کو پیش کریں وہ بارہا مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم ان کی تربیت کس طرح کریں؟ ان کو سمجھانے کے لئے، ان کو طریقے سکھانے کے لئے، ان کی مزید راہنمائی کے لئے باقاعدہ شعبہ قائم کر دیا گیا ہے اور تحریکِ جدید کو مَیں نے سمجھا دیا ہے کہ کس قسم کا لٹریچر تیار ہو، کس قسم کی تربیتی نصائح ہونی چاہیئں ماں باپ کو۔ بچوں کو تو وہ کریں گے۔ ہم نے تو ماں باپ کو ابھی کرنی ہیں اور کیا راہنمائی ہونی چاہیئے۔ وہ اس کے مطابق ان شاءاللہ جلد کام شروع کر دیں گے۔ ان کو یہ بھی سمجھایا کہ ان بچوں کے لئے اس کے دوسرے قدم کے اوپر لٹریچر تیار کرنا ہے اور مختلف زبانوں میں تیار کرنا ہے تا کہ شروع سے ہی جس رنگ میں ہم تربیت کرنا چاہتے ہیں ان کے گھروں میں وہ تربیت شروع ہو جائے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  8 ستمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 600تا  606)

اس ضمن میں مَیں نے یہ نصیحت کی تھی کہ جن واقفینِ نو کی پیش کش کرنے والوں کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوئیں ان کو کیا سکھائیں؟بیٹیوں کے لئے وہ سہولت نہیں جو بیٹوں کے لئے ہو سکتی ہے کہ میدان میں جہاں مرضی انکو پھینک دو۔ ان کے اپنے کچھ حفاظت کے تقاضے ہیں ، کچھ ان کے اپنے نوعی تقاضے ہیں جن کے پیش نظر ہم ان سے اس طرح کام نہیں لے سکتے جس طرح ہر واقفِ زندگی مرد سے کام لے سکتے ہیں۔ اس لئے ان کو میں نے یہ کہا تھا کہ ایسی بچیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لائیں۔ علمی کام سکھائیں اور علم تو بڑھانا ہی ہے لیکن علم سکھانے کا نظام جو ہے جس کو بی ایڈ یا ایم ایڈ جو کہا جاتاہے، ایسی ڈگریاں جن میں تعلیم دینے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے ان میں ان کو داخل کریں، آئندہ بڑے ہو کر۔ لیکن ابھی ان کی تربیت اس رنگ میں شروع کریں ۔
پھر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ خواتین ڈاکٹروں کو خداتعالیٰ اگر توفیق دے تو وہ بہت بڑی خدمت کر سکتی ہیں اور بہت گہرا اثر چھوڑ سکتی ہیں اور اس رستے سے پھر وہ اسلام کا پیغام دینے میں بھی دوسروں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ اس لئے احمدی خواتین کو ڈاکٹر بن کر اپنی زندگیاں پیش کرنی چاہیئں یا ان بچوں کو ڈاکٹر بنایا جائے جو خداتعالیٰ کے فضل سے وقفِ نو میں پیدا ہوئی ہیں۔
اس طرح مَیں نے زبانوں کا کہا تھا اور جن زبانوں کی ہمیں ضرورت پڑنے والی ہے اس میں روسی اور چینی دو زبانیں خصوصیت کے ساتھ اہمیت رکھتی ہیں۔ جماعت احمدیہ میں جن زبانوں میں کمی ہے ان میں ایک سپینش ہے مثلاً ، اس کی طرف توجہ شروع کر دی گئی ہے خدا کے فضل سے۔ فرانسیسی میں ہمارے بہت سے فرنچ سپیکنگ افریقن ممالک ہیں جہاں کثرت سے اچھی فرانسیسی بولنے والے مہیا ہو سکتے ہیں اور ہو رہے ہیں خدا کے فضل سے۔ لیکن چینی زبان میں اور روسی زبان میں ہم بہت کمی محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اٹالین میں بھی کمی ہے مگر سب سے بڑی ضرورت اس وقت اور عظیم ضرورت چینی اور روسی زبان جاننے والے احمدیوں کی ہے اس لئے جہاں نوجوان جن کو یہ سہولت حاصل ہو تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ کر سکیں ان کو بھی میری یہی نصیحت ہے کہ وہ توجہ کریں لیکن یہ جو نئے پیدا ہونے والے بچے ہیں ایسے ملکوں میں جہاں چینی اور روسی زبان سکھانے کی سہولتیں موجود ہیں ان کو بچپن سے ان کوسکھانا چاہیئے اور ان کی ایمبیسی سے رابطہ کر کے اگر کچھ کیسٹس وغیرہ مہیا کی جا سکیں ، ویڈیو مہیا کی جا سکیں ، بچوں کے چھوٹے چھوٹے رسالے کہانیوں کی کتابیں وغیرہ یہ مہیا کی جائیں تو بہت بچپن سے اگر زبان سکھائی جائے تو وہ اتنے گہرے نقش دماغ پر قائم کر دیتی ہے کہ اس کے بعد بچے اہل زبان کی طرح بول سکتے ہیں ۔ اور بڑی عمر میں سیکھی ہوئی زبان خواہ آپ کتنی محنت کریں وہ اہل زبان جیسی زبان نہیں بنتی۔ طوعی اور فطری طور پر جو ذہن سوچتا ہے وہ بچپن سے اگر سیکھی ہوئی زبان ہے تو وہ سوچ اسکی بے ساختہ ہوتی ہے، قدرتی اورطوعی ہوتی ہے۔ لیکن اگر بعد میں زبان سیکھی جائے تو سوچ پہ کچھ نہ کچھ قدغن رہتی ہے کچھ نہ کچھ پابندیاں رہتی ہیں۔ اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانا پڑتا ہے۔ بعض لوگ نسبتاً تیز بھی بڑھاتے ہیں بعض آہستہ ۔ مگر جو طبعی فطرتی روانی ہے وہ پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس لئے زبان بنانے کے لئے بہت بچپن سے زبان سکھانی پڑتی ہے۔ اگر پنگھوڑوں میں زبان سکھائی جائے تو یہ بھی بہت اچھا ہے، بلکہ سب سے اچھا ہے۔ایسی اگر دائی مل جائے نرس مل جائے، اور جو توفیق ر کھ سکتے ہیں نرسوں کے رکھنے کی وہ رکھیں۔ جو چینی نرس ہو تو بچوں کو بچپن گود میں کھلاتے کھلاتے ہی چینی زبان سکھا سکتی ہے، روسی زبان جاننے والی اہل زبان کوئی عورت مل جائے تو بچے اس کے سپرد کئے جا سکتے ہیں۔ یہ تو باتیں حسب توفیق ہوں گی مگر جن کو توفیق ہے ان کو چاہیئے کہ وہ بہت بچپن سے اپنے بچوں کو چینی اور روسی زبان سکھانے کی کوشش کریں ۔ اس سلسلے میں کوئی پابندی نہیں لگاتا کہ ہمیں سَو کی ضرورت ہے یا ہزار کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اتنی بڑی قومیں ہیں اور ان کو اتنی عظمت حاصل ہے اس وقت دنیا میں کہ اگر یہ دونوں قومیں مثلاً دنیاوی لحاظ سے اکٹھی ہو جائیں تو ساری دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ جائے یعنی ان کے حق میں ہو جائے اور باقی دنیا کے خلاف ہو جائے اور بہت سی بڑی بڑی سیاسی تبدیلیاں پیدا ہو جائیں۔ ان کا اس وقت الگ الگ ہونا ہی بعض قوموں کے لئے خوش قسمتی ہے اور وہ زبردستی بھی دخل اندازی کر کے اس خوش قسمتی کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بعض دفعہ غلطیاں کرتے ہیں اور اُلٹے نتیجے نکلتے ہیں۔ مگر جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں ان کے لڑنے یا نہ لڑنے ، دشمنی یا دوستی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلام دونوں کے لئے برابر ہے اور ہم نے جو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اس کے لئے ہمیں زبان دانوں کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کے زبان دانوں کی ضرورت ہے جو تحریری کی مشق بھی رکھتے ہوں ، بولنے کی مشق بھی رکھتے ہوں ، ترجموں کی طاقت بھی رکھتے ہوں ، تصنیف کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ اس لئے جتنے بھی ہوں کم ہوں گے۔ یعنی ایک ارب کے لگ بھگ یا اس سے زائد اب چین کی آبادی ہے اور روس اور روسی زبان جاننے والوں کی آبادی بھی بہت وسیع ہے۔ مجھے اس وقت پوری طرح یاد تو نہیں لیکن پچاس کروڑ سے زائد ہوں گے جو روسی زبان جاننے والے لوگ ہیں یا بولنے والے۔ اس لئے اگر سارے واقفین بھی یہ زبان سیکھ لیں تو وہ کوئی زیادہ نہیں ہو گا۔ مردوں کو بھی سکھائیں اور بچوں کو بھی سکھائیں لیکن بیٹیوں کو خصوصیت سے ۔کیونکہ علمی کام میں ہمیں واقفین بیٹیاں بہت کام آسکتی ہیں۔ انہوں نے میدان میں بھی جانا ہوگالیکن وہ تصانیف کریں گی وہ گھر بیٹھے ہر قسم کی خدمت کے کام اس طرح کر سکتی ہیں کہ اپنے خاوندوں سے ان کو الگ نہ ہونا پڑے۔ اسلئے انکو ایسے کام سکھانے کی خصوصیت سے ضرورت ہے۔ بچوں کو تو ہم سنبھال لیں گے ہم انکو کسی جامعہ میں داخل کریں گے ، کسی خاص ملک میں ان کا تعین ہو گاتو اس زبان کا ان کو ماہر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن بچیوں پر ہمارا ایسا اختیار نہیں ہو سکتا نہ مناسب ہے نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ اسطرح بچپن میں انکو الگ کر کے پوری طرح جماعتی نظام کے تابع کیا جائے۔ اسلئے والدین کا دخل بچیوں پر لازماً جاری رہے گا یا بعد میں انکے خاوندوں کا۔ اس لئے وہ زبانیں سیکھ لیں تو گھر بیٹھے بڑی آرام سے خدمت کر سکتی ہیں۔اور جب زبانیں سیکھیں تو جس وقت ان کے اندر صلاحیت پیدا ہو ان کو پھر ان زبانوں میں ٹائپ کرنا بھی سکھایا جائے اور ان زبانوں کا لٹریچر ان کو پڑھایا جائے۔ یہ نہ سمجھیں کہ زبان بولنا چالنا کافی ہوتا ہے یا لکھنے پڑھنے کا سلیقہ آجائے تو یہ کافی ہے۔ لٹریچر جتنا زیادہ پڑھا جائے اتنا ہی زیادہ زبان میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اسلئے پھر کثرت کیساتھ انکو رشین کلاسیکل ناول پڑھانے پڑیں گے۔ رشین کلاسیکل مضامین، کلاسیکل شعراء، ماڈرن شعراء، اور یہی حال چینی زبان میں بھی ہو گا تاکہ بچپن سے ہی انکا علمی ذخیرہ اتنا وسیع ہو جائے کہ بڑی سہولت کیساتھ، فطری رو کیساتھ از خود علمی کاموں میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ واقفین زندگی اس پیغام کو اچھی طرح ذہن نشین کریں گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  8 ستمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 600تا  606)

اور آخری بات یہی ہے پھر بھی کہ اس کے ساتھ ان کی عظمت و کردار کے لئے ابھی سے کوشش شروع کر دیں ۔ بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں دراصل ۔ اگر تاخیر ہو جائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے ۔ محاورہ ہے کہ لوہا گرم ہو تو اس کو موڑ لینا چاہیئے۔ لیکن یہ جو بچپن کا لوہا ہے یہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصے تک نرم ہی رکھتا ہے اور اس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کر دیتے ہیں وہ دائمی ہو جایا کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ وقت ہے تربیت کا ۔ اور تربیت کے مضمون میں یہ بات یاد رکھیں کہ ماں باپ جتنی زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کو لیں گے اور مضبوط پہلو کو چھوڑ دیں گے۔ یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجے میں قومیں ہلاک ہو سکتی ہیں اور یاد رکھنے کے نتیجے میں ترقی بھی کر سکتی ہیں۔ ایک نسل اگلی نسل پر جو اثر چھوڑا کرتی ہے اس میں عموماً یہ اصول کارفرما ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔ اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں گی اور بیچ میں سے کمزوری ہو تو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا۔ اس لئے یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپ کو اپنی تربیت ضرور کرنی ہو گی۔ ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو! تم سچ بولا کرو تم نے مبلغ بننا ہے، تم بد دیانتی نہ کیا کرو تم نے مبلغ بننا ہے، تم غیبت نہ کیا کرو، تم لڑا جھگڑا نہ کرو۔ اور یہ باتیں کرنے کے بعد پھر ماں باپ ایسا لڑیں جھگڑیں ، پھر ایسی مغلظات بکیں ایک دوسرے کے خلاف، ایسی بے عزتیاں کریں کہ وہ کہیں کہ بچے کو تو ہم نے نصیحت کر دی اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا جو ان کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی ہے۔ جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ یہ کرو! بچے کو کوڑی کی بھی اس کی پرواہ نہیں۔ ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لا کھ بچوں کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے ، تم خدا کے لئے سچ بولا کرو، سچائی میں زندگی ہے۔ بچہ کہتاہے کہ ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ بولتا ہے۔ اس لئے دو نسلوں کے جوڑ کے وقت یہ اصول کارفرما ہوتا ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں۔ جن یورپین ممالک میں میں نے سفر کئے ہیں ہر ایک یہ شکایت کرتا ہے کہ ہماری نسل اور اگلی نسل کے درمیان ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ یہ خلا تم نے پیدا کیا ہے۔ تم نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ اخلاق سکھانے کی کوشش کی، تم نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ کردار سمجھانے کی کوشش کی۔ تم نے کہا کہ اس طرح خلط ملط نوجوانوں سے ٹھیک نہیں ، اس طرح تمہیں یہ حرکتیں کرنا مناسب نہیں ہیں ۔ لیکن تمہاری زندگیوں میں اندرونی طور پر انہوں نے یہی باتیں دیکھیں جن کے اوپر کچھ ملمع تھا ، کچھ دکھاوے کی چادریں پہنچائی گئیں تھیں ۔ اور درحقیقت یہ بچے جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ تم خود ان چیزوںمیں زیادہ دلچسپی لیتے ہو۔ اس لئے وہ وہ بنے ہیں جو تمہاری اندرونی تصویر تھی ۔ اور تم جو خلا محسوس کر رہے ہو اپنی بیرونی تصویر سے محسوس کر رہے ہو۔ وہ تصویر جو تم دیکھنا چاہتے تھے ان میں جو تمہارے تصور کی دنیا تھی تمہارے عمل کی دنیا بن گئی۔ لیکن تمہارے تصور کی دنیا کی کوئی تعبیر نہیں پیدا ہوئی اس لئے تم بظاہر اس کو خلا سمجھ رہے ہوحالانکہ یہ تسلسل ہے۔ برائیوں کا تسلسل ہے جسکی چوٹیاں بلند تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ یا اگر گہرائی کی اصطلاحوں میں باتیں کریں تو قعر مذلت کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہیں ۔ تو جماعت احمدیہ کو اگلی نسلوں کے کردار کی تعمیر میں اس اصول کو ہمیشہ یاد رکھنا ہو گا ورنہ وہ ہمیشہ دھوکا میں مبتلا رہیں گے اور اگلی نسلوں سے ان کا اختیار جاتا رہے گاوہ ان کی باتیں نہیں مانیں گے۔ خصوصاً واقفینِ نو بچوں پر بہت گہری ذمہ داریاں ہیں ۔ یہ پانچ ہزار یا زائد بچے جتنے بھی اس دَور میں پیش ہوئے ہیں انہوں نے اگلی دنیا سنبھالی ہے، اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے، نئے قوموں کے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے اور اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑے بڑے مقابلے کرنے ہیں بڑے بڑے معرکے سَر کرنے ہیں۔ آپ اگر اس مضمون کو بھول کر عام غفلت کی حالت میں اپنی سابقہ زندگی بسر کرتے چلے جائیں گے تو آئندہ پیدا ہونے والے واقفین پر آپ کے بد اثرات مرتب ہو جائیں گے۔ اور پھر جماعت جتنا بھی کوشش کرے گی ان کی ایسی اصلاح نہیں کر سکتی۔ میں نے دیکھا ہے جامعہ میں جو بدعادتوں والے بچے آتے ہیں لا کھ زور ماریں ان کی بد عادتیں کچھ نہ کچھ مدھم پڑ جاتی ہیں مٹتی نہیں ۔ بد عادت کو مٹانا بہت مشکل کام ہے ہاں اندرونی طور پر بعض لوگوں میں ایک دم تقویٰ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے، خدا کا خوف پیدا ہو جاتا ہے تو پھر اس اندرونی طاقت کے ذریعے خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی ساری بدیوں کو اتار پھینکتے ہیں لیکن اس کو انقلاب کہا جاتا ہے ۔ میں اس وقت ایسے انقلاب کی بات نہیں کر رہا۔ میں تربیت کے اصولوں کی بات کر رہا ہوں۔ جہاں تک تربیت کا تعلق ہے آپ نے اگر یہ واقفین اچھی حالت میں، سلجھی ہوئی طبیعتوں کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کئے تو ان شاءاللہ تعالیٰ اس جوہرِ قابل سے بہت عظیم انقلابات برپا ہوں گے اور جماعت ان سے بڑے بڑے عظیم فوائد حاصل کر سکے گی۔ لیکن اگر معمولی کجیوں والے بھی آئے تو بعض دفعہ وہ کجیاں پھر بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ بعض دیواروں میں رخنے پڑتے ہیں وہ سطحی ہوتے ہیں اور انجینئر دیکھتے ہیں کہ کوئی خطرے کی بات نہیں۔ مگر بعض گہرے ہوتے ہیں اور وہ وقت کے ساتھ پھٹنے شروع ہوجاتے ہیں اور پھر چھتیں بھی ان کی وجہ سے گر جاتی ہیں ۔ تو بنیادی اخلاقی کمزوریاں ان گہرے رخنوں کے مشابہ ہوا کرتی ہیں ان کو اگر ایک دفعہ آپ نے پیدا ہونے دیا تو آئندہ نسلوں کی چھتیں گرا دیں گے۔ اس لئے خدا کا خوف کرتے ہوئے، استغفار کرتے ہوئے اس مضمون کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کریں تا کہ آپ کی یہ پاکیزہ تبدیلی اگلی نسلوں کی اصلاح اور انکی روحانی ترقی کے لئے کھاد کا کام دے اور بنیادوں کا کام دے جس پر عظیم عمارتیں تعمیر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  8 ستمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 600تا  606)

جو واقفینِ نو کی فوج ہے اس پر آئندہ بیس سال تک بہت بڑی بڑی ذمے داریاں پڑنے والی ہے۔ اور اس پہلو سے میں جماعت کے اس حصے کو نصیحت کرتا ہوں جس کو خدا تعالیٰ نے وقفِ نو میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ تحریکِ جدید کی ہدایات کے مطابق اپنے بچوں کی تیاری میں پہلے سے زیادہ بڑھ کر سنجیدہ ہو جائیں اور بہت کوشش کر کے ان واقفین کو خدا تعالیٰ کی راہ میں عظیم الشان کام کرنے کے لئے تیار کرنا شروع کریں۔ بچے تیار کرنا خدا کی خاطر، اس سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے جتنا عید پر قربانی کے لئے لوگ جانور تیار کرتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے مُلک میں تو یہ رواج ہے کہ بعض لوگ دوسری نیکیاں کچھ کریں یا نہ کریں ، نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن عید کی قربانی کے لئے مینڈھا بڑے پیار سے پالتے ہیں اور بہت بہت اس پر خرچ کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے مزدور بھی ہیں جو اپنے بچوں کا پیٹ پوری طرح پال نہیں سکتے لیکن اپنے مینڈھے کو چنے ضرور کھلائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کرنا ہے اور پھر اسے سجاتے ہیں اور اس پر کئی قسم کے زیور ڈالتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں، اس کو مختلف رنگ میں رنگ دیتے ہیں اور جب قربانی کے لئے لے کر جاتے ہیں تو بہت ہی سجا کر جس طرح دلہن جا رہی ہو اس طرح وہ سجا کر لے جاتے ہیں۔
یہ بچے قربانی کے مینڈھے سے بہت زیادہ عظمت رکھتے ہیں اور ان کے ماں باپ کو اس سے بہت زیادہ محبت سے ان کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہئے جتنی محبت سے خدا کی راہ میں بکرا ذبح کرنے والا اس کی تیاری کرتا ہے یا مینڈھے کی تیاری کرتا ہے ۔ ان کا زیور کیا ہے وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ ہی سے یہ سجائے جائیں گے اس لئے سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ان واقفینِ نو کو بچپن ہی سے متقی بنائیں اور ان کے ماحول کو پاک اور صاف رکھیں۔ ان کے سامنے ایسی حرکتیں نہ کریں جن کے نتیجے میں ان کے دل دین سے ہٹ کر دنیا کی طرف مائل ہونے لگ جائیں ۔ پوری توجہ ان پر اس طرح دیں جس طرح ایک بہت عزیز چیز کو ایک بہت عظیم مقصد کے لئے تیار کیا جا رہا ہو۔ اور اس طرح ان کے دل میں تقویٰ بھر دیں کہ پھر یہ آپ کے ہاتھ میں کھیلنے کی بجائے براہ راست خدا کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں اور جس طرح ایک چیز دوسرے کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ یہ بچے شروع ہی سے خدا کے سپرد کر سکتے ہیں اور درمیان کے سارے واسطے اور سارے مراحل ہٹ جائیں گے۔ رسمی طور پر تحریکِ جدید سے بھی واسطہ رہے گا اور نظامِ جماعت سے بھی واسطہ رہے گامگر فی الحقیقت بچپن ہی سے جو بچے آپ خدا کی گود میں لا ڈالیں خدا خود ان کو سنبھالتا ہے اور خود ہی ان کا انتظام فرماتا ہے خود ہی ان کی نگہداشت کرتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی خدا نے نگہداشت فرمائی آپ لکھتے ہیں۔

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹےگود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار

آپ ؑنے یقیناً بڑی وسیع نظر سے اور گہری نظر سے اپنے ماضی کا مطالعہ کیا ہوگا تب جا کر اس شعر کا مضمون آپؑ کے دل سے ہوَیدا ہوا ہے ظاہر ہوا ہے۔ آپؑ نے غور کیا ہو گا بچپن میں دودھ پیتے کے زمانے تک بھی جہاں تک یادداشت جاتی ہو کہ ابتداءہی سے خدا کا پیار دل میں تھا، خد اکا تعلق دل میں تھا، ہر بات میں خدا حفاظت فرما رہا تھا، ہر قدم پر اللہ تعالیٰ راہنمائی فرما رہا تھااور جس طرح طفل شیر خوار ماں کی گود میں ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة السلام عرض کرتے ہیں کہ اے خدا میں تو ہمیشہ تیری گود میں رہاپس ان بچوں کو خدا کی گود میں دے دیں ۔ کیونکہ ذمے داریاں بہت بڑی ہیں اور کام بہت زیادہ ہیں۔ ہماری تعداد کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی ان قوموں کے مقابل پر جن کو ہم نے اسلام کے لئے فتح کرنا ہے۔ ہماری عقلیں ہمارے علوم ہماری دنیاوی طاقتیں ان قوموں کی عقلیں اور علوم اور دنیاوی طاقتوں کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں جن کو ہم نے خدا کے لئے فتح کرنا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  یکم دسمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 776 تا  782)

پس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک ہی راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو اور اپنی واقفین کے وجود کو خدا کے سپرد کر دیں اور خد اکے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی چیز خواہ کیسی بھی کمزور کیوں نہ ہو اگر وہ طاقتور کے ہاتھ میں ہو توحیرت انگیز کام دکھاتی ہے ۔ کوئی چیز کیسی ہی بے عقل کیوں نہ ہو اگر صاحبِ فہم و عقل کے ہاتھ میں ہو تو اس سے عظیم الشان کام لئے جا سکتے ہیں ۔ ہم تو محض مہرے ہیں اور اس حیثیت کو ہمیشہ سمجھنا اور ہمیشہ پیش نظر رکھنا احمدی کے لئے ضروری ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں شطرنج کھیلنے والے ان مہروں سے کھیلتے ہیں جن میں اتنی بھی طاقت نہیں ہوتی کہ ایک گھر سے اٹھ کر دوسرے گھر تک جا سکیں۔ عقل کا کیا سوال شعور کا ادنی ٰاحساس بھی موجود نہیں ہوتا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ کس گھر میں جانا ہماری بقاءکے لئے ضروری ہے اور کس گھر میں جانا شکست کا اعلان ہو گا۔ بے جان بے طاقت مہرے جو ہِل بھی نہیں سکتے ، سوچ بھی نہیں سکتے اور ایک صاحبِ فہم اچھا شاطر شطرنج کا ماہر اُن کو اِس طرح چلاتا ہے کہ بڑے سے بڑے عقل والوں کو بھی شکست دے دیتا ہے اور شکست اور فتح کا فیصلہ ان بے جان مہروں کی بساط پر ہو رہا ہوتا ہے جو نہ طاقت رکھتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں۔ پس خدا کے عظیم کام بھی اسی طرح چلتے ہیں۔ ہم ان بے جان مہروں کی طرح ہیں۔ ہمارے سامنے بھی کچھ مہرے ہیں لیکن ان مہروں کی طاقت شیطان کے ہاتھ میں ہے، بے خداؤں کے ہاتھ میں ہے اور کچھ مہرے ایسے بھی ہیں جو خود خدا سمجھ رہے ہیں اپنے آپ کو، اور خود چلتے ہیں اور خود سوچنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابل پر ہم وہ بے جان مہرے ہیں جن میں نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی دماغ ہے مگر ہم اپنے خدا کے ہاتھ میں ہیں یہ احساس انکساری جو سچا ہے جس میں کوئی ایسی بات نہیں جو انکساری کی خاطر گرا کر پیش کی گئی ہو۔ امرِ واقعہ ہے کہ دنیا کے مقابل پر ہماری حیثیت اس سے زیادہ نہیں ہے۔ ہاں خدا اگر چاہے اور وہ ہم سے کام لینا شروع کرے اور ہم اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیں تو یہ شطرنج کی بازی یقیناً اسلام کے حق میں جیتی جائے گی کوئی دنیا کی طاقت اس بازی کو الٹا نہیں سکتی۔ اسلام کے خلاف اس پہلو سے ان بچوں کی تیاری کی ضرورت ہے۔ ان کو خدا کے سپرد کریں اور جہاں تک تحریکِ جدید کا ان پر نظر رکھنے کا تعلق ہے جیسا کہ مَیں نے پہلے بیان کیا تھا ان کو مَیں نے ہدایت دی ہے وہ تیاری بھی کر رہے ہیں۔ مجھے صرف ڈر یہ ہے کہ اس تیاری میں دیر نہ کر دیں یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی تو چھوٹے بچے ہیں ابھی انہوں نے بڑے ہونا ہے۔ حالانکہ بچپن ہی سے بچوں کو سنبھالیں گے تو سنبھالے جائیں گے جب غلط روش پر بڑے ہو گئے تو اس غلط روش کو بعد میں درست کرنا بہت ہی محنت کا اور جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ یہ نرم نرم کونپلیں ہیں اس وقت ان کو جس ڈھب پر چاہیں یہ چل سکتے ہیں۔ اِس وقت اِن کی طرف توجہ کریں اور اِس وقت اِن کو سنبھالیں اور ساری دنیا میں ہر واقفِ نو کی زندگی پر جماعت کے نظام کی نظر رہنی چاہیئے اور اِن کے والدین سے رابطے ہونے چاہیئں اور ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ایک زندہ نظام کے ساتھ ہیں جس کے ذریعے خدا کی تقدیر کارفرماہے۔ یہ احساس بہت ضروری ہے یہ احساس تبھی پیدا ہو گا جب تحریکِ جدید کا مرکزی نظام ان لوگوں سے فعال اور زندہ رابطے رکھے گا اور خبریں لے گا کہ بتاؤ! اس بچے کا کیا حال ہے جو تم نے خدا کے سپرد کیا ہے۔ کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ تمہارے گھر میں خدا کا ایک مہمان ہے ویسے تو ہم خدا کے ہیں لیکن ایسا مہمان ہے جس کو تم خدا کے لئے تیار کر رہے ہو ۔ کیا سوچ رہے ہو ۔ کس طرح ان کی پرورش کر رہے ہو ۔ ہمیں بتایا کرو ہمیں اس کے حالات سے باخبر رکھو اس کی صحت سے باخبر رکھو اس کے چال ڈھال، اس کے انداز سے باخبر رکھو اور باقاعدہ ان کو ہدایتیں دیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ تم اس بچے سے یہ کام لو اور اس بچے سے یہ کام لو۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  یکم دسمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 776 تا  782)

اس ضمن میں مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ بچے خصوصیت سے جو مغربی دنیا میں وقف ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دوسری دنیا کے بچوں کے مقابل پر یہ بہت زیادہ سہولت حاصل ہے کہ وہ مختلف زبانیں سیکھ سکیں۔ زبانیں سیکھنا بہت مشکل کام ہے اور بچپن ہی سے شروع ہونا چاہیئے۔ اور زبانیں سکھانا بھی بہت مشکل کام اور بڑے بڑے ماہرین کی ضرورت ہے جنہوں نے زندگیاں اس کام کے لئے وقف کر رکھی ہوں اور بڑی بڑی وسیع تحقیقات میں وہی نہیں بلکہ ان کے بہت سے ساتھی بھی ایک لمبا عرصہ تک مصروف رہے ہوں۔ ایسی سہولتیں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں میسر ہیں۔ اس پہلو سے تحریکِ جدید کو چاہیئے کہ مشرقی یورپ اور اشتراکی دنیا کے ان ممالک کے لئے جہاں عموماً مغربی زبانیں بولی جاتی ہیں اور پھر چین کے لئے اور دوسرے کوریا ، شمالی کوریا اور ویت نام وغیرہ کے لئے جہاں مشرقی زبانیں بولی جاتی ہیں معین طور پر بچوں کو ابھی سے نشان لگا دیں جس کو انگریزی میں ear markکرنا کہتے ہیں اور اگر فی الحال ان کی نظر میں دس کی ضرورت ہے تو بیس یا تیس تیار کریں۔ اب یہ تو اعداد و شمار دیکھ کر فیصلہ ہو گا کہ کس مُلک کے لئے کتنے بچے تیار کئے جا سکتے ہیں لیکن ابھی سے یہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً اگر پولینڈ کے لئے ہم نے کچھ بچے تیار کرنے ہیں تو ایسے ممالک سے جہاں پولش زبان سیکھنے کی سہولت ہے واقفین بچے لینے چاہیئں۔ جرمنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کافی تعداد میں موجود ہے۔ اور جرمنی کی جماعت چونکہ اللہ کے فضل سے قربانی میں بھی بہت پیش پیش ہے وہاں ایک بڑے تعداد ایسے جوڑوں کی ہے جنہوں نے اپنے بچے وقف کئے ہیں اور ابھی بھی کر رہے ہیں تو وہاں سے بچوں سے جو کسی خاص زبان سیکھنے کی سہولت رکھتے ہوں وہی کام لینے چاہیئں جو ان کے مناسب حال ہیں۔ اس پہلو سے اور بھی بہت سی ایسی زبانیں ہیں جن کا جرمنی سے تعلق ہے اور جرمن قوم ان سے پرانے تاریخی روابط رکھتی ہے۔ پھر انگلستان میں بھی بہت سے زبانوں کے سیکھنے کا انتظام ہے یہاں بھی کچھ بچے خاص زبانوں کے لئے تیار کئے جا سکتے ہیں۔شمالی یورپ میں سکینڈے نیویا میں بھی بعض خاص زبانوں کے سیکھنے کا انتظام باقی جگہوں سے زیادہ ہے وہاں خصوصیت سے بعض گھروں بعض خاص ملکوں کے لئے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ غرضیکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کو عمومی نظر سے دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ تفصیلی نظر سے سب بچوں پر نظر ڈالتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں پر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نے فلاں ملک کے لئے دس یا بیس یا تیس واقفین زندگی تیار کرنے ہیں ۔ ان میں سے اتنی لڑکیاں ہونگی جو علمی کاموں میں گھربیٹھے خدمت دین کر سکتی ہوں انکو اس خاص طرز سے تیار کرنا ہوگا اتنے لڑکے ہونگے جن کو ہم نے ان میدانوں میں جھونکنا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ پھر انکو صرف وہی زبان نہیں چاہیئے جس زبان کے لئے ان کو تیار کیا جارہا ہے بلکہ اردو زبان کی بھی شدید ضرورت ہو گی تا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا لٹریچر خود اردو میں پڑھ سکیں۔ عربی زبان کی بنیادی حیثیت ہے کیونکہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ عربی میں ہیں عربی زبان بھی سکھانے کی ضرورت پڑے گی۔ پس تین زبانیں تو کم از کم ہیں۔ یعنی اسکے علاوہ کوئی زبان سیکھے تو چاہے سیکھے لیکن تین زبانوں سے کم کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ اسلئے یہ بھی بتانا ہو گا کہ جہاں تم پولش سیکھ رہے ہو، یا ہنگرین سیکھ رہے ہو، چیکو سلواکین سیکھ رہے ہو یا رومانین سیکھ رہے ہو یا البانین سیکھ رہے ہو ساتھ ساتھ لازماً تمہیں اردو اور عربی بھی سیکھنی ہو گی اور اسکے بھی جہاں تک میرا علم ہے ان ممالک میں انتظامات موجود ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو تحریکِ جدید کو تو مَیں آغاز ہی سے یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ اردو اور عربی سکھانے کے لئے ویڈیو کیسٹس تیار کریں اور آسان طریق پر ایسی ویڈیو تیار کرے جن کا جماعت کے لٹریچر سے تعلق ہو اور اسلامی اصطلاحیں اس میں استعمال ہوتی ہوں۔ کیونکہ اگر ہم بازار سے بنی بنائی زبانیں سیکھنے کی ویڈیوز لیں یا آوڈیو کیسٹس لیں تو جو زبان اس میں سکھائی جاتی ہے وہ اکثر ہمارے کام کی نہیں ہے۔ اس میں تو وہ یہ بتائیں گے کہ porkکس طرح مانگا جائے گا اور شراب کس طرح مانگی جائے گی اور ہوٹل میں کس طرح جا کر ٹھہرنا ہے۔ اور ناچ گانے کے گھروں کی تلاش کس طرح کرنی ہے۔ روز مرّہ کی اپنی زندگی کے مطابق انہوں نے زبان بنائی ہوئی ہے۔ اس زبان سے ہمارے بچوں کو تبلیغ کرنی کیسے آسکتی ہے۔ اسلئے زبان کا ڈھانچہ تو سیکھ سکتے ہیں لیکن اس زبان کو معنی خیز الفاظ سے بھرنے کا کام لازماً جماعت کو خود کرنا ہو گا اور وہ ایک خاص منصوبے کے مطابق ہو گا۔ تو دیر ہو رہی ہے اب یہ بچے کھیلنے لگ گئے ہیں انکی بعض دفعہ تصویریں آتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جو چار سال پہلے بچہ پیدا ہوا تھا جو وقفِ زندگی تھا اور وہ باتیں کرتا دوڑتا پھرتا اور انکے ماں باپ بڑی محبت کے ساتھ انکی تصویریں بھجواتے اور بعض دفعہ وہ اپنے ہاتھ سے چھوٹے موٹے خط بھی لکھتے ہیں ۔ مجھے بعض ایسے بھی خط لکھتے ہیں کہ شروع سے آخر تک صرف لکیریں ڈالی ہوتی ہیں اور بچہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مَیں نے خط لکھا ہے مگر اس خط کا بڑا مزا آتا ہے کیونکہ ایک واقفِ زندگی کو شروع سے ہی خلیفۂ وقت سے محبت پیدا کرنے کا یہ بھی ایک گر ہے۔ اس کے دل میں محبت ڈالنے کا ذاتی تعلق پیدا ہو جائے۔ بہرحال یہ کام تو ہو رہے ہیں لیکن جلدی اس بات کی ہے کہ انکو سنبھالنے کے لئے جو ٹھوس تیاری ہونی چاہیئے اس میں مجھے ڈر ہے کہ ہم پیچھے رہ رہے ہیں۔ اسلئے اس کام کی طرف توجہ ہونی چاہیئے اور جب تک تحریکِ جدید معین طور پر واقفین زندگی کو مطلع نہیں کرتی کہ تم نے یہ کام کرنے ہیں ۔ دو کام تو ان کو پتا ہی ہیں۔ دو نہیں تین۔ اوّل تقویٰ کی بات مَیں نے کی ہے بچپن سے انکے دل میں تقویٰ پیدا کریں اور خدا کی محبت پیدا کریں اور دو زبانیں جو سیکھنی ہیں عربی اور اردو، وہ تو سب پر قدر مشترک ہیں اس میں کوئی تفریق نہیں کوئی امتیاز نہیں ۔ ہر احمدی واقفِ نو عربی بھی سیکھے گا اور اردو بھی سیکھے گا اس پہلو سے جہاں جہاں انتظامات ہو سکتے ہیں وہاں وہاں وہ انتظامات کریں اور تیاری شروع کر دیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ۔ بتاریخ  یکم دسمبر1989ء۔ خطبات طاہر۔ سن اشاعت 2007ء۔ناشر طاہر فاؤنڈیشن قادیان انڈیا۔  جلد 8 ۔صفحہ 776 تا  782)